• صارفین کی تعداد :
  • 7286
  • 12/15/2013
  • تاريخ :

استاد محمد جعفر طبسي ، ابنا نيوز ايجنسي کے ساتھ

استاد محمد جعفر طبسی ، ابنا نیوز ایجنسی کے ساتھ

استاد محمد جعفر طبسي کے ساتھ ابنا کي خصوصي گفتگو

 استاد محمد جعفر طبسي کے ساتھ گفتگو

استاد محمد جعفر طبسي کے ساتھ ابنا کي گفتگو

استاد محمد جعفر طبسي کے ساتھ تاريخي حقائق پر روشني

استاد محمد جعفر طبسي کا ايک انٹرويو

استاد محمد جعفر طبسي  سے بات چيت

 

ابنا: کيا ان قبور کو ويران کر کے وہابي اپنے مقاصد تک پہنچ گئے؟

وہابيوں کا ائمہ کي قبور کو ويران کرنے کا ايک ہي مقصد تھا اور وہ يہ ہے کہ ’’ نور خدا کو خاموش کريں‘‘- چونکہ ائمہ اطہار(ع) بغير کس شک و ترديد کے بعدِ رسول(ص)، دين خدا کے محافظ و مروج تھے- يہ ائمہ (ع) ہي تو تھے جنہوں نے اس قدر مشکلات برداشت کي، ليکن تبليغ دين سے ہاتھ نہ کھينچا- اگر کوئي قتل ہوتا تھا تو ائمہ کي طرف سے، اگر جيل ميں جاتا تھا تو ائمہ سے الفت کي بنا پر، کسي کا مال لٹتا تھا تو ائمہ سے لگاو کي وجہ سے- بني اميہ اور بني عباس نے ائمہ اطہار(ع) کے ساتھ کيا نہيں کيا! انہوں نے نور خدا کو خاموش کرنے کے ليے کيا کمي چھوڑي؟ جب وہ اپنے مقاصد کو نہ پہنچ سکے تو يہ کہاں سے پہنچ جائيں گے؟-

وہابي ہر گز اپنے مقاصد کو نہيں پہنچ پائيں گے- آپ ديکھيں اس وقت دن ميں صرف چار گھنٹے جنت البقيع کا گيٹ کھلتا ہے دو گھنٹے صبح اور دو گھنٹے شام کو، ميرا وہابيوں سے يہ سوال ہے کہ تم جو بقيع کو محاصرے کئے بيٹھے ہو مجھے جواب دو ؛ جب بقيع کا گيٹ کھلتا ہے تو لوگوں کا سيلاب کہاں جاتا ہے؟ لوگ کہاں جا کر جمع ہوتے ہيں؟ کن قبروں کے پاس کھڑے ہوتے ہيں؟ کيا بقيع ميں صرف ائمہ اطہار (ع) کي قبريں ہيں؟

مگر بقيع ميں تقريبا دوہزار کے قريب صحابي رسول (ص) دفن نہيں ہيں؟

مگر بقيع ميں جناب عثمان بن عفان مدفون نہيں ہيں؟

کيوں لوگ ان کي قبر پر نہيں جاتے؟ کيوں جب دروازہ کھلتا ہے تو مسلمان صرف اس نقطے پر جمع ہوتے ہيں جہاں ائمہ اطھار(ع) کي قبريں ہيں؟

يہ تم وہابيوں کے ليے درس ہے کہ تم ائمہ اطھار(ع) کے روضوں کو گرا تو سکتے ہو ليکن مسلمانوں کے دلوں سے ان کے عشق کو ختم نہيں کر سکتے-

ابنا: جب ہم سني حاجيوں سے بھي مدينہ ميں گفتگو کرتے ہيں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھي وہابيوں کے اس عمل پر سخت ناراض ہيں-

آپ نے اچھے نکتے کي طرف اشارہ کيا ہے- ہميں اہلسنت کو وہابيوں سے الگ کرنا چاہيے- خود وہابي بھي اس بات کو بخوبي جانتے ہيں اور اہلسنت و الجماعت کا عزيز طبقہ بھي اس نکتے کي طرف متوجہ ہے- ہميں اہلسنت سے کوئي مطلب نہيں ہے ان کے ساتھ ہميں مشکل نہيں ہے- ہمارا خدا ايک، ہمارا رسول ايک، قبلہ ايک، قرآن ايک، اہلبيت ايک، شيعہ اور سني آپس ميں دو بھائيوں کي طرح ہيں، ان کے درميان کوئي بنيادي اختلاف نہيں ہے- آج سب سے بڑي مشکل جو پورے عالم اسلام کو درپيش ہے چاہے وہ شيعہ ہوں يا سني، وہ وہابيت اور سلفيت کي مشکل ہے، يہ عالم اسلام کے ليے سب سے بڑي مصيبت ہيں-

ابنا: آخر ميں اگر کوئي بات باقي رہ گئي ہو تو بيان کيجيے-

اميد ہے کہ انشاء اللہ ہم زندہ رہيں اور مدينہ ميں جنت البقيع ميں شرفياب ہوں اور جيسا آج کربلا، نجف اور مشھد ميں ديکھ رہے ہيں اس سے زيادہ بہتر بقيع ميں مشاہدہ کريں-

اسي طرح آرزو رکھتا ہوں کہ وہابي جلد از جلد اہلبيت(ع) اور عاشقان اہلبيت(ع) کي نسبت کئے گئے ظلم کا مزہ چکھيں اور جلد از جلد نابود ہو جائيں-

ترجمہ: افتخار علي جعفري

بشکريہ ابنا ڈاٹ آئي آر

 


متعلقہ تحریریں:

"عصر عاشورا"

امام خميني (رح) ايک تاريخ ساز شخصّيت