• صارفین کی تعداد :
  • 6088
  • 12/7/2013
  • تاريخ :

استاد محمد جعفر طبسي کے ساتھ ابنا کي گفتگو

استاد محمد جعفر طبسی کے ساتھ ابنا کی گفتگو

استاد محمد جعفر طبسي کے ساتھ ابنا کي خصوصي گفتگو

 استاد محمد جعفر طبسي کے ساتھ گفتگو

 

 

ابنا: اس وقت بقيع ميں تمام قبريں بغير نام و نشان کے ہيں - ليکن پراني تصاوير سے معلوم ہوتا ہے کہ بقيع ميں ان قبور پر گنبد اور مقبرے بنے ہوئے تھے- کيا بقيع ہميشہ سے ايسي غير معمولي حالت ميں تھي؟

نہيں بقيع ہميشہ سے ايسے نہيں تھي- بقيع ميں ائمہ معصومين(ع) اور بہت سارے صحابہ کي قبروں پر مقبرے بنے ہوئے تھے-

 

ابنا: ائمہ معصومين(ع) کي قبروں پرسب سے پہلے بنائے گئے روضے کي تاريخ کي بارے ميں کچھ بيان کر سکتے ہيں؟

بقيع ميں مدفون ائمہ معصومين(ع) کي قبروں پر سب سے پہلے بنائے گئے روضے کي تاريخ دقيق معلوم نہيں ہے- ليکن مجموعي طور پر قرآئن يہ بتاتے ہيں کہ پانچويں صدي ہجري کے بعد بقيع کي قبور پر روضہ بنا ہوا تھا- يعني ’’مجد الملک‘‘ کے زمانے ميں جو 492 ہجري ميں قتل کيے گئے اور ذہبي انہيں ايک عظيم انسان کے عنوان سے ياد کرتے ہيں يہ روضہ تعمير تھا-

اس بات کي طرف توجہ کرتے ہوئے کہ بقيع کا معمار، مجد الملک کے دور ميں ہي قتل کر ديا گيا يہ معلوم ہو سکتا ہے کہ بقيع ميں ائمہ معصومين(ع) کي قبروں پر روضہ پانچويں صدي ہجري ميں تعمير کيا گيا ہو گا-

 

ابنا: اس سلسلے ميں کچھ مکتوب اسناد پائي جاتي ہيں؟

بہت ساري اسناد ہيں- مثال کے طور پر معروف سياح ابن جبير متوفيٰ 614 ہجري نے روضہ بقيع کے بارے ميں ايک دقيق جملہ لکھا ہے جس کا ترجمہ عرض کرتا ہوں وہ کہتے ہيں: ’’وہ بلند اور فلک نما گنبد ہے جو بقيع کے دروازے کے پاس واقع ہے‘‘- يہ بات بالکل صحيح اور حقيقت کي عکاسي کرتي ہے اور اس بات کي نشاندہي کرتي ہے کہ ہم اس وقت بقيع ميں جس جگہ پر ائمہ کي قبروں کي زيارت کرتے ہيں وہ درست ہے-

معروف مورخ اسلام ابن نجار کہ جو ساتويں صدي ہجري کے مورخين ميں سے تھے روضہ بقيع کے بارے ميں کہتے ہيں: ’’ يہ بزرگ اور بلند گنبد ايک طولاني تاريخ کا حامل ہے- اس بارگاہ کے دو دروازے ہيں کہ جن ميں سے ايک ہر روز کھلتا ہے‘‘-

ايک اور اہم نکتہ اس سلسلے ميں پايا جاتا ہے جوروضہ بقيع کي تعمير کے بارے ميں ہے- اہلسنت کي تواريخ ميں آيا ہے کہ سن 519 ھ ميں عباسي خليفہ المسترشد باللہ نے ائمہ بقيع کي قبور پر روضہ اور گنبد کي تعمير نو کروائي- يعني پہلے سے ان قبروں پر ايک گنبد بنا ہوا تھا جس کي سن 519 ھ ميں دوبارہ تعمير کروائي گئي-

 

ابنا: بنابرايں، اس دور کے اہلسنت نہ صرف ائمہ اطہار(ع) کي قبروں پر روضے بنانے کے مخالف نہيں تھے بلکہ خود تعمير کرتے تھے-

جي ہاں، کليدي نکتہ يہي ہے- اہلسنت کے بزرگ علماء کي کتابوں سے يہ معلوم ہوتا ہے کہ بارگاہ بقيع ہزار سال پراني تاريخ کي حامل ہے اور اس ہزار سال ميں کسي بھي مسلمان نے يہ نہيں کہا کہ يہ شرک اور بدعت ہے اور اسے منہدم کر دينا چاہيے-

 

ابنا: اس عظيم بارگاہ کي خصوصيات کے بارے ميں بھي کچھ منقول ہے؟

جي ہاں، تاريخي اسناد و مدارک ميں اسلامي آثار اور مقدس مقامات کي خصوصيات درج ہيں- يعني مورخين نے روضوں کے گنبدوں کي اونچائي اور چوڑائي کو بھي نقل کيا ہے- عمارتوں کي شکل وصورت کي بھي منظر کشي کي ہے جيسا کہ لکھا ہے کہ بقيع ميں تعمير شدہ روضہ آٹھ ضلعي تھا- جيسے امام حسين (ع) کا روضہ شش ضلعي ہے-  ( جاري ہے )


متعلقہ تحریریں:

"عصر عاشورا"

امام خميني (رح) ايک تاريخ ساز شخصّيت