• صارفین کی تعداد :
  • 7643
  • 2/17/2014
  • تاريخ :

منتظر کے اوصاف!

منتظر کے اوصاف!

معصومين (ع) کي روايات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ظہور مہدي (عج) کا انتظار امت محمد (ص) کے بہترين اعمال ميں سے ہے- (1) يہ انتظار تعميري ہے ہے جس کے لئے ان خصوصيات کا ہونا ضروري ہے:

1- دين داري:

منتظر کي ايک خصوصيت دينداري اور ديانت داري ہے کيونکہ وہ معاشرے ميں نفاذ دين کا منتظر ہے اور يہ انتظار دينداري کے ہمراہ ہي ہونا چاہئے-

امام صادق (ع) فرماتے ہيں:

صاحب الامر يے لئے ايک طويل غيبت ہے؛ اس دور ميں ہر شخص کو اپنے دين کا دامن تھامے رکھنا چاہئے- (2)

2- زہد و پرہيزگاري:

حکومت مہدي (عج) کے منتظور کر متقي ہونا چاہئے اور خود کو اسي طرح بنانا چاہئے جو اس کا پيشوا چاہتا ہے تا کہ خدا کے فضل سے اس بزرگوار کے انصار و اصحاب ميں شمار ہوجائے-

امام صادق (ع) نے فرمايا: جو ہمارے قائم کے اصحاب ميں شمار ہونا چاہے اس کو منتظر اور پرہيزگار ہونا چاہئے- (3)

3- فرائص پر عمل

امربالمعروف اور نہي عن المنکر کے فريضے پر عمل کرنے والا حقيقي منتظر ہے اور حقيقي انتظار امام زمانہ (عج) کي خوشنودي کا سبب بنتا ہے؛ معاشرے ميں معروف (نيکيوں) کے نفاذ اور مُنکَرات (برائيوں) کے خاتمے سے امام (عج) راضي اور خوشنود ہوجاتے ہيں اور حضرت مہدي (عج) کے قيام و انقلاب کا بنيادي ہدف بھي يہي ہے-

رسول اللہ (ص) نے فرمايا:

خوش بحال ہے اس شخص کے جو قيام سے قبل ہي مہدي (عج) کا اقتدا کرے- (4) ظاہر ہے کہ امر بالمعروف اور نہي عن المنکر اس اقتدا کا بنيادي معيار ہے-

4- اسلامي اخلاق سے متخلق ہونا

منتظر شخص کو اخلاق اسلامي کا مالک اور محمدي (ص) اخلاق کا مظہر ہونا چاہئے- امام صادق (ع) فرماتے ہيں: جو ہمارے قائم کے اصحاب ميں شمار ہونا چاہے اس کو عصر انتظار کے دوران نيک اخلاق کا مالک ہونا چاہئے- (5)

خلاصہ يہ کہ منتظرين حضرت قائم (عج) کے رکاب ميں شہيد ہونے والے مجاہدين کا ثواب ملتا ہے؛ وہي جو مکتب اہل بيت (ع) پر عمل پيرا ہوں، ايماني اور روحي قوت، اخلاقي و معاشرتي پرورش اور سياسي و عسکري آمادگي کے لحاظ سے ہردم تيار ہوں نفس کے خلاف جہاد اور ذلت پذيري، استعمار زدگي، ظلم پروري اور معاشرتي ناہنجاريوں اور اخلاقي مفاسد کے خلاف جدوجہد ميں مصروف عمل، با استقامت اور استوار ہوں-

--------------

1- بحار الانوار ج 52 ص 128-

2- وہي ماخذ ص 135-

3- وہي ماخذ، ص 140-

4- وہي ماخذج 52 ص 130-

5- بحارالأنوار، ج 52، ص 140-