• صارفین کی تعداد :
  • 2266
  • 2/7/2012
  • تاريخ :

عظمت دوجہاں محمد اور انساني حقوق (حصہ اول)

محمد (ص)

موجودہ انساني مصائب سےنجات ملنےکي واحد صورت يہي ہے کہ محمد صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم اس دنيا کےحکمران (رہنما) بنيں - يہ مشہور مغربي محقق و مفکر جارج برناڈشاہ کا قول ہے اور يہ نبي اکرم کي ذات والا صفات کے بارے ميں غير متعصب اور غير مسلم محققين اور مفکرين کي بےشمار آراء ميں سے ايک ہے - جارج برناڈ شاو ان لوگوں ميں سے ہيں جو نبي اکرم (ص) کي نبوت پر ايمان نہيں لائے پھر بھي وہ آپ کي عظمت کو تسليم کرتا دکھائي ديتا ہے- آپ کي سچائي اور صداقت کا اعتراف صرف عرب تک محدود نہيں رہا بلکہ ساري دنيا کے دانشور اور مفکر جو اسلام کے ماننے والے بھي نہيں ہيں وہ بھي حضور کي عظمت و رفعت کا برملا اعتراف اور آپ کي عمدہ تعريف پر مجبور ہيں، کارلائل، نپولين، رائٹر ، ٹالسائي ، گوئٹے، لينن پول اور ديگر بےشمار ہندو دانشور آپ کي شان ميں رطب اللسانہيں، غير مسلم دانشوروں کو مختلف آفاقي اور الہامي وغير الہامي ، مذہبي تعصب کے باوجود وہ پيغمبر اسلام کو تمام پيغمبروں اور مسلمين ميں کامياب ترين پيغمبر اور مصلح تسليم کرنا اور انسان کامل ماننا ہے-  يہ ہےعظمت رسول کا ايک پہلو-

آپ کا نام مبارک اور ان کي تعريف کا ذکر نہ صرف قرآن حکيم ميں ہے بلکہ تمام آسماني کتابوں ميں بھي آپ کا تذکرہ آيا ہے-

ہم مسلمانوں کا نبي اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کي عظمت و صفت ، حرمت و تقدس ، رفعت وناموس کےخلاف کسي بھي قسم کا سمجھو تہ يا چپ سادہ لينا تو دور کي بات ہے بلکہ حقيقت حال يہ ہے کہ آپ کي شان کے خلاف سوچ کا ايک لمحہ بھي ہماري ديني حميت و غيرت کےمنافي ہونے کے ساتھ ساتھ کسي مسلمان کا دائرہ کفر اور ارتداد ميں داخلہ کےليےکافي ہوتا ہے- ہمارےعقيدے اور ايمان کےمطابق ايسا کوئي بھي شخص خواہ وہ کتنا ہي متقي اور پرہيز گار مسلمان ہي کيوں نہ ہو اور اندہ درگاہ رب العالمين اور ہميشہ کےليےجہنم کا ايندھن بننے کا سزاوار ٹھہرتا ہےاور ہم مسلمانوں کےنزديک نبي اکرم کي ذات مبارکہ ہمارے ايمان و عقيدہ کي پہلي بنيادي اساس ہونے کے ساتھ ساتھ بعد از بزرگ توئي کا نعرہ حق و صداقت ہے يہ ہے دوسرا پہلو-

سوال پيدا ہوتا ہے کہ کيا حقوق انساني يا آزادي صحافت کي آڑ ميں عالمي سطح پر معتبر تسليم شدہ ہستي، بے داغ کردار والي شخصيت اور انسان کامل کا سوقيانہ انداز ميں ذکر اور کسي بھي استہزائي پيرائےسے اس پر اظہار خيال کيا جا سکتا ہے؟

اور کيا کسي ايسي قبيح حرکت کو محض چند خود حيض وضع کردہ نام نہاد اصطلاحوں کي بھينٹ چڑھايا جا سکتا ہے؟ بالخصوص ايسي صورت ميں آپ کے ہر مذہب و فکر و نظريہ کے غير متعصب عالمي دانشور اس شخصيت کو انسانيت کا نجات دہندہ ، بہترين انسان اور رہنما تسليم کرنے ميں ہچکچاتے نہ ہوں اور ايسي شخصيت نبي کي ہو، ارب ہا انسان اس کے پيروکار ہوں اور جو اس ذات گرامي سے غيرمشروط وابستگي ، عشق اور شيفتگي رکھتے ہوں اور حقيقت بھي يہي ہے کہ تاجدار ختم نبوت کي غلامي اور ان کي حرمت و ناموس پر کٹ مرنا ہر مسلمان کي زندگي کي سب سے بڑي آرزو ہے، وہ حضور کےنام اور ناموس پر مر مٹنےاور اس کي خاطر دنيا کي ہر چيز قربان کرنے کو اپني زندگي کا ماحاصل سمجھتے ہيں- تاريخ گواہ ہے کہ مسلمان ملکوں کي عدالتوں نے شاتم رسول کو سزائے موت کا فيصلہ سنايا اور جن ملکوں ميں مسلمانوں کي حکومت نہيں وہاں مسلمانوں نے رائج الوقت قانون کي پرواہ کيے بغير گستاخان رسول کو کيفر کردار تک پہنچايا اور خود ہنستے مسکراتے تختہ دار پر چڑھ گئي-

