• صارفین کی تعداد :
  • 11643
  • 1/17/2017
  • تاريخ :

 شہید سید مجتبیٰ نواب صفوی

 

شہید سید مجتبیٰ نواب صفوی

 

     سید مجتبی میرلوحی جو کہ نواب صفوی کے نام سے معروف تھے، شمسی سال 1303 میں خانی آباد تہران کے ایک روحانی خاندان میں پیدا ہوئے. ان کے والد نے۱۳۱۴ شمسی ہجری میں ’’ متحد الشکل لباس‘‘(یونیفارم) کے قانون کے نفاذ کے بعد لباس روحانیت کو اتار کر عدلیہ کے وکیل کے عنوان سے کام کرنے لگے، لیکن کچھ عرصہ کے بعد ایک سخت اور مشکل بحث کے بعد، وزیر انصاف علی اکبر داور کے چہرے پر زوردار طمانچہ مار دیا جس کے نتیجہ میں انہیں ۳ سال جیل کی سزا کاٹنی پڑی۔ قید سے رہائی کے کچھ دنوں کے بعد وہ اس دار فانی سے رخصت ہوگئے۔ ان کے والد کے قید میں جانے کے بعد ان کے نزدیکی رشتہ دار محمود نواب میر لوحی نے ان کی کفالت کے فرائض انجام دئے۔

     سید مجتبیٰ کا ۷ سال کی عمر میں’’حکیم‘‘ ملیٹری اسکول میں داخلہ ہوا اور اس کے بعد جرمن اسکول میں اپنے تعلیمی سلسلہ کو آگے بڑھایا اور سن ۱۳۱۹ میں اسی اسکول میں ’’ کشف حجاب‘‘ کے خلاف مظاہرہ کا آغاز کیا[۱] اسی دوران وہ خانی آباد کی ایک مسجد میں دینی تعلیم حاصل کرنے میں بھی مصروف ہوئے اور رضا خان کے ملک سے باہر جانے کے بعد سیاسی سرگرمیوں کا آغز کیا۔ ۱۷ آذر سن ۱۳۲۱ میں ۱۸ سال کے سن میں حکومت ’’قوام السلطنۃ‘‘ کے خلاف ان کی تقریر، پہلوی حکومت کے خلاف ان کی پہلی جد و جہد شمار کی جاتی ہے۔ اس تقریر کے بعد دیگر اسکولوں کے طالب علموں کی حوصلہ افزائی اور غیر مطمئن اور ناراض افراد کے ساتھ دینے کی وجہ سے قومی اسمبلی کے سامنے ایک مظاہرہ کیا کہ جس میں پلیس کی مداخلت اور فائرنگ کی وجہ سے دو افراد جاں بحق ہوئے۔ اس واقعہ نے سید مجتبیٰ پر گہرا اثر ڈالا اور پہلوی حکومت کے خلاف قیام کے لئے مزید پر عزم بنایا۔

     سن ۱۳۲۲ میں سید مجتبیٰ کی تقرری تیل کی کمپنی میں ہوگئی اورکچھ ہی عرصہ کے بعد وہ آبادان منتقل ہوگئے۔ کچھ ہی مدت کے بعد اس کمپنی کے ایک انگریز عملہ کی جانب سے کسی مزدور کے حق میں ایک سخت رویہ سامنے آیا جس کے بعد جناب نواب صفوی نے تمام مزدوروں اور کام کرنے والوں کو اعتراض اور قصاص طلبی کے لئے دعوت دی۔ پلیس اور فوجی دستوں کی شمولیت کے ساتھ احتجاج کو دبا دیا گیا۔ نواب بھی رات و رات کشتی کے ذریعہ آبادان سے بصرہ اور پھر وہاں سے نجف چلے گئے۔ وہ اپنی معاشی زندگی بسر کرنے کے لئے عطر فروخت کرنے لگے[۲]۔

نجف میں مدرسہ ’’ قوام‘‘ میں قیام پذیر ہوئے اور ابتدائی ایام سے ہی علامہ امینی(جو اس مدرسہ کے ایک حجرہ میں کتب خانہ قائم کر کے اپنی معروف کتاب ’’الغدیر‘‘ کی تالیف میں مشغول تھے) کے ساتھ دوستی اور نزدیکی رابطہ قائم کیا[۳]۔

انھوں نے فقہ، اصول اور تفسیر کی تعلیم عبد الحسین امینی، حسین قمی اور آقا شیخ محمد تہرانی جسیے اساتذہ سے حاصل کی[۴]۔

     ۲۵ دی ۱۳۳۴ کو حسن علی منصور کے قتل کے سلسلہ میں حکومت وقت نے ان کے قتل کا حکم دیا اور اسی مہینہ کی ۲۷ تاریخ ( یعنی ۱۶ جنوری)کو جو اس سال جناب سیدہ کی شہادت کا دن تھا، شہید کر دئے گئے۔

حوالہ:

[۱]مجتبی نواب صفوی، اندیشه‌ها و... ، حسین خوش نیت، تهران، ۱۳۶۰ ۔

 [۲]نواب صفوی. مؤسسه مطالعات و پژوهشهای سیاسی. بازبینی‌شده در ۱۳ آذر ۱۳۸۶ ۔

[۳]مهدی قیصری، مروری بر زندگی و مبارزات رهبر فداییان اسلا، مرکز اسناد انقلاب اسلامی. بازبینی‌شده در ۱۴ آذر ۱۳۸۶ ۔

[۴]«شهید نواب صفوی و فداییان اسلام». مرکز اسناد انقلاب اسلامی، ۲۴ دی ۱۳۸۵ ۔