• صارفین کی تعداد :
  • 2938
  • 3/23/2012
  • تاريخ :

آيت ولايت؛ خدا، رسول خدا اور علي (ع) ہي مؤمنين کے سرپرست 17

بسم الله الرحمن الرحیم

5- مؤمنين بايد در تمامي امور به وليّ خويش مراجعه نمايند و از او پيروي نمايند و او را الگوي خويش قرار دهند-

آيت ولايت :

"اِنّما وَليّکم الله و رسوله والّذين آمنوا الّذين يقيمون الصّلوة و يؤتون الزّکاة و هم راکعون"-

تمہارا حاکم و سر پرست بس اللہ ہے اور اس کا پيغمبر اور وہ ايمان رکھنے والے جو نماز ادا کرتے ہيں اور خيرات ديتے ہيں اس حالت ميں کہ وہ رکوع ميں ہيں-

يہ آيت اميرالمؤمنين علي ابن ابيطالب عليہ السلام کي شان ميں نازل ہوئي ہے اور آپ کے زمانے ميں کوئي بھي اس حقيقت کا منکر نہيں ہوا ہے- حتي بعض لوگوں نے اسي زمانے ميں حضرت علي عليہ السلام کي تقليد کرتے ہوئے يہ عمل کئي بار دہرايا ليکن ان کي شان ميں آيت نازل نہيں ہوئي (حالانکہ وہ آيت نازل کروانے کے لئے يہ سب کرتے رہے تھے)-

ائمۂ ہُدي اور ان سب سے مقدم حضرت اميرالمؤمنين علي عليہ السلام نے اپنے مباحثات و مناظرات ميں مخالفين کے سامنے اس آيت اور اس کي شان نزول کا حوالہ ديا ہے جن مسلمانوں کے درميان کسي قسم کا اختلاف ہ تھا-

احاديث ميں آيت کي شان نزول کي اسناد

يہ حديث اور يہ واقعہ اس مضمون اور اسي کيفيت ميں بہت سے مفسرين عظام اور علمائے اعلام نے نقل کيا ہے؛ منجملہ شيخ ابوالفتوح رازي اور شيخ ابو علي: فضل بن حسن طبرسي اور صاحب غايۃالمرام، تفسير برہان ميں سيد ہاشم بحراني اور ابن طاؤس، علامہ اميني (رہ) اس حديث کو بعينہ ابواسحاق ثعلبي سے نقل کرتے ہيں اور ثعلبي اس آيت کے ذيل ميں لکھتے ہيں:

"يہ واقعہ اور اس آيت کي شان نزول بہت سے مفسرين عظام اور علماء اعلام نے اپني کتب ميں نقل کي ہے؛ جن ميں درج ذيل مفسرين اور ان کي تفسيريں شامل ہيں:

طبرى اپني تفسير کي  جلد 6 صفحہ 165 پر ابن عباس، عتبہ ابن ابي حکم اور مجاہد کے واسطے سے-