مسلمانوں کے دلوں اور ذہنوں ميں عظمت رسول کا تصور اور اطاعت رسول کا عمل ہي وہ بنياد ہے جو امت مسلمہ کے ہر فرد کي رگوں ميں خون بن کر دوڑ رہا ہے اور يہ حقيقت بھي ہے مسلمانوں کا يہي جذبہ اور اپنے نبي سے والہانہ لگاۆ ہے غير مسلم اقوام کے دلوں ميں کانٹا بن کر چبھتا چلا آ رہا ہے- غير مسلم اقوام کسي نہ کسي طريقے سے مختلف حيلوں اور بہانوں سے امت مسلمہ کے افراد کے دلوں ميں حب رسول کو  کم سے کم کرنے کے درپے رہتي ہيں - تاريخ اس بات کي شہاد ت ديتي ہے-

دور نہ جائيے گزشتہ چند سالوں کے عالمي واقعات سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آج کے مہذب دور ميں بوجود خاتم النبيين ہمارے آقا و رہبر حضرت اور ہمارے دين اسلام کے بارے ميں ايک نيا عالمي انساني اور مذہبي رويہ تخليق کرنے کي سازش ہو رہي ہے- غير مسلم ذرائع ابلاغ اسلام کےخلاف ميڈيائي جارحيت سے مسلح نظر آتے ہيں- اغيار کي چالاکيوں کا عمل دخل تو واضح طور پر نظر آتا ہے- ساتھ ہي ساتھ اپنوں کي کوتاہيوں ، بھول پن جو بھي نظرانداز نہيں کيا جا سکتا-

اندريں حالات مسلم ممالک کي حکومتوں، دانش مندوں، اہل عمل و فکر اور مقتدر طبقات کي ذمہ داريوں کا يہ برملا تقاضا ہےکہ وہ ليت و لعل کے بغير حرمت اور عظمت رسول کے ليے سرگرم ہوجائيں اور انسان کامل حضرت محمد صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کي عزت اور تقدس مآبي پر انگشت نمائي کرنے والوں کے ہوش حکمت اور تدبير سے ٹھکانے پر لانے کا اہتمام کريں اور باز نہ آنے والوں سےباز پرس کا عملاً بندوبست بھي کريں-

عالمي سطح پر واضح کيا جائے کہ اسلام ايک مکمل دين ہے- اسلام کے ہاں حقوق انساني کا جس انداز ميں خيال رکھا ہےدوسرے مذاہب اور نظريات اور نام نہاد خود ساختہ اصلاحات اس سے عاري دکھائي ديتي ہيں-

اور مادر پدر آزادي نہ انسان کا حق ہے اور نہ ہي حيوانوں جيسي آزادي ہے اس کو منزل مقصود حاصل ہوسکتي ہے- اسلام سلامتي، خير خواہي ، محبت اخوت اور امن و سکون کا دين ہے- تعليمات قرآن اور نبي پاک کي سيرت مطہرہ اس کا عملي مظہر ہے ذات رسول جسےخالق کائنات نے تمام جہانوں اور سب دنياۆ ں  کے ليے رحمت قرار ديا ہے، ہي کي سيرت پاک ، وہ بنيادي کليد ہےجو گلوبلائزيشن کے دور سے گزرتي ہوئي انسانيت کے ليے راہبري اور راہنمائي کا کام دےسکتي ہے- يہ مہتم بالشان کام اسلامي سربراہي کانفرنس کے پليٹ فارم سے ہونا چاہئے-

ہم مسلمان ہيں ، ہمارے ليےخوشي غمي اور اپنےجذبات کےاظہار کا ايک طريق کار ہےجو ہميں تعليمات اسلام اور ہمارے نبي پاک کے عمل اور اسوہ مبارکہ سےحاصل ہوا ہے- اس کا برملا تقاضا ہےکہ امت مسلمہ کو اپنے افکار و اعمال کو پيش کرتے وقت حکمت اور موعظہ حسنہ يعني بہترين انداز اور طريقہ کو اپنانا ہوگا- يہي سنت رسول اور حکم رسول ہے-

ہميں يہ جان لينا چاہيےکہ آج علم اور دليل کي دنيا اور جمہوريت کا دور ہےايسےميں ہم مسلمانوں کو جوش کےساتھ ساتھ ہوش کي بھي پہلےسےکہيں زيادہ ضرورت ہے- نبي اکرم کي ذات گرامي اور اسلامي تعليمات کو مغرب اور غير مسلم دنيا کےسامنے پيش کرتے وقت اعليٰ اسلامي تعليمات کو اجاگر کرتے رہنا ہوگا- آج کا دانشور يہ کہہ رہا ہےکہ انساني حقوق ، انسانوں کي برابري کا مسئلہ نہيں ہےبلکہ يہ انساني برادري اور انسانوں کےمابين تفريق کو ختم کرنے کا مسئلہ ہے-

تحرير : محمد اسلم لودھي

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں :

محمد(ص) يورپ کي نظر ميں (حصہ سوم)