• صارفین کی تعداد :
  • 1656
  • 2/7/2012
  • تاريخ :

 محمد (ص) ہيرو پرستي کے دور ميں

محمد (ص)

اٹھارويں صدي نپيولين کے نام سے شروع ہوتي ہے اس بناپراس زمانے کو ہيرو پرستي کا دور کہا جاتا ہے - اس زمانے ميں نپولين کي جنگوں فتوحات اور شکستوں سے پورپ کي راے عامہ پر گہرے اثرات پڑے - واٹرلو ميں نپولين کي شکست کے سات سال بعد ھگل کا فلسفہ تاريخ سامنے آيا، ھگل کے يہي نظريات بعد ميں مارکس کي تاريخي ماديت پرستي کي بنياد بنے - ھگل کي نظر ميں عالم متناہي ميں حرکت تاريخ کليۃ عالم نامتناھي کے زير سايہ اور کمال عقلي کي طرف گامزن ہے اس راہ ميں تاريخ آزادي کي طرف بڑھ رہي ہے اور يہ آزادي اسي آخري منزل کا عيني تجسم ہے - اس درمیان اھم شخصيتيں اور ہيرو اہم کردار اداکرتے ہيں اسکندر اور نپولين ان ہي ہيروز ميں شامل ہيں جنھوں نے تاريخ کو آگے بڑھايا ہے گرچہ انہيں بعد ميں ملک بدر کرديا گيا يا سولي پر چڑھاديا گيا - يہاں پر ھگل کے ذھن ميں محمد (ص) کا تصور بھي آتا ہے وہ محمد جنہوں نے اپنے نبوغ و صلاحيتوں سے براعظم ايشيا اور افريقہ کو بدل کر رکھ ديا تھا اس کے باوجود ھگل عيسائيت کي برتري پر تاکيد کرتے ہيں اور ان کا يہ نظريہ يورپ کي خود بزرگ بيني کے عين مطابق ہے اور يہي نظريہ خود بزرگ بيني جھان متناھي سے جھان نامتناھي کي طرف بڑھنے کا سبب بنا-

مصنفہ: مينوصميمي

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں :

محمد (ص) يورپ کي نظر ميں