• صارفین کی تعداد :
  • 2004
  • 3/23/2012
  • تاريخ :

حديث غدير اميرالمؤمنين (ع) کي نگاہ ميں 1

علي(ع)

بقلم محمد محمديان تبريزى

حديث غدير مدينہ منورہ ميں

حديث غدير مسلمانوں کے نزديک صحيح اور متواتر حديث ہے اور سب کا اعتراف ہے کہ روز غدير رسول اللہ (ص) نے خدا کے حکم سے اميرالمؤمنين علي عليہ السلام کو ولايت و خلافت کا منصب سونپ ديا ہے ليکن اس کے باوجود بعض لوگ پوچھتے ہيں: اگر غدير خم کا واقعہ واقعاً رونما ہوا ہے اور ہزاروں مسلمان اس کے گواہ اور شاہد ہيں تو اميرالمؤمنين عليہ السلام نے اپني حقانيت کے اثبات کے لئے غدير کا حوالہ نہيں ديا ہے؟

اس گروہ کا کہنا ہے کہ چونکہ اميرالمؤمنين (ع) نے اس واقعے س استشہاد نہيں کيا اور اس کا حوالہ نہيں ديا اسي لئے "يا تو يہ واقعہ رونما ہي نہيں ہوا ہے اور اگر رونما ہوا بھي ہے تو اميرالمؤمنين کي ولايت کي دليل نہيں ہے-

ہم کہتے ہيں: اگر حديث غدير کو قطعي الصدور اور متواتر قرار نہ ديں تو ہميں يہ بھي تسليم کرنا پڑے گا کہ پيغمير اکرم (ص) کي احاديث ميں کوئي بھي قطعي اور متواتر حديث موجود نہيں ہے- اور جو لوگ کہتے ہيں کہ اميرالمؤمنين (ع) نے اس حديث سے استناد نہيں کيا ہے تو يہ دعوي ان کي ناآگہي اور بے اطلاعي کي دليل ہے-

اسلامي مکاتب کي معتبر کتب کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اميرالمؤمنين (ع) نے 22 بار اس حديث کا حوالہ ديا ہے- گوکہ اس مقالے ميں تمام استشہادات ذکر کرنے کي گنجائش نہيں ہے ليکن يہاں ہم صرف اس سوال کا جواب دينے اور اس ابہام کو دور کرنے کے لئے صرف اسناد اور حوالہ جات پر اکتفا کرتے ہيں:

حديث غدير مسجدالنبي (ص) ميں

اميرالمؤمنين (ع) نے سب سے پہلے رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کے وصال کے بعد مسجد النبي (ص) ميں اس حديث سے اسشہاد و استناد کيا-

--------------

منبں مجله كوثر شماره 2