• صارفین کی تعداد :
  • 1955
  • 3/23/2012
  • تاريخ :

آيت ولايت؛ خدا، رسول خدا اور علي (ع) ہي مؤمنين کے سرپرست 3

بسم الله الرحمن الرحیم

جب انسان اس بارے ميں سوچتا ہے، اپنے آپ کو اللہ کي رحمتوں اور نعمتوں ميں ڈوبا ہوا پاتا ہے- وہ اس حقيقت کا ادراک کرليتا ہے کہ اس کے پاس جو کچھ بھي سب اللہ کا ہے اور اللہ انسان کي بے انتہا نافرمانيوں کے باوجود اللہ کا فضل و کرم اور اس کي نعمتيں اور رحمتيں نہ صرف منقطع نہيں ہوئيں بلکہ لمحہ بہ لمحہ جاري و ساري ہيں؛ لہذا يہ انسان اسي عقليت کي برکت سے اس مہربان پروردگار کي اطاعت کي راہ پر گامزن رہنے کے لئے پہلے سے زيادہ کوشاں رہتا ہے؛ ايسے راستے پر جس کا انجام کمال و سعادت کے ساو کچھ بھي نہيں ہے-

اسلامي تعليمات کے مطابق ولايت کي حقيقت اور اس کا مجموعي مفہوم بھي اللہ اور معصومين کي اطاعت کے دائرے ميں ہي وصف و بيان ہے- دوسري جانب سے عمومي طور پر رسول اللہ اور ائمۂ معصومين ميں سے ہر ايک کے ساتھ مسلمانوں اور بطور خاص شيعيان آل محمد (ص) کا رابطہ و تعلق بھي بہت گہرا اور دوطرفہ ہے- اس محبت کے ايک طرف رسول اللہ (ص) اور ائمۂ معصومين ہيں جو ہر مسلم فرد کے لئے شفقت و مہرباني اور محبت کا نمونۂ کاملہ ہيں يہاں تک کہ ايک مسلمان کو پہنچنے والي معمولي سي تکليف بھي ان کے آزردگي اور رنج و تکليف کا سبب ہوتي ہے؛ اور اس حقيقت کي بے شمار مثاليں ہماري تاريخ کے صفحات پر ثبت ہيں ليکن دوسرے فريق کي حيثيت سے مسلمانان عالم بھي معصومين کے وجود ميں اخلاقي مکارم اور روحاني کمالات مجتمع ہونے کے پيش نظر، اپني جان و دل کي اتہاہ گہرائيوں سے ان سے عشق و محبت برتتے ہيں-

يہ گہرا دوطرفہ رشتہ اطاعت کي ايسي مثاليں قائم کرتا ہے کہ مسلمانان عالم نہ صرف رسول اللہ اور ائمۂ معصومين عليہم السلام کے کلام کے سامنے نہ صرف مطيع اور فرمانبردار ہيں بلکہ اپنے ذہن ميں ان کي اطاعت کے سلسلے ميں ذرہ برابر شک و تردد محسوس نہيں کرتے-