• صارفین کی تعداد :
  • 1725
  • 3/23/2012
  • تاريخ :

آيت ولايت؛ خدا، رسول خدا اور علي (ع) ہي مؤمنين کے سرپرست 12

بسم الله الرحمن الرحیم

نيز استاد نے بالواسطہ طور پر اپنے شاگردوں کو سمجھانے کي کوشش کي ہے کہ اگر عالم ترين نہ بھي ہوسکو کم از کم اپنے آپ کو صاف ستھرا رکھو-

دوسري قسم کے وصف کي مثال:

اب اگر استاد مذکورہ بالا سوال کے جواب ميں کہتا کہ: عالم ترين شخص وہ ہے جو سب سے زيادہ مطالعہ کرتا اور سبق پڑھتا ہے تو يہ ايک خاص معيار نہ ہوتا؛ کيونکہ سبق پڑھنے اور عالم ہونے ميں تناسب موجود ہے اور جو بھي زيادہ پڑھتا ہے وہي عالمترين ہوسکتا ہے- پس استاد نے يہاں ايک عام معيار متعارف کرايا ہے اور واضح کيا ہے کہ پڑھنا اور مطالعہ کرنا عالم ہونے کے مترادف ہے اور يہ معيار کسي خاص فرد کے لئے مختص نہيں ہے-

اس موضوع سے استفادہ کرنے کے لئے آيت کي طرف لوٹتے ہيں-

خداوند متعال نے اس آيت ميں ارشاد فرمايا ہے کہ اس کي ذات باري اور اس کے رسول (ص) کے بعد وہ لوگ مؤمنين کے ولي اور سرپرست ہيں- ہم يہاں ديکھتے ہيں کہ رکوع کي حالت ميں زکواة دينے اور مؤمنين کي سرپرستي ميں کوئي تناسب نہيں ہے- پس وہ وصف جو اس آيت ميں اس کے وسيلے سے، (وہ) مؤمنين (جو دوسروں پر ولايت رکھتے ہيں) متعين اور مشخص ہوگئے ہيں، وصف اول ہي ہے- اور خدا نے ايک علامت اور ايک نشاني ايک خاص وقت ميں دي ہے تا کہ واضح کردے کہ اس کي اپني ولايت اور اس کے رسول (ص) کي ولايت کے بعد مؤمنين کا ولي و سرپرست کون ہے- آيت کي شان نزول سے واضح ہے کہ مشاہدہ کيا جاسکتا ہے کہ اس کا مصداق علي بن ابي طالب عليہ السلام کے سوا کوئي نہيں ہے- نيز اس آيت سے يہ بھي واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالي کے نزديک پسنديدہ اعمال ميں سے ايک رکوع کي حالت ميں زکواة دينے سے عبارت ہے-