• صارفین کی تعداد :
  • 1231
  • 3/16/2012
  • تاريخ :

ايران کے جنوبي ساحلوں کي سير ( حصّہ سوّم )

ایران کے جنوبی ساحلوں کی سیر

خليج فارس کے ساحلي علاقوں پر يورپي حکومتوں نے اولين حملے پندرہ سو چھ ميں کۓ - يہ حملے مصراور وينس کے مقابلے ميں پرتگال کے مفادات کے تحفظ کے لۓ کۓ گۓ1031 ہجري قمري کو شاہ عباس نے خليج فارس سے پرتگاليوں کا اثر و رسوخ مکمل طور پر ختم کرديا - صفوي عہد کے اواخر ميں جنوبي ايران پر يورپي اور بعض ہمسايہ ممالک نے حملے کۓ - نادر شاہ افشار نے سيکورٹي نيز خليج فارس کے سواحل اور جزائر کے درميان باہمي رابطے کي برقراري کے مقصد سے بحريہ کو مسلح کرنے پر توجہ دي- اور گيارہ سو سينتاليس ہجري قمري مطابق سترہ سو پينتيس عيسوي کو عبدالطيف خان دشتستاني کو دشتستان ميں جنوبي ساحلي علاقے کا کمانڈر مقرر کيا- لطيف خان نے موجودہ بوشہر کے مقام کو ، جو کہ اس وقت ايک ساحلي آبادي شمار ہوتا تھا، اپني کارروائي کے لۓ منتخب کيا- اس کے بعد سے بوشہر کو خليج فارس کي ايک اہم بندرگاہ کي حيثيت حاصل ہوگئي-

کريم خان زند کے زمانے ميں خليج فارس کے سواحل اور جزائر خصوصا بوشہر کي سرزمين ميں انگريزوں کے اثر و رسوخ ميں بہت زيادہ اضافہ ہو گيا  اور انہوں نے بوشہر ميں ايک تجارتي مرکز بنانے کا لائسنس حاصل کر ليا- ايران ميں زنديہ کے بعد قاجاري خاندان برسراقتدار آيا - اس خاندان کو خليج فارس ميں بالکل اثر و رسوخ حاصل نہيں تھا- اسي وجہ سے رفتہ رفتہ خليج فارس ميں انگريزوں کا اثر و رسوخ بڑھتا چلا گيا- اور سنہ بارہ سو ستائيس ہجري قمري مطابق اٹھارہ سو بارہ عيسوي کے بعد سے بوشہر ميں تعينات برطانيہ کا قونصل جنرل خليج فارس کے علاقے کا حاکم ہوا کرتا تھا- اس علاقے ميں انگلستان کا نمائندہ اپنے آپ کو زيادہ طاقتور اور اس علاقے کے لوگوں کي جان و مال کا مالک سمجھتا تھا- اٹھارہ سو ستاون عيسوي ميں ناصرالدين شاہ کے زمانے ميں برطانوي حکومت نے حکومت ايران کي جانب سے ہرات اور افغانستان ميں اپنے ناجائز مفادات خطرے ميں پڑے کا بہانہ بنا کر جنوبي ايران پر حملہ کرديا اور جزيرۂ خارک پر قبضہ کرليا- اس کے بعد برطانوي فوجوں نے بوشہر کو بھي اپنے قبضے ميں لے ليا- تنگستان ، دشتستان اور بوشہر کے جنگجوğ نے اپني جانيں ہتھيلي پر رکھ کر انگريز فوج کا مقابلہ کيا-

حمام گلہ داري

بندرعباس شہر ميں ايران کا ايک قديم حمام بھي واقع ہے - يہ حمام  صوبہ ھرمزگان کے  ايک ميوزيم کي زير نگراني  عام لوگوں کي نمائش کے ليۓ ديا گيا ہے - يہ حمام 13 ويں صدي ھجري کے آخر ميں بنوايا گيا اور اس کا نام حاج شيخ احمد گلہ داري کے نام کي نسبت سے رکھا گيا ہے -

اپنے زمانے کا يہ ايک معروف حمام تھا جہاں پر ہميشہ لوگوں کي بھيڑ لگي رہتي  تھي - اس حمام ميں ايران کے دوسرے حصّوں ميں پاۓ جانے والے تاريخي حماموں کي طرح  تمام سہوليات موجود ہيں -

تحرير و ترتيب :  سيد اسداللہ ارسلان


متعلقہ تحريريں:

ايران کے  سفر  کے ليۓ  کچھ سفري معلومات