• صارفین کی تعداد :
  • 1446
  • 3/24/2012
  • تاريخ :

ولايت علي عليہ السلام کي معرفت 12

امام علی

ولايت علي عليہ السلام کي معرفت 8

ولايت علي عليہ السلام کي معرفت 9

ولايت علي عليہ السلام کي معرفت 10

ولايت علي عليہ السلام کي معرفت 11

بقلم حميد قرباني

جب منافقين کو معلوم ہوا کہ علي عليہ السلام مدينہ سے نہيں نکليں گے اور انھوں نے اپني سازش ناکام ہوتي ہوئي ديکھي تو چارہ کار ڈھونڈنے لگے تا کہ علي عليہ السلام کو مدينہ سے نکلنے پر مجبور کيا جاسکے؛ چنانچہ انھوں نے افواہ اڑا دي کہ رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کے ساتھ علي عليہ السلام کے تعلقات خراب ہوگئے ہيں اور علي (ع) رسول اللہ (ص) کي بے رخي سے دوچار ہوگئے ہيں اور اس کا ثبوت يہ ہے کہ رسول اللہ (ص) نے علي (ع) کو اس اسلامي جہاد ميں شرکت کي اجازت نہيں دي ہے-

علي (ع) ابتدائے ولادت سے اُس لمحے تک رسول اللہ (ص) کي شفقت و محبت کے سائے ميں جيتے رہے تھے اور يہ افواہ علي (ع) کے دوستوں [شيعيان علي (ع)] کے لئے پريشان کن تھي؛ چنانچہ علي (ع) رسول اکرم (ص) کي خدمت ميں حاضر ہوئے جو مدينہ سے چند ميلوں کے فاصلے پر تھے اور آپ (ص) کو حقيقت حال سے آگاہ کيا-

چنانچہ رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم نے علي عليہ السلام کي منزلت اپنے تاريخي جملے سے بيان فرمايا: "أَ مَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي، انه لا ينبغي أنا اذهب الا و انت خليفتي"- (33) 

کيا آپ اس چيز پر راضي نہيں ہيں کہ آپ کي نسبت ميرے ساتھ ايسے ہو جيسے ہارون کي موسي کي تھي، مگر يہ کہ ميرے بعد کوئي نبي نہ ہوگا؛ يہ درست نہيں ہے کہ ميں مدينہ سے چلا جاğ اور آپ کو خليفہ اور جانشين مقرر نہ کروں-

2- حديث سفين ‍ ۂ نوح

رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم نے فرمايا: "أَهْلِ بَيْتِي فِي أُمَّتِي كَمَثَلِ سَفِينَةِ نُوحٍ فِي قَوْمِهِ مَنْ رَكِبَهَا نَجَا وَ مَنْ تَرَكَهَا غَرِقَ"- (34)

امت ميں ميرا خاندان نوح عليہ السلام کي کشتي کي مانند ہے جو اس کشتي ميں سوار ہوگا نجات پائے گا اور جو اس کو ترک کرے گا ڈوب جائے گا-

-------------

مآخذ:

33. ينابيع الحکمة 1/ 1-

34. احتجاج طبرسي 1/ 238 – عيون الاخبار ابن قطيبه 1/ 211-