• صارفین کی تعداد :
  • 1716
  • 3/23/2012
  • تاريخ :

آيت ولايت؛ خدا، رسول خدا اور علي (ع) ہي مؤمنين کے سرپرست 10

بسم الله الرحمن الرحیم

3- ولي کے معني "سرپرست"

اب اگر ہم ولي سے سرپرست اور صاحب مراد ليں تو يہ معني قرآن کي ديگر آيات سے تضاد و تصادم کي صورت ہرگز پيدا نہ ہوگي کيونکہ سرپرستي کا عہدہ سب کے لئے نہيں ہوسکتا؛ اور ايسا نہيں ہے کہ ہر شخص ہميں حکم دے اور فرمان جاري کرے اور ہمارا سرپرست ہو سوائے خاص فرد يا افراد کے جو خدا کي طرف سے متعين ہيں- اور يہ آيت کہہ رہي ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے بعد تمہارا سرپرست اور مولي و فرمانروا وہ ہے جو نماز کے رکوع ميں زکواة ديتے ہيں-

اب ہميں ديکھنا پڑے گا کہ کس فرد يا کن افراد نے اس آيت کے نزول کے وقت نماز ادا کرتے وقت رکوع کي حالت ميں زکواة دي ہے جنہيں اللہ اور اس کے رسول کے بعد امت کي سرپرستي کا اہم عہدہ سونپ ديا گيا ہے؟؛ اس بات کے اثبات کے لئے بہترين روش آيت کي شان نزول کي طرف رجوع کرنا ہے-

آيت کي شان نزول

شيعہ (7) اور سني (8) مفسرين اور صاحبان رائے و نظر نے کہا ہے کہ:

ايک سائل مسجد ميں داخل ہوا اور اس نے مسجد ميں موجود مسلمانوں سے مدد مانگي ليکن کسي نے بھي سائل کي درخواست کو لائق اعتنا نہيں سمجھا سوائے حضرت اميرالمؤمنين عليہ السلام کے جو نماز ادا کررہے تھے اور حالت رکوع ميں سائل کو اپني انگھوٹي عطا کي اور اسي حال ميں يا آيت نازل ہوئي: "اِنّما وَليّکم الله و رسوله والّذين آمنوا الّذين يقيمون الصّلوة و يؤتون الزّکاة و هم راکعون"- (آيت 55 سوره مائده)

تمہارا حاکم و سر پرست بس اللہ ہے اور اس کا پيغمبر اور وہ ايمان رکھنے والے جو نماز ادا کرتے ہيں اور خيرات ديتے ہيں اس حالت ميں کہ وہ رکوع ميں ہيں-

آيت کے مختلف حصوں کا جائزہ

اس آيت ميں اللہ تعالي نے ان مؤمنين کي خاص نشانياں بيان کي ہيں جو مقام ولايت کے مالک ہيں-