• صارفین کی تعداد :
  • 3074
  • 3/23/2012
  • تاريخ :

آيت ولايت؛ خدا، رسول خدا اور علي (ع) ہي مؤمنين کے سرپرست 14

بسم الله الرحمن الرحیم

--- ليکن جب ان آيات کي شان نزول کي طرف رجوع کرتے ہيں تو ديکھتے ہيں کہ گو کہ اللہ تعالي نے ان آيات ميں منافقين کو مورد خطاب قرار ديا ہے اور منافقين کے لئے حکم صادر فرمايا ہے ليکن اس کا مصداق "عبداللہ بن ابي" تھا- (اس بيان کو تفسير طبري نيز تفسير سيوطي ميں ابن عباس کے حوالے سے ان آيات کے ذيل ميں ديکھا جاسکتا)-

ہم يہاں اختصار کا لحاظ رکھتے ہوئے صرف آيات اور ان کے ذيل ميں مفسرين کے بيان کا حوالہ ديتے ہيں:

1- سورہ آل عمران، آيت 181 (تفسير قُرطُبي، ج4، ص294)

2- سورہ توبہ، آيت 61 (تفسير قرطبي، جلد 8، ص192 - تفسير خازن، جلد 2، ص253)-

3- سورہ نساء، آيت 10 (تفسير قرطبي، ج5، ص53 - الإصابہ، ج3، ص397)-

4- سورہ ممتحنہ، آيت 8 (بخاري؛ مسلم؛ احمد؛ ابن جرير ـ ابن ابي حاتم؛ نيز تفسير قرطبي، ج18، ص59)-

5- سوره مائده، آيه 41 (تفسير قرطبي، ج6، ص177 - الإصابہ ج2، ص326)-

مذکورہ مطالب و مباحث سے ہم اس نتيجے پر پہنچتے ہيں کہ مفرد کے لئے جمع کا لفظ استعمال کرنا درست ہے اور اس کي متعدد مثاليں موجود ہيں- دوسري طرف سے يہ آيت جمع کا لفظ لا کر ايک فرد کو ولي کے طور پر مد نظر رکھتي ہے جس سے اس کے معني ميں وسعت آتي ہے اور وہ يوں کہ خداوند متعال نے جمع کا لفظ استعمال کرکے بالواسطہ طور پر مؤمنين سے ارشاد فرمايا ہے کہ گو کہ تم سب ولي نہيں ہوسکتے ليکن دو عبادتيں بيک وقت بجا لاسکتے ہو جس طرح کہ اميرالمؤمنين علي ابن ابي طالب عليہ السلام نے دو عبادتيں بيک وقت انجام ديں اور ايک عبادت کو دوسري کي وجہ سے مؤخر نہيں کيا- (يہ مسئلہ مندرجہ بالا سطور ميں زيادہ تفصيل کے ساتھ بيان کيا گيا ہے)-