متعلقه تحریریں
  • قرآن کے بارے میں حضرت علی (ع) کی وصیت
    قرآن کے بارے میں حضرت علی (ع) کی...
    امیر المومنین حضرت علی (ع) کا وہ نورانی بیان، جس میں عالم قیامت، روز محشر، اس دن پیروان قرآن کے اپنے اعمال سے راضی ہونے اور قرآن سے روگردانی کرنے والوں کو عذاب میں مبتلا ہونے کی خبر دی ہے
  • امام زمانہ کی طولانی زندگی قرآن و حدیث کی رو سے
    امام زمانہ کی طولانی زندگی قرآن و...
    جو لوگ کائنات کو ظاھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں اور محض اس کے مادی و عنصری جنبہ کو تسلیم کرتے ہیں اور اس کائنات کے ماوراء اس نادیدہ خالق کو نہیں مانتے کہ جو بے پناہ علم و حکمت اور قدرت کا حامل ہے
  • سورۂ کوثر کا نزول مبارک ہو
    سورۂ کوثر کا نزول مبارک ہو
    20 جمادی الثانی سن پانچ بعثت وہ مبارک و مسعود دن ہے کہ اسی دن کاشانۂ ہستی میں خداوند وحدہ لاشریک کی وہ کنیز رونق افروز عالم ہوئی جو محلّ اسرار ربّ العالمین اور مظہر جمال و کمال باری تعالیٰ ہے ۔ فخر موجودات ، رسول اسلام محمد مصطفی صلّی اللّہ علیہ و آلہ و س
  • صارفین کی تعداد :
  • 5182
  • 5/31/2015
  • تاريخ :

قرآن کریم میں ائمہ (ع) کے نام

يا صاحب الزمان-عج-


قرآن کریم کی آیات اور روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم میں ہرچیز کا ذکر موجود ہے اور خداوند عالم نے اس میں ہر چیز کو بیان کر دیا ہے جیسا کہ قرآن کریم میں ذکر ہوا ہے ” وَ نَزَّلْنا عَلَیْکَ الْکِتابَ تِبْیاناً لِکُلِّ شَیْءٍ“ ۔ اور ہم نے آپ پر کتاب نازل کی ہے جس میں ہر شے کی وضاحت موجود ہے(۱) ۔ ”ما فَرَّطْنا فِی الْکِتابِ مِنْ شَیْءٍ“ ہم نے کتاب میں کسی شے کے بیان میں کوئی کمی نہیں کی ہے (۲) ۔ نہج البلاغہ میں بھی ذکر ہوا ہے : ”وفی القرآن نباٴ ما قبلکم وخبر ما بعدکم و حکم ما بینکم “ ۔ کتاب خدا میں گذشتہ خبریں اور آئندہ کی خبریں اور ضرورت کے احکام موجود ہیں (۳) ۔
اہل سنت نے بھی مشہور صحابی ابن مسعود سے نقل کیا ہے : ”ان فیہ علم الاولین و الآخرین “ ۔ قرآن کریم میں اولین اور آخرین کا علم ہے (۴) ۔
اس کے باوجود ہم مختلف جزئی احکام کو دیکھتے ہیں جو قرآن کریم میں نہیں ہں مثلا نماز کی رکعتوں کی تعداد ،زکات کی جنس اور نصاب، بہت سے مناسک حج، صفا و مروہ میں سعی کی تعداد ، طواف کی تعداد اور حدود و دیات ،قضاوت، معاملات کے شرایط اورائمہ (علیہم السلام) کے نام وغیرہ۔
بعض اہل سنت یا وہابی ان مسائل کی طرف توجہ کئے بغیر جو قرآن کریم میں بیان نہیں ہوئے ہیں ،اس مسئلہ کو پیش کرتے ہیں کہ حضرت علی (علیہ السلام) کا نام قرآن کریم میں کیوں بیان نہیں ہوا ؟ اور اس طرح وہ کوشش کرتے ہیں کہ اس مسئلہ سے شیعوں کے ولایت کے دعوی کے خلاف استفادہ کریں ، اس مقالہ میں ہماری کوشش ہے کہ ہم اس دعوے کا جواب دیں اور ان مسائل کی وضاحت کریں ۔


قرآن کریم میں رسول اللہ (ص) کے جانشینوں کا تعارف
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے جانشین کی بحث میں سب سے اہم جو بحث ہے وہ مسلمانوں کے لئے ان کا تعارف ہے کیونکہ اپنی جگہ ثابت ہوچکا ہے کہ یہ مقام انتصابی ہے اور ایسا شخص خداوند عالم کی طرف سے منتخب ہوتا ہے ،لہذا اب کیا اعتراض ہے کہ یہ تعارف قرآن کریم میں اوصاف و صفات کے ساتھ ذکر ہو اور پھر رسول خدا اس شخص کو نام و نشان ذکر کرنے کے ساتھ لوگوں کے سامنے بیان کریں ۔
ہم جس وقت قرآن کریم کا مطالعہ کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ خداوند عالم نے دو طرح سے لوگوں کا تعارف کرایا ہے ، کبھی نام لے کر تعارف کرایا ہے جیسے بعض انبیاء کہ جن کا نام سورہ مریم میں ذکر کیا ہے اور کہا ہے : ”اذکر فی الکتاب ابراھیم ․․․، و اذکر فی الکتاب موسی․․․، واذکر فی الکاب اسماعیل ․․․ و اذکر فی الکتاب ادریس ․․․“ ۔ (۵) ۔ ( جاری ہے )

 


متعلقہ تحریریں:

انبياء كرام (ع) سے مربوط قرآني آيات كے بعض صفات

امام عصر كی معرفت قرآن مجید كی روشنی میں


 

قارئین کی تازہ ترین آراء
azeem hassan hassan hassan
بہت علم افروز ہے
تبیان کا جواب : السلام علیکم !

راۓ دینے کا شکریہ
سوموار 15 جون 2015