• صارفین کی تعداد :
  • 1876
  • 3/23/2012
  • تاريخ :

علي (ع) جنہيں اب تک کسي نے پہچانا نہيں 1

من کنت مولاه فهذا علي مولاه

مجھے ياد ہے جب ميں ايک نونہال بچہ ہي تھا جب زمين سے اٹھنے لگتا مجھے سکھايا گيا تھا کہ "يا علي" کہہ کر انہيں پکاروں- جب ميں کوئي بوجھ يا کوئي وزن اٹھاتا ياعلي کہتا، يا علي کا يہ نعرہ کيا تھا اور علي کون تھے؟ مجھے معلوم نہ تھا-

آج ميں کافي بڑا ہوگيا ہوں اور علي عليہ السلام کي سيرت کے بارے ميں کـچھ پڑھ لکھ گيا ليکن وہ سوال اپني جگہ قائم ہے اقرار ہے ميرا کہ آج بھي کچھ نہيں جانتا آج بھي اٹھتا ہوں ياعلي کہتا ہوں جب کوئي مسئلہ پيش آتا ہے يا کسي مشکل سے دوچار ہوجاتا ہوں يا علي کہتا ہوں ليکن ميں آج بھي نہيں جانتا کہ يہ علي کون ہيں- آج بھي نہيں جانتا علي کے بارے ميں سوائے سمندر ميں سے ايک قطرے کے برابر يا اس سے بھي کم-

مولانا روم کہتے ہيں:

در شجاعت شير ربانيستي

در مروت خود که داند کيستي؟

شجاعت ميں رباني شير ہيں آپ

مروت ميں کوئي کيا جانے کہ آپ کون ہيں؟

مفکر و فيلسوف شرق بوعلي سينا علي کي تشبيہ کے حوالے سے کہتے ہيں:

علي عليه السلام اصحاب کي نسبت، محسوس کي نسبت معقول کي مانند تھےاور اگر دوسرے اصحاب محسوسات کي مانند تھے تو علي عليہ السلام معقول تھے- [يعني محسوسات اگر آساني سے قابل ادراک ہيں اور جلدي پہچانے جاسکتے ہيں تو علي عليہ السلام کو پہچاننا کارے دارد- نيز کہتے ہيں: علي عليہ السلام رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کے اصحاب ميں اجسام ماديہ کي نسبت عقول قاہرہ کي مانند تھے- [يعني اگر اصحاب اجسام ماديہ تھے تو علي عليہ السلام عقول قاہرہ ميں سے تھے]-

اور ہاں! علي عليہ السلام کے وجود شريف کے کس پہلو کا جائزہ ليا جاسکتا ہے؟ شجاعت، عدل و انصاف، ايثار، درگذشت، علم، آگہي اور معرفت ، زہد و تقوي اور ----؟


متعلقہ تحريريں:

حديث غدير اميرالمۆمنين (ع) کي نگاہ ميں 16