• صارفین کی تعداد :
  • 6964
  • 6/3/2012
  • تاريخ :

کتابِ عشق کا ايک ورق

امام خمینی -رح-

7 جون 1989ء کا روز--- سورج کي تپش سے درو ديوار دہک رہے تھے--- شجر و حجر سلگ رہے تھے--- ليکن اس کے باوجود عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور مردوں کا ہجوم تہران کے مصليٰ بزرگ {عيد گاہ} کي طرف ٹھاٹھيں مار رہا تھا- چشم فلک ايک عظيم الشان جلوس کا مشاہدہ کر رہي تھي- تہران ائيرپورٹ پر بين الاقوامي شخصيات کا تانتا بندھا ہوا تھا- ہر شخص سوگوار اور ہر آنکھ اشکبار تھي، فضا ميں نوحہ و ماتم کے باعث ارتعاش تھا اور عالمي ميڈيا يہ سب مسلسل تاريخ کے سينے ميں اتارتا جا رہا تھا- ايک کروڑ سے زائد افراد اپنے محبوب قائد کي نماز جنازہ ادا کرنے کے ليے جمع ہو چکے تھے-ايران کے مشہور مرجع تقليد آيت اللہ العظميٰ سيد محمد رضا گلپائيگاني (رحمۃاللہ تعالي عليہ) نے نماز جنازہ پڑھائي- نماز جنازہ کے بعد يہ جلوس تہران کے قبرستان "بہشت زہرا"کي طرف روانہ ہوا، عيد گاہ سے "بہشت زہرا "30 کلوميٹر کے فاصلے پر ہے- 30 کلوميٹر کا يہ فاصلہ ايک کروڑ کے ہجوم نے پا پيادہ طے کيا- سياہ لباس ميں ملبوس لوگوں کے ہاتھوں ميں ماتمي پھولوں کے گلدستے اور آنکھوں ميں اشکوں کے دريا تھے، عوام کا يہ سمندر سڑکوں پر رواں دواں تھا اور فضاء ميں ايک ہيلي کاپٹر تابوت کو اُٹھائے ہوئے محو پرواز تھا، کافي دير تک لوگ چلتے رہے اور ہيلي کاپٹر پرواز کرتا رہا- بلا خر تابوت کو دفن کرنے کے لئے مخصوص احاطے ميں ہيلي کاپٹر اترا اور تابوت کو باہر لاياگياتو ايک کروڑ کا ہجوم سمندر کي موجوں کي طرح تابوت کي طرف بڑھا- لوگوں نے انتظاميہ سے تابوت لے ليا، اب تابوت ايک کروڑ افرادکے ہاتھوں پر تير رہا تھا، لوگ رو رہے تھے، گريہ کر رہے تھے، تابوت پر پھول پھينک رہے تھےاور تابوت کو چوم رہے تھے- عشق و محبت کے ايسے مناظر چشم ہستي نے پہلے کبھي نہ ديکھے تھے- زمين پر تل دھرنے کي جگہ نہ تھي اور کان پڑتي آواز سنائي نہ ديتي تھي- ہر شخص اس کوشش ميں تھا کہ کسي نہ کسي طرح تابوت کا بوسہ لے لے، اب عوام کے ہاتھ تھے اور امام کا تابوت--- کافي دير بعد بلکل غير متوقع طور پر عيني شاہد ين کے مطابق عوام کے ہاتھوں پر تيرے ہوئے تابوت کي حرکت کي سمت تبديل ہو گئي اور تابوت اپنے مدفن کے قريب آنے لگا- جيسے ہي تابوت مدفن کي حدود ميں پہنچا ڈيوٹي پر مامور انتظامي اداروں کے اہلکاروں نے تابوت کو اپني حفاظت ميں لے ليا، ہيلي کاپٹر بھي فضاء سے اتر آيا- ابھي انتطاميہ کے لوگ تابوت کو ہيلي کاپٹر ميں پوري طرح رکھنے بھي نہ پائے تھے کے عوام کے دباو کے باعث ہيلي کاپٹر کو ايسے حال ميں پرواز کرني پڑي کہ تابوت کا کچھ حصہ ہيلي کاپٹر سے باہر ہي رہ گيا، ہيلي کاپٹر نے دوبارہ "منظريہ "کي طرف پرواز کي- منظريہ وہ مقام ہے جہاں پہلے امام خميني (رحمۃاللہ تعالي عليہ) کا تابوت رکھا گيا تھا- دانشوروں نے تبصرے کرتے ہوئے کہا کہ ايسا تاريخ ميں پہلي بار