• صارفین کی تعداد :
  • 2977
  • 3/23/2012
  • تاريخ :

آيت ولايت؛ خدا، رسول خدا اور علي (ع) ہي مؤمنين کے سرپرست 20

بسم الله الرحمن الرحیم

اور حسن بن علي العلوي اپنے دادا سے اور وہ احمد بن يزيد سے اور وہ عبدالوہاب سے اور وہ مُخلّد سے، مخلد مبارک سے اور مبارک حسن سے روايت کرتے ہيں کہ عمر بن خطاب نے کہا: ميں نے اپنے ايک مال سے صدقہ نکال کر ايک سمت رکھ ديا اور اس کو چوبيس حصوں ميں تقسيم کرکے مختلف افراد کے ذريعے 24 مرتبہ رکوع کي حالت ميں سائلوں کو دلوايا اور مجھے اميد تھي کہ جو کچھ علي (ع) کے بارے ميں نازل ہوا ميرے بارے ميں بھي نازل ہوجائے ليکن نازل نہيں ہوا-

ايک شبہہ اور اس کے جوابات:

خداوند متعال نے ارشاد فرمايا ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ مَن يَرْتَدَّ مِنکُمْ عَن دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْکَافِرِينَ يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللّهِ وَلاَ يَخَافُونَ لَوْمَةَ لآئِمٍ ذَلِکَ فَضْلُ اللّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ وَاللّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ (سورہ مائدہ آيت 54)

اے ايمان لانے والو ! جو تم ميں سے ان اپنے دين سے پلٹ جائے تو کوئي بات نہيں بہت جلد اللہ ايک جماعت کو لائے گا جنہيں وہ دوست رکھتا ہو گا اور وہ اسے دوست رکھتے ہوں گے، وہ ايمان والوں کے سامنے نرم ہوں گے اور کافروں کے مقابلہ ميں سخت ، وہ اللہ کي راہ ميں جہاد کريں گے اور کسي ملامت کرنے والے کي ملامت کي پروانہ کريں گے يہ اللہ کا فضل و کرم ہے جسے چاہتا ہے، وہ عطا کرتا ہے اور اللہ بڑي سمائي والا ہے، بڑا جاننے والا - 

بعض لوگوں نے کہا کہ آيت ابوبکر بن ابي قحافہ کي شان ميں نازل ہوئي اور يہي آيت ابوبکر کي خلافت کي دليل ہے-

جواب نمبر1: اس آيت ميں ايک قوم يا گروہ کي بات ہے جو اللہ تعالي لائے گا ((يأتي الله بقوم)) جبکہ ابوبکر اور ان کے ساتھي ايک قوم کا مصداق نہيں ہوسکتے-