• صارفین کی تعداد :
  • 7735
  • 2/20/2014
  • تاريخ :

غيبت کے زمانے ميں دين کا تحفظ 3

غیبت کے زمانے میں دین کا تحفظ 3

غيبت کے زمانے ميں دين کا تحفظ 1

غيبت کے زمانے ميں دين کا تحفظ 2

امام ہادي (ع) نے فرمايا: ہمارے قائم کي غيبت کے زمانے ميں علماء کي ايک جماعت لوگوں کو ان (قائم) کي امامت کي دعوت ديتے ہيں اور رباني حجتوں کے ذريعے دين کا تحفظ کرتے ہيں تا کہ ضعيف النفس مۆمنين کو شيطاني وساوس اور پيروان ابليس کو نواصب کي فريبکاريوں سے محفوظ رکھيں- اگر يہ علماء نہ ہوں تو سب دين خدا سے منحرف ہونگے- جس طرح کہ کشتي بان کشتي کي پتوار سنبھالے ہوئے ہے، علماء شيعيان اہل بيت (ع) کے دلوں کو مضبوطي سے اپنے ہاتھ ميں لئے ہوئے ہيں اور ان کے انحراف کا سد باب کرتے ہيں- وہ علماء اللہ کے ہاں بہت اعلي مرتبے کے مالک ہيں- (5)

البتہ ان نائبين عام، کے لئے بعض شرائط قرار دي گئي ہيں جو کچھ يوں ہيں:

فقہاء ميں سے جو خود دار اور نفس کو پليديوں سے بچانے والا ہو؛ حافظ دين ہو؛ ہوائے نفس کا مخالف ہو اور اوامر الہيہ کہ تابع و مطيع ہو، عوام کو چاہئے کہ اس کي تقليد کريں- (6) اس طرح کے نائبين کبھي بھي دين کي پاسباني اور دين و شريعت کے نفاذ ميں کوئي کوتاہي نہيں کريں گے-

خلاصہ يہ کہ بعثت رسول (ص) سے قيامت تک رسول اللہ (ص)، ان کے بعد ا‏ئمہ طاہرين (ع) اور ان کي غيبت صغري ميں نائبين خاص اور غيبت کبري ميں نائبين عام تمام تر تحريفات کا مقابلہ کرکے دين کا تحفظ کرتے ہيں اور يہ دين محفوظ رہے گا حتي کہ ظہور حضرت مہدي (عج) کے ساتھ احياء کا عمل معصوم کي موجودگي ميں ويسا ہي انجام پائے جس طرح کہ خداوند متعال نے مقدر و مقرر فرمايا ہے اور روئے زمين پر حکومت عدل بپا کريں گے اور اس کو قسط و عدل سے بھر ديں گے جس طرح کہ يہ ظلم و جور سے بھري ہوئي ہے-

ممکن ہے ابھي تک يہ سوال اذہان ميں باقي ہو کہ فقہاء کي آراء ميں اختلاف کے باوجود دين کے تحفظ کا فريضہ کيونکر انجام پاتا ہے؟ جواب يہ ہے کہ:

1- فقہاء دين کے اصول اور مسلمات ميں اختلاف نہيں رکھتے اور واجبات کے وجوب اور محرمات کي حرمت ميں ان کے درميان کوئي اختلاف نہيں ہے؛

2- تمام فقہاء استنباط احکام ميں قرآن، سنت، اجماع اور عقل کو منبع قرار ديتے ہيں-

3- شيعہ کے ہاں وہ اجماع حجت ہے جس ميں امام معصوم (ع) موجود ہو-

---------------

5- طبرسي، الاحتجاج، ج 2، ص 502، انتشارات اسوه، 1413، چ اول-

6- وہي ماخذ، ص 264- وسائل الشيعه، ج 27، از مجموعه 30 جلدي، ص 131-