• صارفین کی تعداد :
  • 1989
  • 3/24/2012
  • تاريخ :

رسول خدا سے اميرالمۆمنين کي قربت کے پہلو 23

امام علی

رسول خدا سے اميرالمۆمنين کي قربت کے پہلو 19

رسول خدا سے اميرالمۆمنين کي قربت کے پہلو 20

رسول خدا سے اميرالمۆمنين کي قربت کے پہلو 21

رسول خدا سے اميرالمۆمنين کي قربت کے پہلو 22

... اور اسلام کے دين اکمل و اتمّ کو صيح اور عالمانہ منطق کے ساتھ ان کے سامنے رکھا کرتے تھے- حتي ابتدائے طلوع اسلام کے زمانے ميں دعوت ذوالعشيرہ کا حکم آيا تو علي عليہ السلام نے اولاد ہاشم عليہ السلام اور اولاد عبدالمطلب عليہ السلام کو دعوت دينے کي ذمہ داري سنبھالي اور تمام اقارب کو بلايا جن ميں ابولہب بھي شامل تھا-

علي عليہ السلام نے اسلام کي ترويج اور اس کي بنياديں مضبوط کرنے کے راستے ميں بڑي تکليفين اٹھائيں اور زخموں کے متحمل ہوئے، جاہلين اور معاندين کے سامنے جاکر رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کي طرف پھينکے گئے پتھر اپنے جسم پر برداشت کرتے رہے ليکن کبھي بھي آپ عليہ السلام کي طرف سے ديئے گئے فرامين سے پہلوتہي نہيں کي، کبھي اعتراض و احتجاج نہيں کيا، کبھي شکوہ نہيں کيا اور کبھي بھي رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کے سامنے جھيلے ہوئے مصائب کا ذکر نہ کيا اور کبھي بھي ذمہ داري پوري کرنے سے قبل چين سے بيٹھنا گوارا نہ کيا- رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کے ساتھ مہمات ميں جاتے تو آپ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کے لئے ڈھال بن جاتے اور جيسا کہ نقل ہوا ہے، شعب ابي طالب عليہ السلام ميں ـ جب رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم بنوہاشم کے ساتھ تين سال تک ہمہ جہت محاصرے کے دوران جبکہ قريشيوں نے نگہبان مقرر کئے تھے اور شعب ابي طالب عليہ السلام پر نظر رکھے ہوئے تھے ـ علي عليہ السلام راتوں کو شعب سے نکل کر محصور بنو ہاشم کے لئے اشياء خورد و نوش فراہم کيا کرتے تھے- آپ اس وقت اٹھارہ يا بيس سال کے نوجوان تھے- (35) ...

--------

مآخذ

35ـ شرح نہج البلاغہ ابن ابي الحديد،  ج 14، ص 64.