• صارفین کی تعداد :
  • 7851
  • 10/7/2016
  • تاريخ :

مکتب کربلا کے دروس کلام امام حسین کی روشنی میں

محرم

ہلال محرم  ایک بار پھر نواسہء رسول حضرت امام حسین علیہ السلام، ان کے اصحاب و یاوران کی الم و غم اور شجاعت و حریت سے بھرپور داستان لے کر طلوع ہو چکا ہے، دنیا بھر میں امت مسلمہ اس ماہ، جو آغاز سال نو بھی ہے کا آغاز الم و غم اور دکھ بھرے انداز میں کرتی ہے، اس کی بنیادی ترین وجہ اپنے پیارے نبی آخرالزمان محمد مصطفیٰ ۖ کے لاڈلے نواسے حضرت امام حسین (ع) اور ان کے اصحاب و انصار و یاوران کی عظیم قربانی جو 10 محرم الحرام 61 ہجری کو میدان کربلا میں دی گئی، کی یاد کو زندہ کرنا ہے۔ میدان کربلا میں نواسہ رسول (ص) اور ان کے باوفا اصحاب نے جو قربانیاں پیش کیں ہمارے لئے اسو ہ حسنہ ہیں، کربلا کے شہداء کی داستان ہائے شجاعت سے ہم کو درس حریت و آزادی ملتا ہے، یہ کربلا ہی ہے جو آزادی کا پیغام دیتی ہے، کربلا کا درس ہے کہ بصیرت و آگاہی اور شعور و فکر کو بلند و بیدا ر رکھا جائے، ورنہ جہالت و گمراہی کے پروردہ ہر جگہ ایسی ہی کربلائیں پیدا کرتے رہیں گے۔ کربلا ایک لگاتار پکار ہے، یزیدیت ایک فکر اور سوچ کا نام ہے، اسی طرح حسینیت بھی ایک کردار کا نام ہے، اگر کوئی حکمران اسلام کا نام لیوا اور کلمہ پڑھنے والا ہے اور اس کے کام یزید جیسے ہیں تو وہ دور حاضر کا یزید ہی ہے۔
یزیدیت پاکیزہ نفوس کے قاتلوں کا ٹولہ تھا، جس کا راستہ روکنے کیلئے نواسہ رسول (ص) جسے امت کے سامنے محمد مصطفیٰ ۖ نے تربیت کیا تھا، سامنے آئے اور اپنی عظیم قربانی سے اس کے ارادوں کو خاک میں ملا دیا، آپ کی قربانی آج چودہ صدیاں گذر جانے کے بعد بھی اسی انداز میں یاد رکھی جاتی ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ دین کی بقا کی اس داستان کو مٹانے کی خواہش دل میں رکھنے والے اپنی موت آپ مرتے رہیں گے۔ یہ تاریخی و بےمثال قربانی اور نمونہ ایثار و شجاعت ہمارے لئے درس کا باعث ہے، اس شہادت میں بہت سے درس اور راز و سر موجود ہیں، ہمیں چاہیئے کہ ہم اس داستان سے درس لے کر موجودہ دور کی مشکلات کا مقابلہ کریں اور یزیدی طاقتیں جو امت مسلمہ کو نابود کرنے کی سازشیں کر رہی ہیں، کے ارادوں کو ناکام و نامراد کر دیں، بالخصوص امت مسلمہ کی وحدت و بھائی چارہ پر فرقہ واریت کے منحوس سائے نہ پڑنے دیں۔ یہ قربانی کس قدر بےمثال ہے کہ جس سے چودہ صدیاں گذر جانے کے بعد بھی ایسے ہی درس و سبق حاصل کئے جاتے ہیں جیسے ابھی کل ہی ہونے والے کسی واقعہ سے انسان کوئی سبق یا نصیحت حاصل کرتا ہے ہم نے اس مقالے میں مکتب کربلا کی اقدار کو سید الشہداء علیہ السلام و شہدائے کربلا کی سیرت کی روشنی می بیان کرنے کی کوشش کی ہے، اور ذیل میں ان اقدار کو بیان کیا ہے۔ ( جاری ہے )