ہوا ہے کہ کسي اہم شخصيت کا جنازہ دوبارہ واپس لايا گيا، ليکن سچ تو يہ ہے کہ ايسا پہلي بار نہيں بلکہ دوسري بار ہوا ہے-آج سے تقريباً ساڑھے تيرہ سو سال پہلے بھي ايک اہم ترين شخصيت کا جنازہ دوبارہ واپس پلٹايا گيا تھا- تاريخ ميں آج تک صرف ايک خاندان ايسا ہے جس کے دو تابوت مدفن سے پلٹے ہيں- يہ دونوں تابوت آل محمد (صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم) کے ہيں- ايک تابوت حضرت امام حسن (عليہ السلام) کا ہے اور دوسرا حضرت امام خميني (رحمۃاللہ تعالي عليہ) کا ہے- ان دونوں جنازوں کے پلٹنے ميں نماياں فرق يہ ہے کہ امام خميني (رحمۃاللہ تعالي عليہ) کا جنازہ محبت و عشق کے باعث پلٹا ، جبکہ حضرت امام حسن (عليہ السلام) کا جنازہ جب واپس پلٹا تو تيروں کي بارش سے زخمي ہو چکا تھا- وقت کے سينے ميں صبر امام حسن (عليہ السلام) عرفان فقہاہت بن کر گھلتا رہا اور نسل در نسل علم و عرفان کا يہ سلسلہ جب عصر حاضر ميں داخل ہوا تو صبر امام حسن (عليہ السلام) پيکر امام خميني (رحمۃاللہ تعالي عليہ) کي صورت ميں جلوہ فگن ہوا، حضرت امام خميني (رحمۃاللہ تعالي عليہ) نے سيرت امام حسن (عليہ السلام) کا عملي اعادہ کرتے ہوئے نہ صرف بادشاہت کے غرور کو خاک ميں ملايا بلکہ آپ نے تاريخ کے چودہ سو سالہ جبر کا سينہ چاک کر کے اسلام کي عظمت رفتہ کو بھي بحال کيا-جس طرح امام خميني (رحمۃاللہ تعالي عليہ) کي زندگي طاغوت کے ليے سد راہ تھي اسي طرح آپ کا جنازہ بھي موجودہ صدي ميں طاغوت کےخلاف ريفرنڈم ثابت ہوا، ايسا ريفرنڈم کہ جس نے طاغوت کي شان و شوکت اور رعب و دبدبے کي مکمل نفي کر دي، عوامي اجتماع نے 7جون 1989ء کو بہشت زہر اميں طاغوت عالم پر واضح کر ديا کہ تم مکرو و فريب کے ذريعے اقوام عالم کو گمراہ کرتے ہو جبکہ اسلام حقائق و حقيقت کي روشني ميں ملتوں کو بيدار کرتاہے-7جون 1989ء کو لوگ روتے رہ گئے، عرفاء آہ و بکا کرتے رہے، عشاق گريہ کناں رہے اور يوں حضرت امام حسن (عليہ السلام) کے صبر، شجاعت اور علم و عمل کا وارث يہ جليل القدر فقيہ پورے عالم اسلام کو سوگوار چھوڑ کر عالم بقاء ميں اپنے جد نامدار حضرت محمد (صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم) کي طرف کوچ کر گيا-حضرت امام خميني (رحمۃاللہ تعالي عليہ) نے عالمِ اسلام ميں انقلاب اور بيداري کي جو لہر پھونکي تھي آپ کے وصال کے بعد بھي اس کي لہريں ذہنوں کو مسخر اور دلوں کو فتح کرتي چلي جارہي ہيں-اس حقيقت کا اظہار علامہ عارف حسين الحسيني نےايک پريس کانفرنس ميں کچھ يوں کياتھا:امريکہ اور دوسري طاغوتي طاقتوں کو اسلامي انقلاب سے خطرہ ہے- شيعوں سے خطرہ نہيں ہے- ايران سے بھي نہيں ہے- کيونکہ يہ جو اسلامي انقلاب کي لہر ايران کي سر زمين سے اٹھي ہے- اس کے اثرات مراکش ميں بھي پائے جاتے ہيں- تونس ميں بھي پائے جاتے ہيں، مصر ميں بھي پائے جاتے ہيں- ہر جگہ پائے جاتے ہيں-حضرت امام خميني نے مسلمانوں کو بادشاہوں اور مغربي طاقتوں