• صارفین کی تعداد :
  • 1674
  • 3/23/2012
  • تاريخ :

آيت ولايت؛ خدا، رسول خدا اور علي (ع) ہي مؤمنين کے سرپرست 9

بسم الله الرحمن الرحیم

اس بات کي وضاحت ضروري نہيں ہے کہ قرآن کلام خدا ہے اور اس ميں خطا کي گنجائش نہيں ہے اور اس ميں کسي قسم کا تضاد نہيں ہے ليکن يہ دو معاني قرآني آيات کے منافي ہيں؛ ارشاد رباني ہے کہ "و إن استنصروکم في الدّين فعليکم النصر"؛ (6)

" اگر وہ تم سے کسي ديني مہم ميں مدد مانگيں تو تمہارا فرض ہے کہ مدد کرو".

اس آيت شريفہ سے ثابت ہے مدد کرنا اور نصرت کے لئے اقدام کرنا خاص افراد سے مختص نہيں ہے اور فرمايا جاتا ہے کہ "جو بھي تم سے دين کے لئے مدد مانگے اس کي مدد کرو"-

« کمک کنيد همديگر را بر نيکو کاري و پرهيزکاري- »

اس آيت ميں بھي ايک دوسرے کي مدد کو نيکي اور تقوي پر منحصر قرار ديا گيا ہے اور ہر شخص پر فرض قرار ديا گيا ہے کہ وہ ہر تقوي اور نيکي کے کاموں ميں دوسروں کے ساتھ تعاون کرے اور يہ مدد و تعاون کسي خاص فرد يا چند خاص افراد سے مختص نہيں ہے-

"انّما المؤمنون إخوة" (6)

" مسلمان آپس ميں بھائي بھائي ہيں"-

 خداوند متعال نے اس آيت ميں مؤمنين کو آپس ميں بھائي بھائي قرار ديا ہے اور واضح و آشکار ہے کہ اسلامي اخوت و برادري کا رشتہ دوستي کے رابطے سے کہيں زيادہ اہم ہے (اور اسلامي بھائي ناصر و مددگار سے بھي زيادہ اہم ہے)؛ پس کيونکر ممکن ہے کہ ہم صرف ان لوگوں ميں سے اپنے لئے دوست چن ليں جنہوں نے حالت رکوع ميں زکواة دي ہے اور صرف ان کو ناصر و مددگار سمجھ کر ان ہي سے مدد مانگيں؛ حالانکہ قرآن نے تمام مؤمنين کو بھائي بھائي قرار ديا ہے؟!

پس معلوم ہوتا ہے کہ ولي کے معني اس آيت ميں دوست يا ناصر و مددگار کے نہيں ہے کيونکہ دوست اور ناصر کے معني کلي ہيں اور خاص افراد سے مختص نہيں ہيں-