• صارفین کی تعداد :
  • 4941
  • 6/11/2014
  • تاريخ :

حضرت امام مہدي عليہ السلام کي ولادت با سعادت

 امام مہدی(عج) اور مدینۂ فاضلہ کی خصوصیات

امام زمانہ کي ولادت باسعادت جمعۃ المبارک کے دن، شعبان المعظم کي پندرہ تاريخ کو طلوع فجر کے وقت ہوئي - حضرت حکيمہ خاتون فرماتي ہيں کہ ايک روز ميں حضرت امام حسن عسکري عليہ السلام کے پاس گئي تو آپ نے فرمايا کہ اے پھوپھي آپ آج حجت خدا کي آمد ہے لہذا آپ آج يہاں رک جائيں ،ميں نے کہا کہ مجھے تو آثار ولادت دکھائي نہيں ديتے !، امام نے فرمايا کہ اے پھوپھي، نرجس کي مثال مادر موسي کي سي ہے - جناب حکيمہ خاتون فرماتي ہيں کہ اس شب ميں وہيں رہي اور شب گررنے کے بعد حجت خدا کي ولادت ہوئي تو - حضرت امام حسن عسکري عليہ السلام نے بچے کو طلب کيا اور اپني گود ميں بٹھايا اور کہا: اے فرزند! خدا کے حکم سے بات کرو- بچے نے آيت "بسم اللہ الرحمن الرحيم ونريد ان نمن علي اللذين استضعفوا في الارض ونجعلھم الوارثين" کي تلاوت کي کہ "ہم چاہتے ہيں کہ احسان کريں ان لوگوں پر جو زمين ميں کمزور بنا ديئے گئے ہيں اور ان کو امام بنائيں اور انھيں زمين کاوارث قرار ديں"-

امام مہدي کے اسماء و القاب

امام زمانہ کا اسم گرامي "محمد" اور کنيت "ابوالقاسم" ، "ابوعبداللہ" ہے ، ابوالقاسم کي کنيت رسول خدا کي طرف دي گئي ہے چنانچہ حديث ميں آيا ہے کہ رسول اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم نے فرمايا : مہدي کا نام ميرا نام اور ان کي کنيت ميري کنيت ہو گي- امام زمانہ کے مشہور القاب مہدي، بقيۃ اللہ ، حجة اللہ، خلف الصالح، صاحب الامر، صاحب العصر و الزمان، القائم، الباقي اور المنتظر ہيں-

آپ کا حليہ مبارک:

امام زمانہ کے بارے ميں لکھي جانے والي کتابوں ميں آپ کا حليہ مبارک رسول خدا کے مشابہ قرار ديا گيا شيخ صدوق فرماتے ہيں کہ سرور کائنات صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ مہدي، شکل و شباہت، خلق و خلق، شمائل و خصائل، اقوال و افعال ميں ميرے مشابہہ ہوں گے- بعض علماء نے امام زمانہ کے حليہ اور شکل و شمائل کے بارے ميں مزيد تفصيلات بيان کي ہيں جن کے مطابق آپ کا رنگ کھلتا ہوا گندمي، درميانہ قد، چوڑي پيشاني، ابرو گھنے اور باہم پيوستہ، باريک اور کھڑي ہوئي ناک، روشن اور بڑي آنکھيں، نوراني چہرہ، داہنے رخسار پرايک تل ہے جو ستارہ کي مانند چمکتا ہے- آپ کے دانت چمکدار اور کھلے ہوئے ہيں- زلفيں کندھوں پر پڑي رہتي ہيں-  ( جاري ہے )

 


متعلقہ تحریریں:

مہدويت سے مراد کيا ہے؟

امام مہدي (عج) اور ابن تيميہ کے شبہات