کي غلامي کي ذلت سے نجات دلانے کے لئے انہيں يہ شعور ديا کہ وہ اپني انساني حقوق کو حقيقي معنوں ميں حاصل کرنے کے لئے بيدار ہوجائيں اور اٹھ کھڑے ہوں- چونکہ اگر انسان بيدار ہوجائے تو پھر کہيں پر انقلاب ٹھونسنے يا صدورِ انقلاب کي ضرورت نہيں پڑھتي جيساکہ اپنے ايک خطاب ميں رہبر معظم سيد علي خامنہ اي نےفرماياہے کہ ہميں دشمن کہتے ہيں کہ انقلاب کو صادر مت کرو- ہم پوچھتے ہيں کہ کيا انقلاب کوئي صادر کرنے والي شئے ہے؟انقلاب تو پھولوں کي خوشبو کي مانند ہےجو خود بخود پھيل جاتي ہے- انقلاب تو موسم بہار ميں چلنے والي بادِنسيم کي مانند ہےکہ جو خود بخود بدبودار اور گھٹن ماحول کو خوشبودار اور معطر کر ديتي ہے- انقلاب کو صادر کرنے کي ضرورت نہيں بلکہ اس کي لہر خودبخود پھيل جاتي ہے- آج پوري دنيا اس حقيقت کو جان چکي ہے کہ بيداري کو کہيں پر ٹھونسانہيں جاتا- دانشمندانِ جھان کے نزديک غفلت سے نجات نيز سوجھ بوجھ، تعقل و تفکر، تدبر و حکمت کوبيداري کہا جاتا ہے- خداوندعالم نے جتني بھي کتابيں بھيجيں اور جتنے بھي انبياء بھيجے اُنہوں نے انسانوں کو مختلف ذرائع سے سوجھ بوجھ اور تعقل و تفکر کي طرف دعوت دے کر انہيں خوابِ غفلت سے بيدار کيا ہے-انسان اگر خوابِ غفلت سے بيدار ہو جائے اور اپنے آپ کو پہچان لے تو پھر وہ اپني انا کي زنجيروں سے رہائي حاصل کر ليتا ہے، تکبر کے زندان سے نجات پا ليتا ہے اور دنيا کي محبت سے جان چھڑوا ليتا ہے- ليکن اگر انسان خوابِ غفلت سے بيدار نہ ہو تو وہ بے شک بيداري، بيداري کے نعرے لگاتا رہے وہ نہ ہي انا کي زنجيروں کو توڑ سکتا ہے، نہ ہي تکبر کے زندان سے فرار کر سکتا ہے اور نہ ہي دنيا کي محبت کو اپنے دل سے کُھرچ کر نکال سکتا ہے-ايسا شخص بيداري کے جتنے زيادہ نعرے لگاتا جائے گا- اُسے تھکاوٹ، ندامت، پسپائي اور عقب نشيني کے سوا کچھ حاصل نہيں ہو گا- اس کي حالت اس شخص کي مانند ہے جو نيند کے عالم ميں خواب ميں پاني ڈھونڈ رہا ہوتا ہے اور بستر پر عالم خواب ميں پاني، پاني، پاني کے نعرے لگا تا ہے-جب تک يہ شخص نيند سے بيدار نہ ہو جائے پاني، پاني کے نعرے اسے کوئي فائدہ نہيں دے سکتے-انبياء اکرام اور ان کے نقش قدم پر چلنےوالي ہستيوں نے انسانوں کو ماديت کي نيند سے جگا کر اور ان کي معنويت کي مہار کھينچ کر کھبي قافلہ بشريت کو آب زمزم تک پہنچا يا، کھبي تفکر آدميت کو کھينچ کر فرات کي تشنگي ميں ڈبو ديا اور کھبي معنويت انساں کو حوضِ کوثر سے سيراب ہونے کا نقشہ بتايا-ہرنبي، ہر معصوم اور راہِ خدا کے ہر رہبرنے عالم بشريت کے درميان بيدار ہوجاو بيدار ہوجاو کي ندا دي ہے- خالق کي طرف سے مخلوق کي بيداري کي صدا اس لئے ہر دور ميں گونجتي رہي ہے کہ اگر انسان بيدار ہو جائے تو وہ آن واحد ميں کائنات کي کايا پلٹ سکتا ہے اور پلک جھپکنے سے پہلے حر (ع) کي طرح جہنم سے جنت ميں پہنچ سکتا ہے، انسان بڑے سے بڑا انقلاب لاسکتاہے مگرشرط يہ ہے کہ انسان بيدار ہو جائے، بيدار ہو جائے---

