• صارفین کی تعداد :
  • 8287
  • 3/9/2016
  • تاريخ :

ولی  کیا ہے ؟

ولی  کیا ہے ؟


ولی کے معنی کسی چیز کا کسی دوسرے چیز کے پیچھے قرار پانے کے ہیں اس طرح سے کہ ان دو چیزوں کے درمیان کوئی تیسری اجنبی چیز فاصلہ نہ بنے اور ان کے درمیان ایک قسم کا تعلق بھی برقرار ہو۔
اب اس رابطے کی دو قسمیں ہیں: کبھی تو یہ رابطہ دو طرفہ ہوتا ہے یعنی یہ ان دو چیزوں میں سے ایک کا دوسرے سے تعلق اسی طرح ہوتا ہے جو دوسری کا پہلی چیز سے ہوتا ہے۔ اس تعلق کے لئے اخوت کی مثال پیش کی جا سکتی ہے؛ اگر زید، بکر کا بھائی ہے تو بکر بھی زید کا بھائی ہے۔
اور کبھی یہ رابطہ یک طرفہ ہوتا ہے اور وہ یوں کہ جو رابطہ ایک فریق دوسرے فریق سے تعلق دوسرے فریق کے دوسرے فریق سے تعلق سے مختلف ہوتا ہے۔ اس تعلق میں تأثیر (اثر گذاری اور تأثر (اثر پذیر یکطرفہ ہی؛ اس رابطی میں ایک اثر گذار (موثرٍ) اور دوسرا اثر پذیر (موثر) ہے۔ اس قسم کے رابطے میں دونوں کا ایک دوسرے سے تعلق ہے لیکن دونوں کا ایک دوسرے سے تعلق یکطرفہ ہے اور یہ تعلق رہبری اور ولایت کا تعلق ہے۔ اور ولایت اگر فتح واو کے ساتھ (وَلایت) ہو تو اس کے معنی بھی یہی ہیں لیکن اگر ولایت کا لفظ بکسر واو (وِلایت) ہو تو دوستی اور محبت کے معنی میں استعمال ہو گا جو اول الذکر (دو طرفہ رابطے) کے زمرے میں آئے گا۔ (1)
وَلایت رہبری اور سرپرستی کے معنی میں صرف خدا، انبیاء عظام اور ائمہ علیہم السلام کے لئے مختص ہے اور خداوند متعال نے (جس کو ذاتی طور پر یہ ولایت حاصل ہے) یہی ولایت انبیاء اور ائمہ علیہم السلام کے لئے قرار دی ہے اور جعل کی ہے۔ (2)
اب اگر یہ ولایت اور یہ اثر گذاری قانون سازی اور تشریع اور لوگوں پر حکومت کرنے کے حوالے سے ہو تو اس کو "ولایت تشریعی" کہا جاتا ہے اور اگر یہ اثر گذاری عالم خلقت و آفرینش میں ہو تو اس کو "ولایت تکوینی" کہیں گے۔ انییاء اور ائمہ معصومین علیہم السلام اور اس کے لائق و شائستہ بندے ہیں جو اس کے لطف کے سائے میں اس کے اذن سے عالم خلقت اور انسانوں کے دلوں میں تصرف کرسکتے ہیں۔ (3) ( جاری ہے )

 


متعلقہ تحریریں:

ولایت قبول کرنے کا پیغام

امامت معاشرہ کي حاکميت کے معنيٰ ميں