• صارفین کی تعداد :
  • 2207
  • 3/24/2012
  • تاريخ :

رسول خدا سے اميرالمۆمنين کي قربت کے پہلو 22

امام علی

رسول خدا سے اميرالمۆمنين کي قربت کے پہلو 18

رسول خدا سے اميرالمۆمنين کي قربت کے پہلو 19

رسول خدا سے اميرالمۆمنين کي قربت کے پہلو 20

رسول خدا سے اميرالمۆمنين کي قربت کے پہلو 21

... چنانچہ رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم يمنيوں پر اتمام حجت کرنے کے لئے علي (ع) کو يمن روانہ کيا اور ايک مراسلہ انہيں دے ديا اور فرمايا کہ يمنيوں کے لئے پڑھ ليں اور علي عليہ السلام نے اشتياق کامل اور پوري قوت سے يمن کا سفر اختيار کيا اور يمنيوں کي اکثريت کو مسلمان کيا اور واپس آگئے-

سورہ برائت نازل ہوئي تو رسول خدا صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم نے علي عليہ السلام کو حکم ديا کہ يہ سورت لے کر مکہ پہنچيں اور اہل مکہ کے لئے اس کي تلاوت کريں- آپ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم نے علي (ع) کو اس مہم پر روانہ کرتے ہوئے اپنا عمامۂ مبارک آپ کے سر پر سجايا اور آپ (ع) کو اپني اونٹني پر سوار کرکے مکہ معظمہ روانہ کيا اور آپ (ع) کے حق ميں دعا فرمائي- ہرمنصف شخص اس حقيقت کا اقرار کرتا ہے کہ مکہ پر ابھي مشرکين کا تسلط قائم تھا اور سورہ برا‏ئت ميں کفار و مشرکين کے لئے پہلي بار سخت لب و لہجہ اپنايا گيا تھا اور يہ سورت مکہ پر مسلط کفار و مشرکين کو سنانے کے لئے عظيم شجاعت اور جانفشاني کي ضرورت تھي اسي بنا پر رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم نے فرمايا کہ اللہ نے مجھے حکم ديا ہے کہ يہ سورت اپنے "اہل" کو دے کر مکہ معظمہ بھجواديں- اور رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم نے علي (ع) کو اس مہم کے لئے منتخب فرمايا کيونکہ علي (ع) سے زيادہ کوئي بھي اس عظيم مہم سر کرنے کا اہل نہ تھا-

علاوہ بريں حضرت علي (ع) رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کي جانب سے مختلف اديان و مذاہب کے علماء اور عيسا‏ئي دانشوروں کے پاس جايا کرتے تھے اور ان کے سوالات کا جواب ديا کرتے تھے اور ان کے فکري تضادات کا حل پيش کيا کرتے تھے---

.........