بقول جوش

کيا فقط مسلماں کے پيارے ہيں حسين (ع) 

چرخ نوعِ بشر کے تارے ہيں حسين (ع)

انسان کو بيدار تو ہو لينے دو 

 ہر قوم پکارے گي ہمارے ہيں حسين (ع)

حضرت امام خميني کي اسلامي بيداري کي تحريک در اصل پيغمبرِ اسلام (صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم) کي تحريک کا ہي تسلسُل اور نواسہ رسول حضرت امام حسين (عليہ السلام) کي قرباني کا ہي ثمرہے- آج اطرافِ عالم ميں يہ جو"مسلمانو!بيدار ہوجاو" کي آواز سنائي دے رہي ہے يہ در اصل حضرت امام خميني کي ہي آواز ہے- يہ جو آج ہر طرف انقلاب کے چراغ جل رہے ہيں، يہ بيداري کي تحريکيں، يہ شعورو آگہي کي مشعليں، يہ تفکر و تدبر کي انجمنيں، يہ قرآن و تفسير کي روشنياں، يہ صاحبانِ علم و فکر کي محفليں، يہ حريّت و آزادي کي آوازيں، يہ تحريکوں کا وجودِ مبارک، يہ تحقيق وجستجو کي سلسبيل، يہ انقلاب اور بيداري اسلامي کے موضوع پر مقالہ جات اور سيمينار، يہ ميڈيا ميں انقلاب، انقلاب کي دہائي، يہ مجلوں ميں بيداري اسلامي کا شور و غل، يہ مسلمانوں ميں بيداري اور انقلاب کي تڑپ، يہ صدام کي رسوائي، يہ طالبان کي نقاب کشائي، يہ قذافي کے ڈرامے کا خاتمہ، يہ عراق ميں امريکي استعمار کا بھرکس بننا، يہ مصر اور تونس ميں آمريّت کا ملياميٹ ہونا--- يہ آزادي و حريت کي ساري تحريکيں، يہ ساري انجمنيں، يہ ساري قنديليں، يہ ساري ملتيں، يہ ساري اقوام، حضرت امام خميني کي محتاج و ممنون ہيں-بلاشبہ حضرت امام خميني نےاسلامي بيداري اور ملي شعور کي خاطر جو چراغ جلاياتھا، آج اس چراغ سے ہزاروں چراغ روشن ہوچکے ہيں-قارئين محترم!آج يہ سوچنے کي بات نہيں کہ آج اگر امام خميني ہمارے درميان موجود ہوتے تو وہ اسلامي بيداري کے حوالے سے کيا کرتے؟کياوہ ريلياں نکالتے، کفن پوش مظاہرے کرتے، پمفلٹ اور ہينڈ بل نکالتے، کانفرنسيں کرتے--- ليکن--- آج سوچنےکي بات يہ ہے کہ اگر آج امام خميني ہمارے درميان موجودہوتے تواب تک اسلامي بيداري کے حوالے سے کيا کچھ کر چکے ہوتے؟آج ضرور ريلياں نکلتيں،، جلوس نکلتے، ہينڈ بل چھپتے---- ليکن ان ساري چيزوں کے پيچھے کس قدر علمي و فکري کام ہو چکا ہوتا-آپ خود اندازہ لگائيں، امام خميني جب ريلي کے ليے آواز بلند کرتے تھےتو باطل کا دل دہل جاتا تھا-عالمي سامراج دہک سے رہ جاتا تھا، امام جب مردہ باد امريکہ کي بات کرتے تھے تھے تو طاغوت کے ايوانوں پر لرزہ طاري ہو جاتا تھا، ---آج ہم بھي ريلياں نکالتے ہيں، کفن پوش مظاہرے کرتے ہيں، مردہ باد امريکہ کے نعرے لگاتے ہيں، ميگزين چھاپتے ہيں، ہينڈبل اور پمفلٹ تقسيم کرتے ہيں ليکن باطل کے کانوں پر جوں تک نہيں رينگتي---اس کي ايک ہي وجہ ہے کہ حضرت امام خميني کے کاموں کے پيچھے خلوص کے ساتھ ساتھ بصيرت يعني فکر، تدبراور نقشہ ہوتا تھا اور ہمارے ہاں صرف کفن پوش مظاہرے، نعرے اور ريلياں ہوتي ہيں- تفکر، تدبر اور نقشہ نہ ہونے کے باعث آج ہم پاکستانيوں کي مادي حالت يہ ہے کہ ہم بجلي سے ليکر بين کاري تک سب کچھ ہونے کے باوجود غيروں