• صارفین کی تعداد :
  • 6619
  • 12/7/2016
  • تاريخ :

امریکہ کی دشمنی پر کوئی شک و شبہ نہیں

امریکہ کی دشمنی پر کوئی شک و شبہ نہیں

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ امریکہ ہمارا دشمن ہے امریکہ کی ایران کے خلاف دشمنی اور عداوت ڈھکی چھپی نہیں بلکہ آشکار ہے مشترکہ ایٹمی معاہدے کی نگراں کونسل کے اجلاس کے بعد امریکی اقدام کے خلاف رد عمل ظاہر کیا جائے گا۔
مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ امریکہ ہمارا دشمن ہے امریکہ کی ایران کے خلاف دشمنی اور عداوت کسی سے  ڈھکی چھپی نہیں بلکہ آشکارہے  مشترکہ ایٹمی معاہدے کی نگراں کونسل کے اجلاس کے بعد امریکی اقدام کے خلاف رد عمل ظاہر کیا جائے گا۔
ایرانی صدر نے تہران یونیورسٹی میں یوم طلباء کی مناسبت سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انقلاب اسلامی کی کامیابی  میں حوزات علیمہ اور یونیورسٹیوں کا اہم کردار رہا  اور آج انقلاب اسلامی کے تحفظ میں بھی حوزات علمیہ اور یونیورسٹیاں اپنا اہم کردار ادا کررہی ہیں۔
صدر حسن روحانی نے کہا کہ  جس طرح ہم اپنے سرافراز اور سربلند ایران پر فخر کرتے ہیں اسی طرح ہم انقلاب اسلامی پر بھی فخر کرتے ہیں۔
صدر حسن روحانی نے عوام میں اعتماد اور امید قائم کرنے پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ امید اور اعتماد مستقل کا سرمایہ ہے اور اس سرمائے کا تحفظ بہت ضروری ہے۔
صدر روحانی نے گروپ 1+5 اور ایران کے درمیان مشترکہ ایٹمی معاہدے کے بارے میں امریکہ کے نئے صدر کے بیانات امریکی سینیٹ کی طرف سے نئی پانبدیوں کے بل منظور ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ  ایرانی قوم سمیت کوئی بھی امریکہ کو مشترکہ ایٹمی معاہدے کی دستاویز پارہ کرنے کی اجازت نہیں دے گا کیونکہ یہ معاہدہ  بین الاقوامی معاہدہ ہے یہ معاہدہ ایران اور امریکہ کے درمیان نہیں بلکہ یہ معاہدہ  گروپ 1+5 اور ایران کے درمیان ہے  صدر حسن روحانی نے کہا کہ مشترکہ ایٹمی معاہدے کو چین، روس ،فرانس، جرمنی اور برطانیہ کی حمایت حاصل ہے۔
صدر حسن روحانی نے کہا کہ ہم نے آٹھ سالہ جنگ میں صرف صدام معدوم کا مقابلہ نہیں کیا بلکہ صدام معدوم کے پيجھے امریکہ ، سابق سویت یونین، فرانس، برطانیہ ، جرمنی اور علاقائی عرب ممالک تھے ۔ صدام معدوم کو بعض ممالک نے شکست سے بچنے کے لئے کیمیاوی ہتھیار بھی فراہم کئے اور صدام نے ان ہتھیاروں کا ایران کے خلاف بھر پور استعمال بھی کیا ۔ آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ میں صرف صدام معدوم کو شکست نہیں ہوئی بلکہ مشرقی اور مغربی سامراجی طاقتوں کو شکست ہوئی۔ ایرانی قوم نے باہمی اتحاد اور اتفاق کے ساتھ مشرقی اور مغربی بلاک کو شکست سے دوچار کر دیا۔
صدر حسن روحانی نے مذاکرات کا مقصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہم مذاکرات کے ذریعہ دنیا پر ثابت کرنا چاہتے تھے کہ امریکہ اور اسرائیل جھوٹے ہیں اور مذاکرات کے ذریعہ ہم نے امریکی اور اسرائیلی جھوٹ کو ثابت بھی کر دیا ہے۔
صدر حسن روحانی نے کہا کہ ہم  نےمذاکرات کے ذریعہ ایرانی قوم کے حقوق کو حاصل کیا اور ایرانی قوم کے حقوق کے تحفظ کے لئے ہم اپنی تمام توانائیوں سے استفادہ کریں گے اور خطرے کی صورت میں ہم سب بسیجی اور رضاکار فورس کا حصہ ہوں گے۔ اخلاق، استقامت اور پائداری ہمارے انقلاب کا حصہ ہے۔