• صارفین کی تعداد :
  • 6616
  • 11/30/2013
  • تاريخ :

احمد عابدی

احمد عابدی

احمدعابدی(1906ء-1993ء)  جديد ایرانی موسيقي کے ايک عظيم  استاد تھے  - ستار کو مقبول کروانے ميں انہوں نے  ايک اہم کردار ادا کيا- وہ علي اکبر فاراني (متوفي 1858) کا پوتا تھا اور مرزا عبداللہ (متوفي 1918) کا بيٹا  تھا- وہ ايراني موسيقي کے سب سے زيادہ غيرمعمولي خاندان کے ايک رکن تھے. احمد فاراني اپنے وقت کےعظيم استاد تھے- ان کے  چچا ‎مرزا حسين بھي ايک باصلاحيت موسيقار تھا.عابدي نے سات  سال  کي عمرميں اپنے والد کےساتھ تمبک پر کام کرنا شروع کرديا- احمد نے اوائل عمر ميں موسيقي سيکھنے کا آغاز کيا تو بعد ميں اس نےدو بہنوں مولود خانم اور ملوک خانم سے ستار کا سبق ليا اور اس کے بعد اپني تعليم شروع کرنے سے پہلے مختصرطورپر اپنے والد کے ساتھ کام کيا- اٹھارہ سال کي عمر ميں اس نے پہلي بار ملک زرابي کے ساتھ ايک موسيقي کنسرٹ ميں حصہ ليا- اس کے بعد وہ تہران ميونسپل حکومت ميں ايک اہل کار بن گيا اور بعد ميں وزارت ثقافت کا حصہ بنا- دس سال اس نے ايک ريڈيو اسٹيشن  ميں ستار کے ايک  پروگرام''گلہاي جاويدان'' ميں کام کيا جس کا ڈائريکٹر داود پيرنيا تھا- وہ ريڈيو کے ذريعے بہت سارے لوگوں کو ستار کي طرف مائل کيا- 1958ء ميں انہوں نے پيرس ميں اور اس کے بعد کئي يورپي ممالک ميں کنسرٹ کيے- انہوں نے باقاعدگي سے 1979ء تک فارس ميں ستار پروگرام منايا- عام طور پر اکيلے يا زرب کے ساتھ اور اکثرنجي حلقوں کےساتھ اپنے فن کا مظاہرہ کيا اور ان کے  فن کو بہت سراہا گيا-

عبادي نے ستار کي مقبوليت ميں ايک اہم کردار ادا کيا- کھيل کے روايتي سٹائل کے برعکس، ان کا اپنا طريقہ تھا-

وہ 1992ء ميں مرگيا، اور کرج کے طاہر قبرستان ميں دفن ہوا- سٹرنگ بورڈ  سے  ڈور کي معمولي نقل مکاني سے اس نے ستار کو بہت آسان بنا ديا تھا- ان کي موسيقي کے ميدان ميں ايک اور بہت اہم کارنامہ‌ ني دھنوں کي ايجاد ہے-

عبادي کي کوئي اولاد نہيں ہے،اورنہ ہي اس نے بہت  سے طالب علموں کي تربيت کي- اس کے بہت ہي کم شاگردتھے ليکن اس کے باوجود ان کي طرز کي لوگوں کي ايک بڑي تعداد نے نقل کي - اگرچہ وہ مشورے کے بارے ميں بہت شائستہ تھا، ليکن تعليمي ميدان پرانہوں نے ان کے ذاتي سٹائل کو جگہ دينے کي کوشش کبھي نہيں کي- عبادي کے مطابق ستار اس کے دل کو چھوتا ہے- اس کا خيال تھا کہ ستار کو کھلي ہوا ميں نہيں بجانا چاہيے- ان کے خيال ميں ستار کو سننے کے ليے دو سے زيادہ آدميوں کا ہونا ضروري ہے-

 

ترجمہ: مہدیہ نژادشیخ


متعلقہ تحریریں:

شيخ محمد خياباني

سيد محمود گلابدرہ  ايک اہم ادبي شخصيت