کے محتاج ہيں اور معنوي حالت يہ ہے کہ ہم تجويد سے لےکر اجتہاد تک کسي بھي شعبے ميں خود کفيل نہيں ہيں- کيا حضرت امام خميني سے محبت اور عقيدت کا يہ مطلب نہيں کہ نعرے لگانے کے ساتھ ساتھ، حضرت امام کے راستے کو بھي طے کريں يعني تدبر، تفکر، بصيرت اور نقشے کے ساتھ آگے بڑھيں- حضرت امام خميني کے بعد جو کام ہميں کرنے چاہيے تھے اور ہم نے نہيں کئے بلاشبہ ان کي فہرست تو بہت طويل ہے ليکن ايک کام جو ابھي کرنے کا وقت ہے اور ہميں ضرور کرنا چاہيے وہ بيداري اسلامي کے حوالے سے متحد ہوکر اپنا ديني و ملّي کردار ادا کرناہے- جيسا کہ آيت اللہ العظمي سيد علي خامنہ اي نے فرمايا ہے کہ دنياکے کسي بھي گوشے ميں اگر کوئي تحريک عوامي ہو اسلامي ہو اور ضدِّ امريکہ و صہيونزم ہو تو ہم اس کے ساتھ ہيں- اسي طرح آپ نے ايک مقام پر يہ بھي فرمايا ہے کہ آج اسلامي دنيا کي صورتحال فرق کرتي ہے- اسلامي دنيا کے گوشہ و کنار ميں اسلامي بيداري کي لہر اُٹھ چکي ہے- پوري اسلامي دنيا ميں ايک عظيم الشان تحريک اپنے مختلف مراحل کو بخوبي طے کر رہي ہے- اسلامي مباني اور اصول کي جانب بازگشت، عزت و پيش رفت اور ترقي کا باعث ہے- اسلامي دنيا کے روشن فکر افراد، علماء اور سياستدان حضرات اس تحريک کو مستحکم اور مضبوط کريں- اگر کوئي يہ تصور کرے کہ جوانوں ميں اسلامي بيداري کي تحريک، اسلامي حکومتوں کے نقصان ميں ہے تو اس کي يہ سوچ بالکل غلط ہے- بلکہ اسلامي حکومتيں، بيداري اسلامي ہي کي بدولت اپني عزت رفتہ کو دوبارہ حاصل کر سکتي ہيں- جسے استکباري طاقتوں نے ان سے چھين ليا تھا-آج اگرچہ بظاہر حضرت امام خميني (رحمۃ اللہ تعالي عليہ) ہمارے درميان موجود نہيں ہيں ليکن ان کا راستہ ہمارے سامنے موجود ہے- حضرت امام کا راستہ وحدت، بيداري اور بصيرت کا راستہ ہے- آئيے بغير کسي تعصب کے اور بغير کسي فرقہ بندي کے ہم بھي متحد ہوکراپني ديني و ملي بيداري کاثبوت ديں اور اپنے ملک سے استعماري و طاغوتي طاقتوں کے اثر و رسوخ کے خاتمے کے لئے تفکر کريں اور بصيرت کے ايک نقشہ بنائيں- ليکن ٹھہريے!!! ہميں نقشہ بنانے کي بھي ضرورت نہيں، نقشہ تو حضرت امام نے بناديا ہے، اسے صرف اپنےملک ميں لے جانے کي ضرورت ہے--- ليکن نہيں اسے کہيں لے جانے کي بھي ضرورت نہيں---! اس لئے کہ يہ اسلامي بيداري کانقشہ ہے اور بيداري تو پھولوں کي خوشبو کي مانند ہےجو خود بخود پھيل جاتي ہے- بيداري تو موسم بہار ميں چلنے والي بادِنسيم کي مانند ہےکہ جو خود بخود بدبودار اورحبس زدہ ماحول کو خوشبودار اور معطر کر ديتي ہے- بيداري کوکہيں لے جانے کي ضرورت نہيں بلکہ اس کي لہر خودبخود پھيل جاتي ہے--- يقين جانئے خود بخود پھيل جاتي ہے--- بيداري کو امريکي ڈالر، يورپي يورو، سعودي ريّال، کويتي تيل اور طالباني تفکر سےنہيں روکاجاسکتا--- اگر يقين نہ آئے تو اپنے اردگرد اسلامي ممالک پر ايک نگاہ ڈال کر اندازہ لگاليجئے---

ہم سچ کہتے ہيں اور سچ کے سوا کچھ نہيں---


متعلقہ تحريريں:

قيصر امين پور کے حالات زندگي