• صارفین کی تعداد :
  • 6160
  • 12/13/2013
  • تاريخ :

استاد محمد جعفر طبسي  سے بات چيت

استاد محمد جعفر طبسی  سے بات چیت

استاد محمد جعفر طبسي کے ساتھ ابنا کي خصوصي گفتگو

 استاد محمد جعفر طبسي کے ساتھ گفتگو

استاد محمد جعفر طبسي کے ساتھ ابنا کي گفتگو

استاد محمد جعفر طبسي کے ساتھ تاريخي حقائق پر روشني

استاد محمد جعفر طبسي کا ايک انٹرويو

ابنا: بعض کا کہنا ہے کہ اھلبيت اطہار(ع) جب مسلمانوں اور شيعوں کے دلوں ميں جگہ رکھتے ہيں تو ان کي قبروں کو ويران کرنے سے کيا فرق پڑتا ہے؟ کيا يہ  بات صحيح ہے؟

يہ بات اشتباہ اور ميري نظر ميں ايک مغالطہ ہے- اس مغالطہ کا جواب دينے کے ليے ہميں قرآن کي طرف رجوع کرنا ہو گا- ديکھيں قرآن اس سلسلے ميں کيا کہتا ہے؟

قرآن کريم ميں ارشاد ہے: "قل لا اسئلکم عليه اجراً الاّ المودة في القربي". يعني کيا؟ يعني اے پيغمبر جو آپ نے 23 سال مکہ و مدينہ ميں اس امت کے ليے زحمتيں اٹھائي ہيں اب اس امت سے کہيں کہ ميں جو تمہارا نبي ہوں تم سے اپني تئيس سالہ زحمات کا اجر چاہتا ہوں اور وہ اجر يہ ہے کہ تم ميرے اہلبيت اور ميري اولاد سے محبت کرو- اب ہمارا ان وہابيوں سے يہ سوال ہے کہ انصاف سے بتائيں کيا اولاد رسول(ص) کي قبروں کو آباد رکھ کر اظہار محبت کيا جانا عقل کے نزديک مناسب ہے يا قبروں کو اجھاڑ کر محبت کرنا مناسب ہے؟ کس طريقے سے اجر رسالت ادا ہو گا؟

دوسرے الفاظ ميں، اگر ہم ہتھوڑا اٹھائيں اور اولاد رسول(ص) کي قبروں کو توڑنا شروع کريں تو يہ محبت اہلبيت (ع) کے ساتھ زيادہ سازگار ہے يا ان کي قبروں کو آباد کرنا اور نجف و کربلا اور مشھد کي طرح روضے تعمير کر کے انکا احترام کرنا زيادہ مناسب ہے؟

آپ کو خدا کا واسطہ عقل سے استفادہ کريں اور انصاف سے کام ليں! ان دوکاموں ميں سے کون سا کام اس آيت کے مفہوم سے زيادہ قريب ہے؟ جو کام تم لوگوں نے ايک صدي پہلے انجام ديا وہ يا يہ کام جو ہم کربلا و نجف يا مشھد انجام ديتے ہيں؟ کون سا کام محبت اہلبيت(ع) کے ساتھ سازگار ہے؟

يقينا ائمہ اطہار(ع) بقيع ميں مدفون ہيں ان کي قبروں پر روضے کا ہونا يا نہ ہونا ان کے ليے کوئي فرق نہيں رکھتا- ان سے کوئي محبت کرے يا کرے انہيں فرق نہيں پڑتا - ليکن ہمارے ليے فرق رکھتا ہے کہ ہم حکم قرآن پر عمل پيرا ہيں کہ نہيں؟ وہابي اس چيز کا جواب ديں-

ابنا: وہابيوں کے کارنامے تو صرف مدينہ اور مکہ ميں محدود نہيں تھے بلکہ عراق، شام اور ديگر جگہوں ميں بھي زيارتوں کے ساتھ وہي سلوک کرتے آ رہے ہيں؟

جي ہاں، وہابيوں نے طول تاريخ ميں ايسے ايسے کارنامے انجام دے رکھے ہيں جو قيامت تک ان کے ليے شرم و عار کا باعث ہيں- انہوں نے اس درميان خود اپنے افراد پر بھي رحم نہيں کھايا:

سن 1218 ھ ميں وہابيوں نے ’’سعود بن عبد العزيز‘‘ کي رہبري ميں نجد سے 12 ہزار افراد پر مشتمل لشکر لے کر کربلائے معلي پر حملہ کيا اور اس قدر حرم امام سيد الشھدا(ع) اور کربلا ميں رہنے والي بستيوں پر ظلم و ستم کيا کہ 61 ہجري کے واقعہ کي ياد تازہ کر دي يا واقعہ حرّہ جو کربلا کے کچھ سال بعد يزيدي لشکر کے ہاتھوں انجام پايا کي تاريخ دھرا دي- بوڑھوں بچوں کا قتل عام اور عورتوں کو لشکر والوں پر حلال کرنا، يہ يزيدي سيرت ہے نہ اسلامي؟-

جس طرح سے واقعہ حرّہ ميں لشکر يزيد نے حرمت حرم رسول(ص) کو پامال کيا تھا اسي طرح 1218 کے واقعہ ميں وہابي تکفيريوں نے حرمت حرم سيد الشھدا(ع) کو پامال کيا- حرم کو مسمار کيا، ضريح امام حسين (ع) کو اکھاڑا، کربلا ميں رہنے والے لوگوں کا بے تہاشا قتل عام کيا، ان کا يہ نعرہ تھا’’ اقتلوا المشرکين و اذبحوا الکافرين‘‘!

کيا اس وقت حرم سيد الشھدا(ع) کے اطراف ميں رہنے والے مشرک و کافر تھے؟ يا عاشقان اہلبيت(ع تھے؟ رسول کا کلمہ پڑھنے والے اور اولاد رسول (ص) سے محبت کرنے والے تھے؟ يا کوئي اور تھے؟ ( جاري ہے )


 متعلقہ تحریریں:

مرحوم محمد خياباني کي بہادري

مھناز رۆفي کا مختصر تعارف