• صارفین کی تعداد :
  • 4841
  • 8/21/2014
  • تاريخ :

امام حسين (عليہ السلام) کيوں فراموش نہيں ہوتے؟ ( حصّہ ہفتم )

يا حسين بن علي

3- ہدف ميں شريک ہونے کيلئے گريہ

کبھي اشکوں کے قطرے کسي ہدف کا پيغام ديتے ہيں، جو لوگ يہ کہنا چاہتے ہيں کہ امام حسين(عليہ السلام)کے مقصد اور ان کے ہدف کے ساتھ اور ان کے مکتب کي پيروي کرنے والے ہيں وہ ممکن ہے کہ اپنے اس مقصد کو سلگتے ہوئے نعروںکے ساتھ يا اشعار ميں بيان کرکے ظاہر کريں، ليکن ايسا بھي ہوسکتا ہے کہ وہ سب دکھاوے کے لئے ہو ، ليکن جو شخص اس جانسوز حادثہ کو سن کر اپنے دل سے اشکوں کے قطرے بہائے وہ اس حقيقت کو صادقانہ دل سے بيان کرتا ہے ، يہ قطرہ اشک امام حسين(عليہ السلا)اور ان کے وافادار ساتھيوں کے مقدس ہدف کے ساتھ وفاداري کا اعلان ہے ، دل و جان سے ان کے ساتھ رہنے کا اعلان ہے اور بت پرستي، ظلم و ستم کے ساتھ جنگ کا اعلان اور برائيوں سے بيزاري کا اعلان ہے- کيا اس طرح کا گريہ ان کے پاک ہدف سے آشنائي کے بغيرممکن ہے؟

4- ذلت اور شکست کاگريہ

ان کمزور او ضعيف افراد کا گريہ جو اپنے ہدف تک پہنچنے ميں پيچھے رہ گئے ہيں اور اپنے اندر آگے بڑھنے کي ہمت اور شہامت نہيں رکھتے ايسے لوگ بيٹھ جاتے ہيں اور گريہ کرتے ہيں-

امام حسين(عليہ السلام)کيلئے ہرگزايسا گريہ نہ کرو، کيونکہ وہ ايسے گريہ سے بيزار اور متنفر ہيں، اگر گريہ کرنا چاہتے ہو تو شوق و خوشي،شفقت آميز اور ہدف ميں شريک ہونے کيلئے گريہ کرو-

ليکن غم منانے سے اہم کام امام حسين (عليہ السلام) اور ان کے اصحاب کے مکتب اور ہدف سے آشنائي رکھنا اور ان کے اہداف سے عملي لگاۆ رکھنا اور پاک رہنا پاک زندگي بسر کرنا، صحيح فکر اور عمل کرنا ہے-

 

مترجم : سيد حسين حيدر زيدي

 


متعلقہ تحریریں:

امام حسين (ع) کي لازوال تحريک

فلسفہ شہادت اور واقعہ کربلا