• صارفین کی تعداد :
  • 6680
  • 2/16/2014
  • تاريخ :

فلسطيني مجلس قانون ساز کے رکن جمال نتشہ سے گفتگو

فلسطینی مجلس قانون ساز کے رکن جمال نتشہ سے گفتگو

فلسطيني مجلس قانون ساز کے رکن اور حال ہي ميں اسرائيلي جيل سے طويل اسيري کے بعد رہائي پانے والے شيخ محمد جمال نتشہ نے صدر محمود عباس کي طرف سے اسرائيل کے ساتھ راست مذاکرات شروع کرنے پر گہرے صدمے کا اظہار کيا ہے. ان کا کہنا ہے کہ فلسطيني اتھارٹي کو علم ہے کہ مذاکرات کا کوئي فائدہ نہيں اور ان سے فلسطيني عوام کو ان کے اساسي حقوق نہيں دلائے جا سکتے ليکن محمود عباس پھر بھي مذاکرات ميں وقت ضائع کر رہے ہيں-

حال ہي ميں انہوں نے صہيوني جيل سے رہائي کے بعد مرکز اطلاعات فلسطين سے خصوصي گفتگو کي. انہوں نے فلسطيني سياسي دھڑوں کے درميان مفاہمت نہ ہونے پر بھي افسوس کا اظہار کيا اورتمام جماعتوں پر زورديا کہ وہ اختلافات سے بالا ترہو کر قومي خدمت اور فلسطينيوں کے حقوق کے ليے متحد ہو جائيں.

جيل ميں اسيري کے حوالے ان کا کہنا تھا کہ اسرائيل کا قيديوں کے خلاف ايک بڑا ہتھيار قيد تنہائي کي سزا ہے. قيد تنہائي اسيروں کے ليے قبر کي مانند ہے. اسرائيل جسماني اور نفسياتي دباظ¶ بڑھانے اور تشدد کے ليے قيد تنہائي کا طريقہ اختيار کرتا ہے.

شيخ جمال نتشہ سے ہونے والي تفصيلي گفتگوکا احوال درج ذيل ہے -

مرکز اطلاعات فلسطين: صہيوني جيل ميں قيد تنہائي کے دوران آپ نے کيا محسوس کيا اور تنہائي کي اسيري کے ايام کے بارے ميں کس طرح کے احساسات اور جذبات رکھتے ہيں؟

شيخ جمال نتشہ:... ميں نے ساڑھے آٹھ سال کي اسيري کے دوران کم ازکم چار سال تنہائي کي قيد کاٹي اوريہ ميري اسيري کے آخري چار سال تھے، اس دوران ايک لمحے کے ليے بھي کسي دوسرے قيدي کے ساتھ بيٹھنے کي اجازت نہ تھي. اہل خانہ پر بھي ملاقات پر پابندي تھي اور کسي قسم کا کسي رابطہ رکھنا بھي ممنوع تھا. عملي طور پر يہ نفسياتي نوعيت کي سخت ترين سزا ہے، اس ميں کھانے پينے، بيٹھنے اور مطالعے سميت تمام امور ميں انسان ہر وقت تنہائي کا شکار رہتا ہے. اسرائيل بھي اس طرح کي سزاظ¶ں کو سخت ترين سمجھتا ہے اور آخري حربے کے طور پر نفسياتي اور جسماني تشدد کے ليے يہ حربہ استعمال کيا جاتا ہے. ( جاري ہے )

 


متعلقہ تحریریں:

قبلہ اول کے خلاف سنگين صہيوني اقدامات

يوم القدس اور عالم اسلام