• صارفین کی تعداد :
  • 1484
  • 3/23/2012
  • تاريخ :

ولايت علي عليہ السلام کي معرفت 4

بسم الله الرحمن الرحیم

ولايت علي عليہ السلام کي معرفت 1

ولايت علي عليہ السلام کي معرفت 2

ولايت علي عليہ السلام کي معرفت 3

بقلم حميد قرباني

عبدلرحمن بن ابي ليلي نے بھي کہا ہے: "علي عليہ السلام کي شان ميں کتاب اللہ ميں 80 خالص آيتيں نازل ہوئي ہيں اور کوئي بھي دوسرا ان آيتوں ميں ان کے ساتھ شريک نہيں ہے"- (10)

آنے والي سطور ميں ان حقائق کو مختصر طور پر پيش کيا جارہا ہے چنانچہ تفصيل سے اجتناب کيا گيا ہے-

1- رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کي جان اور نفس

علي عليہ السلام ارشاد فرماتے ہيں: فان النصارى ادعوا أمرا فأنزل الله عزوجل فيه "فمن حاجك فيه من بعد ما جاءك من العلم فقل تعالوا ندع أبناءنا وأبناءكم ونساءنا ونساءكم وأنفسنا و أنفسكم ثم نبتهل فنجعل لعنة الله على الكاذبين"(11)، فكان نفسي نفس رسول الله صلى الله عليه وآله و النساء فاطمة عليها السلام والابناء الحسن والحسين، ثم ندم القوم فسألوا رسول الله صلى الله عليه وآله الاعفاء فأعفاهم والذي أنزل التوراة على موسى والفرقان على محمد صلى الله عليه وآله لو باهلونا لمسخوا قردة وخنازير. (12)

عيسائيوں نے کچھ دعوي کيا جس پر اللہ تعالي نے ان کے لئے يہ آيت نازل فرمائي:  اب جو شخص اس بارے ميں آپ سے کٹ حجتي کرے‘اس کے بعد کہ يہ علمي دلائل آپ کے پاس آگئے تو کہہ ديجيے کہ آۆ ہم بلاليں اپنے بيٹوں کو اور تمہارے بيٹوں کو اور اپني عورتوں کو اور تمہاري عورتوں کو اور اپنے نفسوں کو اور تمہارے نفسوں کو- پھر التجا کريں اور اللہ کي لعنت قرار ديں جھوٹوں پر؛ چنانچہ ميري جان رسول اللہ (ص) کي جان ہے اور نسائنا کا مصداق حضرت فاطمۃالزہراء (س) تھيں اور ابنا‏ئنا کا مصداق امام حسن اور امام حسين (ع)؛ اور اس کے بعد عيسائيوں کا گروہ نادم و پشيمان ہوگيا اور رسول اللہ (ص) سے معافي مانگي پس رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم نے مباہلے کے لئے آئے ہوئے عيسائيوں کو معاف کرديا؛ قسم ہے اس ذات اقدس کي جس نے تورات کو موسي (ع) پر اور فرقان کو محمد (ص) پر نازل فرمايا کہ اگر وہ ہمارے ساتھ مباہلہ کرتے تو اللہ تعالي ان کو مسخ کرکے بندروں اور سوروں ميں تبديل کرتا"-

-------------

مآخذ:

10. شواهد التنزيل 1/55/55-

11. آل عمران / 61-

12. خصال شيخ صدوق ص576- الميزان في تفسير القرآن ج3 ص230-