• صارفین کی تعداد :
  • 2258
  • 3/24/2012
  • تاريخ :

رسول خدا سے اميرالمۆمنين کي قربت کے پہلو 18

امام علی

رسول خدا سے اميرالمۆمنين کي قربت کے پہلو 14

رسول خدا سے اميرالمۆمنين کي قربت کے پہلو 15

رسول خدا سے اميرالمۆمنين کي قربت کے پہلو 16

رسول خدا سے اميرالمۆمنين کي قربت کے پہلو 17

جب رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کي نظر ان دو پر پڑي تو ان سے اپني نظريں ہٹا ديں اور فرمايا: ميرے بھائي کو ميرے پاس حاضر کرو- چنانچہ علي عليہ السلام کو بلوايا گيا اور جب رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کي نظريں ان پر پڑيں تو ان کي طرف متوجہ ہوئے اور ان سے حديث کہہ دي اور جب باہر آئے تو ان دو افراد (عمر اور ابوبکر) نے ان سے پوچھا: آپ کے دوست نے آپ سے کيا کيا: فرمايا: آپ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم نے مجھے علم و دانش کے ايک ہزار باب عطا کئے اور ان ميں سے ہر باب ايک ہزار ابواب کي کنجي ہے- (28)

بے شک علي عليہ السلام کے سوا کوئي بھي رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کي خلافت و وصايت اور امانت کا لائق نہ تھا اور اسي بنا پر اللہ تعالي نے ارشاد فرمايا:"وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ أُوْلَئِكَ الْمُقَرَّبُونَ" (29) (اور وہ جو سبقت کرنے والے پورے پورے سبقت کرنے والے ہيں يہ لوگ خاص مقرب افراد ہيں)- اور بالکل اسي بنا پر خداوند متعال نے حضرت علي (ع) کي ولايت و خلافت کے حکم کے ابلاغ کو رسالت نبي صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کي تکميل قرار ديا اور فرمايا: اگر آپ نے ولايت و وصايت کا اعلان نہ کيا تو گويا آپ نے ابلاغ رسالت کي ذمہ داري ہي نہيں نبھائي اور فرمايا کہ "ميں خود ہي ولايت کا حامي اور حاميان ولايت کا نگہبان ہوں اور ولي کے پيروکاروں کي خود ہي حفاظت کرتا ہوں چنانچہ ارشاد فرماتا ہے: "وَاللّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ"- ((30) اللہ لوگوں سے آپ کي حفاظت کرے گا)...

---------

مآخذ

28- اصول كافى جلد 2 صفحه 61 رواية 4-

29- سورہ واقعہ آيات 10 و 11-

30- سورہ مائده آيت 67-