متعلقه تحریریں
  •  امام مہدی(عج) اور مدینۂ فاضلہ کی خصوصیات
    امام مہدی(عج) اور مدینۂ فاضلہ کی...
    امام صادق (ع) نے فرمایا: جب ہمارے قائم قیام کریں گے کوئی سرزمین باقی نہ رہے گی جس میں اللہ کی وحدانیت اور محمد (ص) کی رسالت کی شہادت کی صدا کی گونج نہ سنائی دے رہی ہو۔
  • منتظرین کے فرائض 1
    منتظرین کے فرائض 1
    بعض روایات میں منتظرین کے فرائض بیان ہوئے ہیں (1) جن کو ملحوظ رکھ کر ہم حقیقی منتظرین بن سکتے ہیں اور امام زمانہ (عج) ہمیں لائق توجہ قرار دیں گے۔
  • غیبت کے زمانے میں دین کا تحفظ 1
    غیبت کے زمانے میں دین کا تحفظ 1
    اگر امام کا فریضہ شریعت کا تحریف و نقصان سے تحفظ ہے، تو اس وقت امام (عج) کیونکر نقصان و تحریف سے دین کا تحفظ کرتے ہیں؟ کیا فقہاء خطاء نہیں کرتے ہیں؟
  • صارفین کی تعداد :
  • 6802
  • 6/13/2014
  • تاريخ :

غيبت صغري کا آغاز

منتظرین کے فرائض 1

امام مہدي عليہ السلام کي عمرابھي صرف پانچ سال تھي کہ خليفہ معتمد عباسي نے امام حسن عسکري عليہ السلام کو زہر دے کر شہيد کرديا ، جب آپ کي شہادت کي خبر مشہور ہوئي تو سارے شہر ميں کہرام مچ گئي- فرياد و فغاں کي آوازيں بلند ہوگئيں- لوگوں نے کار و بار چھوڑ ديا، بني ہاشم اور عوام امام کے جنازے کے لئے دوڑ پڑے- سامرہ قيامت کا منظر پيش کر رہا تھا- امام کي تدفين کے بعد خليفہ معتمد عباسي کو خبر ملي کہ امام کے جانشين ولادت ہوچکي ہے اور وہ زندہ ہيں، خليفہ نے امام کو گرفتار کرنا چاہا ليکن امام خدا کے حکم سے پوشيدہ ہوکر پردہ غيبت ميں تشريف لے گئے -

غيبت صغري ميں امام کے نائب:

 

غيبت صغري کے دوران امام مہدي اپنے خاص اصحاب کے ساتھ ملاقات فرماتے اور شيعوں کے خطوط اور مسائل کے جوابات ارسال فرماتے تھے، امام کے سب سے پہلے نائب خاص حضرت عثمان بن سعيد عمري تھے- آپ حضرت امام علي نقي عليہ السلام اور امام حسن عسکري عليہ السلام کے معتمد خاص اور اصحاب خاص ميں سے تھے- عثمان بن سعيد کي وفات کے بعد ان کے فرزند،حضرت محمد بن عثمان بن سعيد اس عظيم منزلت پر فائز ہوئے- امام کے تيسرے نائب حضرت حسين بن روح تھے جن کي کنيت ابوقاسم تھي- ان کي وفات شعبان 326 ھجري ميں ہوئي- ان کي وفات کے بعد امام نے حضرت علي بن محمد السمري کو اس مقام پر منصوب فرمايا اور جب ان کي وفات کا وقت قريب آيا تو انہيں اپنے بعد کسي کو نامزد کرنے سے روک ديا اور نيابت کے خاتمے کا اعلان ان الفاظ ميں فرمايا:

"بسم اللہ الرحمن ا لرحيم

اے علي بن محمد! خداوند عالم تمھارے بارے ميں تمھارے بھائيوں اور تمھارے دوستوں کو اجر عطا کرے، تمہيں معلوم ہونا چاہيے کہ تم چھ روز ميں وفات پانے والے ہو- تم اپنے انتظامات مکمل کر لو اور آئندہ کے لئے اپنا کوئي قائم مقام تجويز نہ کرو- اس لئے کہ غيبت کبري واقع ہو گئي ہے اور اذن خدا کے بغير ظہور ناممکن ہو گا- يہ ظہور بہت طويل عرصہ کے بعد ہو گا"-

 

غيبت کبري ميں ہماري ذمہ داري

امام کے چوتھے نائب کے بعد غيبت کبري شروع ہوگئي جو اب تک جاري ہے اور خدا ہي جانتا ہے کہ کب تک جاري رہے گي ، غيبت کبري ميں ہماري سب سے بڑي ذمہ داري اور بہترين عمل امام زمانہ کے ظہور کا انتظار کرنا ہے چنانچہ حديث ميں آيا ہے کہ افضل الاعمال انتظار الفرج ، بہترين عمل امام زمانہ کا انتظار کرنا ہے -

 

تحرير : سيد اظہر حسين زيدي

شبستان ڈاٹ نيٹ

 


متعلقہ تحریریں:

مہدويت سے مراد کيا ہے؟

امام مہدي (عج) اور ابن تيميہ کے شبہات