• صارفین کی تعداد :
  • 2016
  • 3/23/2012
  • تاريخ :

آيت ولايت؛ خدا، رسول خدا اور علي (ع) ہي مؤمنين کے سرپرست 1

بسم الله الرحمن الرحیم

«اِنّما وَليّکم الله و رسوله والّذين آمنوا الّذين يقيمون الصّلوة و يؤتون الزّکاة و هم راکعون» (1)

تمہارا حاکم و سر پرست بس اللہ ہے اور اس کا پيغمبر اور وہ ايمان رکھنے والے جو نماز ادا کرتے ہيں اور خيرات ديتے ہيں اس حالت ميں کہ وہ رکوع ميں ہيں-

.(يہ آيت شريفہ ايسےحال ميں رسول اللہ (ص) پر نازل ہوئي جب اميرالمؤمنين عليہ السلام نماز ميں مصروف تھے اور رکوع کي حالت ميں تھے اور اسي حالت ميں اپنے ہاتھ سے انگشتري اتار کر ايک ايسے شخص کو بعنوان صدقہ ديا جو محتاج تھا اور مدد مانگ رہا تھا)-

وَمَن يَتَوَلَّ اللّهَ وَرَسُولَهُ وَالَّذِينَ آمَنُواْ فَإِنَّ حِزْبَ اللّهِ هُمُ الْغَالِبُونَ- (2)

اور جو پيروي کرے اللہ اور اس کے رسول اور رکوع کي حالت ميں اس زکواۃ دينے والے کي، تو بلاشبہ اللہ کا لشکر ہي غالب آنے والا اور کامياب ہے-

اسلامي فکر و عقيدے اور عقل کا تقاضا يہ ہے کہ انسان اپنے خالق و مالک اور عالمين کے پروردگار کي اطاعت کرے کيونکہ اللہ ہي انسان کے تمام اسرار و رموز سے واقف اور اس کي مصلحتوں سے آگاہ ہے وہ انسان کا محتاج نہيں ہے اور انسان اور تمام موجودات اس چنانچہ انسان کي عقل اس کو خدا کي طرف بلاتي ہے؛ کيونکہ انسان اپني عمر کے آنے والے ايام سے بے خبر ہے اور وہ حتي عمر کے اگلے لمحے کي خبر بھي نہيں رکھتا اور وہ اپني زندگي کي تمام جزئيات کے لئے خدا کي ذات کا محتاج ہے؛ جبکہ دوسري طرف سے وہ خدا جس نے اس کو خلق فرمايا ہے حتي اپني مخلوق کے وجود کے چھوٹے سے چھوٹے راز سے آگاہ و باخبر ہے اور حتي کہ وہ اس کي حرکت کے مقصد و انجام کو بھي جانتا ہے-