• صارفین کی تعداد :
  • 7992
  • 2/20/2014
  • تاريخ :

غيبت کے زمانے ميں دين کا تحفظ 1

غیبت کے زمانے میں دین کا تحفظ 1

اگر امام کا فريضہ شريعت کا تحريف و نقصان سے تحفظ ہے، تو اس وقت امام (عج) کيونکر نقصان و تحريف سے دين کا تحفظ کرتے ہيں؟ کيا فقہاء خطاء نہيں کرتے ہيں؟

کتب کلام ميں امام (عج) کے حافظ شريعت ہونے کي دو قسميں ہيں:

1- مراد شريعت اور قرآن و سنت سے واردہ احکام کا تحفظ ہے تا کہ عصر شريعت سے روز قيامت تک باقي رہے-

2- تحفظ شريعت سے مراد تشريح و تفسير ہے؛ جس کا پيشگي فرض يہ ہے کہ "تمام احکام شريعت مسلمانوں کے لئے بيان نہيں ہوئے ہيں" بلکہ رسول اللہ (ص) نے ضرورت کے مطابق احکام بيان فرمائے ہيں اور باقي ماندہ احکام کو امام (ع) بيان کريں گے- (1)

سوال کے پہلے حصے ميں امام زمانہ (عج) کے توسط سے شريعت کے تحفظ کي کيفيت بيان کي گئي ہے اور دوسرے حصے ميں پوچھا گيا ہے کہ فقہاء کے اختلاف رائے کے باوجود دين کا تحفظ کيونکہ انجام پاتا ہے؟

بے شک نبي اکرم (ص) کے مشن کو امام (ع) ہي جاري رکھتا اور ان کے فرائض کو امام ہي انجام ديتا ہے- درج ذيل فرائض ان فرائض ميں شامل ہيں: 

1- کتاب اللہ کي تفسير اور اس کے مقاصد و اہداف کي تشريخ اور اس کے اسرار  و رموز واضح کرنا؛

2- بيان احکام؛

3- سوالات و شبہات کا جواب-

4- دين کا تحريف وغيرہ سے تحفظ...

امام کو سونپے گئے فرائض ميں ـ ہر قسم کے دستبرد اور تحريف سے ـ دين کا تحفظ بھي شامل ہے- بحث کا مرکزي نکتہ يہ ہے کہ يہ تحفظ آخري حجت الہي کي غيبت کے دور ميں کيونکر انجام پاتا ہے؟

سوال کے دونوں حصوں کے جواب ميں کيا جاسکتا ہے کہ يہ فريضہ دو صورتوں ميں انجام پاتا ہے:

1- پردہ غيبت سے ولايت باطني (ولايت تکويني)؛

2- نائبين کے توسط سے ولايت کا نفاذ اور دين کا تحفظ-

نائبين بھي دو قسم کے ہيں:

الف- نائبين خاص؛

ب- نائبين عام-

وضاحت: غيبت کے زمانے ميں حضرت حجت (عج) کي ولايت سورج کي افاديت کي مانند ہے جب وہ بادلوں ميں چھپا ہوا ہو- يہ حقيقت بھي متعدد روايات ميں بيان ہوئي ہے-

------------------

1- سديد الدين الحمصي، المنقذ من التقليد، ج 2، ص 136 ص 136-