• صارفین کی تعداد :
  • 7568
  • 3/10/2016
  • تاريخ :

امام کی اہمیت

امام کی اہمیت


امام کی معاشرے میں بہت اہمیت ہوتی ہے اور امام کی ذمہ داری بھی اسی لحاظ سے بہت حساس ہوتی ہے کیونکہ امام، ایک اسلامی معاشره میں اس ولایت کو اجتماعی اور سیاسی امور، انسانوں کو اسلامی معاشره کی طرف هدایت کرنے اور دینی اور عدلیه سے متعلق ضروریات کو پورا کرنے اور عملی جامه پهنانے کا ذمه دار هے- اگر انسان اس ولایت کو تسلیم کر لیں  اور اس کی قیادت کو قبول کریں اور اس کے طریقه کار اور سیرت سے سبق حاصل کریں، تو وه دنیا وآخرت میں مادی و معنوی سعادت و آسائش پایئں گے اور اگر اس کی امامت وقیادت سے منه موڑلیں گے اور کسی اور کی طرف رجوع کریں گے تو انهیں نقصان کے علاوه کچھـ نهیں ملے گا.(حالانکه)  خواه لوگ جانیں یا نه جانیں، اس کی طرف رجوع کریں یا نه کریں، اسے اپنا سیاسی، عدالتی ، دینی اور  اخلاقی مرجع جان کر اس کی طرف رجوع کریں یا نه کریں، وه تمام انسانوں، خواه شیعه هوں یا غیر شیعه، مسلمان هوں یا غیر مسلم، سب پر شاهد اور احاطه رکھنے والا هے- وه تمام ظاهر وباطن سے آگاه اور ان کے امور میں هر قسم کے دخل و تصرف کی قدرت رکھتا هے- اس کے علاوه وه تکوینی امور میں بھی دخل و تصرف کرسکتا هے، مثلا ایک اینٹ کو سونے میں تبدیل کرسکتا هے یا پرده پر موجود تصویر کو زنده کر سکتا هے یا لاعلاج مریضوں کو شفا بخش سکتا هے اور سخت مشکلات کو حل کر سکتا هے اور اس سے توسل کرنے والوں کو تعطل سے رهائی بخش سکتا هے۔- لیکن وه اس زبردست طاقت سے، بیهوده بغیر مصلحت اور عام سیرت کے خلاف فائده نھیں اٹھاتا - لهذا شیعه محققین کے نقطه نظر سے  اصطلاحی ولایت کو امامت کے مترادف نهیں لینا چاهئے، بلکه کهنا چاهئے که: " ولایت " " امامت " کا اهم ترین پیش خیمه هے، یعنی اس کی اهم شرائط مین سے یه ایک شرط هے، جب تک ولی حاضر وناظر هو، کوئی دوسرا شخص مسلمانون کا " پیشوا " بن کر دینی اور  دنیوی امور کو هاتھ میں نهیں لے سکتا هے اور ان سے اپنے مقاصد و رجحانات کے مطابق استفاده نهیں کر سکتا هے، کیونکه یه ایک عقلی اور بدیهی بنیاد هے که جب تک افضل واکمل موجود هو، دوسروں کی باری نهیں آتی هے، مگر یه که اس " ولی مطلق " نے کسی کو اس کی اجازت دی هو، جیسے، بارهویں امام (ع) کی غیبت میںولی فقیه- وه اس ولی کی نظارت میں، دئے گئے اختیارات کی حد میں، مسلمانوں کے امور  کا انتظام کرنے کی ذمه داری سنبھال سکتا هے اور ان اختیارات سے آگے نهیں بڑھ سکتا هے- اس لئے " ولایت الهی " کا یه مقام، جسے پیغمبر اکرم (ص) اور ائمه معصومین (ع) سے نسبت دی جاتی هے، وهی "خلیفۃ الله " کا مقام هے جو انسان کی خلقت کے مقصد کا مقام هے اور یهی مقام، مسجود ملائکه واقع هوا هے، اور اگر یه ولی نه هو تو زمین اپنے باشندوں کو نگل لے گی[4]-


حوالہ جات:
1۔ جوادی آملی، عبداللہ، ادب فنای مقربان، ج1، ص224۔
2۔ وہی، ص226۔
3۔ بابازادہ، علی‌اکبر، تجلیات ولایت، ص157۔
4ـ جوادی آملی ، عبدالله ،عید ولایت، ص٦١ـ ٧٠-

 


متعلقہ تحریریں:

عصمت امام  کي گواہي

امام کا انتخاب اور ذمہ داري