• صارفین کی تعداد :
  • 5035
  • 2/22/2014
  • تاريخ :

منتظرين کا ہنر 2

منتظرین کا ہنر 2

منتظرين کا ہنر 1

دعا بني نوع انسان کا قديم ترين ہنر ہے؛ ليکن جب اصحاب و انصار مہدي (عج) کا ہاتھ اور ان کا وجود عظمت سبحاني کے بحر بےکراں سے متصل ہوتا ہے ان کي زبان سے ايسے عاشفانہ کلمات جاري ہوتے ہيں جو حتي ملائکۃاللہ کي تحسين کا موجب بنتے ہيں- دعائے عرفہ (3) اور مناجات خمس عشر (4) عرش کے شانوں کو لرزا ديتي ہے؛ کوفہ ميں اميرالمۆمنين (ع) (5) کي مناجات کو جب پڑھتے ہيں جبرائيل بےحد و حصر لذت اٹھاتے ہيں، دوسري طرف سے ان کا خالص وجود مجسم دعا بن چکا ہے- "کميل" ہيں، اور "آل ياسين" (6) "رجبيہ" ہيں (7) "ام داۆد" ہيں (8)، "رمضان" ہيں اور "مجير" (9)- يہ خود ہي "مکارم اخلاق" ہيں- (10)  

"ہتھيار اٹھانا" بھي انصار مہدي (عج) کا دست ہنر ہے، وہ جو درحقيقت  ـ اور نہ صرف نعروں کي حد تک ـ امام (عج) کے پيروکار ہيں، ہر وقت عسکري کے لحاظ سے تيار ہيں اور اگر مکر و دولت اور دھوکے کے ذريعے ان کو زير تسلط لانے کي کوشش کي جائے تو  وہ اپنے خون کا نذرانہ دينے سے بھي دريغ نہيں کرتے اور دنياوي قوتوں کے بجائے اللہ کے ساتھ سودائے جان کرتے ہيں، جنت خريدنے کے لئے جان کي قيمت ادا کرتے ہيں اور زمين سے ملکوت تک "ہيہات منا الذلّہ" کا نعرہ لگاتے ہوئے سر کے بل دوڑتے ہيں-

"يا زہراء (س)" کے پيشاني بند ان کے پاس ہي ہوتے ہيں اور "ہل من ناصر---" کي حسيني صدا مسسلسل دہراتے ہيں اور حسيني مظلوميت کو برداشت نہيں کرتے چنانچہ امام زمانہ کے رکاب ميں قدم رکھتے ہيں اسلام کي ابديت پر قربان ہونے کے لئے؛ کس قدر فخر کرتا ہے رب ذوالجلال ان عزيز بندوں کي بندگي پر!

........................................

3- دعائے عرفہ امام حسين (ع) کي دعا ہے جو روز عرفہ (9 ذوالحجہ) کو پڑھي جاتي ہے-

4- "مناجات خمس عشر" امام سجاد (ع) کي پندرہ دعاۆں کا مجموعہ ہے جو مفاتيح کي ابتداء ميں منقول ہے-

5- يہ مناجات "اعمال مسجد کبير کوفہ" کے اعمال کے ضمن ميں منقول ہے-

6- "آل ياسين" امام زمانہ (عج) کي معروف زيارت ہے جس کي زيادہ تلاوت کي سفارش ہوئي ہے-

7- ماہ رجب کي دعاۆں اور زيارات کي طرف اشارہ-

8- "امّ داوود" نصف رجب کي دعا ہے-

9- "دعائے مجير" مفاتيح الجنان کي ابتداء ميں رسول اللہ (ص) سے منقولہ دعا ہے-

10- امام سجاد (ع) کي مشہور دعا "مکارم الاخلاق" کي طرف اشارہ جو مفاتيح الجنان کے آخر ميں منقول ہے-

منبع: نشريه موعود نوجوان، ش24- نويسنده: سهيلا صلاحي اصفهاني ـ هنرهاي مهدويان-