• صارفین کی تعداد :
  • 8
  • 11/7/2017
  • تاريخ :
اسلام میں نظریہ مہدویت
مہدی موعود (عج) کا عقیدہ تمام مذاہب اسلامی کے نزدیک مسلم ہے۔ اس عقیدے کی بنیاد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول متواتر احادیث ہیںو جن کے مطابق قیامت سے پہلے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان سے ایک فرد قیام کرے گاو جو آپ ؐ کا ہم نام ہوگا اور اس کا لقب مہدی ہوگاو جو اسلامی قوانین کے مطابق عالمی سطح پر عدل و انصاف کی حکومت قائم کریں گے۔{یملاء الارض قسطا وعدلا کما ملئت ظلما وجورا} "آپ (عج) زمین کو عدل و انصاف سے اس طرح بھر دیں گے، جس طرح وہ ظلم و جور سے پر ہوچکی ہوگی۔"
شیعہ امامیہ عقائد کے مطابق مہدی موعود (عج) ان کے بارھویں امام ہیں، جو 15 شعبان 255 ھ ق کو سامراء میں پیدا ہوئے۔ آپ (عج) نے پانچ سال تک اپنے والد بزرگوار امام حسن عسکری علیہ السلام کے ساتھ زندگی بسر کی اور 260 ھ ق میں اپنے والد بزرگوار کی شہادت کے بعد لوگوں کی نظروں سے غائب ہوگئے اور سال 329 ھ ق تک آپ (عج) کی طرف سے چار وکیل اور نائب شیعوں کے مسائل حل کرتے رہے۔ اس عرصے کو غیبت صغریٰ کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد غیبت کبریٰ کا مرحلہ شروع ہوا اور اس عرصے میں شیعوں کے مسائل کے حل و فصل کی ذمہ داری آپ (عج) کی طرف سے شیعہ عادل فقہاء کے سپرد ہوگئی۔ پس آپ (عج) کی ولادت باسعادت ہوئی، آپ (عج) اس دنیا میں تشریف لائے اور آج تک زندہ ہیں، لیکن آپ (عج) لوگوں کی نظروں سے غائب ہیں۔

امام مہدی (عج) کی ولادت باسعادت کا عقیدہ صرف اہل تشیع حضرات ہی نہیں رکھتے بلکہ اہل سنت کے بہت سے مشہور علماء نے بھی اپنی کتابوں میں آپ (عج) کی ولادت باسعادت سے متعلق تفصیلات تحریر فرمائی ہیں، جیسے: ابن حجر ہیثمی (الصواعق المحرقہ)، سید جمال الدین (روضۃ الاحباب)، ابن صباغ مالکی (الفصول المہمۃ)،سبط ابن جوزی (تذکرۃ الخواص)، عبدالرحمن جامی حنفی (شواہد النبوۃ)، حافظ ابو عبداللہ گنجی شافعی (البیان فی اخبار صاحب الزمان) اور (کفایۃ الطالب فی مناقب امیر المومنین{ع})، ابوبکر بیہقی (شعب الایمان)، کمال الدین محمد بن طلحۃ شافعی (مطالب السووٴل فی مناقب آل الرسول)، حافظ ابو محمد البلاذری (الحدیث المتسلسل) ابو محمد عبداللہ بن الخشاب (تاریخ موالید الائمۃ و و فیاتھم)، شیخ محی الدین بن عربی (الفتوحات المکیۃ)، شیخ عبدالوہاب شعرانی (الیواقیت و الجواہر)، حافظ محمد بخاری حنفی (فصل الخطاب)، حافظ ابو الفتح محمد بن ابی الفوارس (الاربعین)، عبد الحق دہلوی (مناقب و احوال الائمۃ)، حافظ سلیمان قندوزی حنفی (ینابیع المودۃ)، عبداللہ بن محمد المطیری (الریاض الزاہرۃ)، ابوالمعالی سراج الدین الرفاعی (صاح الاخبار فی نسب السادۃ الفاطمیۃ الاخیار)، محمد بن خاوند شاہ (روضۃ الصفا) وغیرہ۔ علاوہ ازیں کتاب منتخب الاثر میں بہت سارے علماء کا نام، جن کی تعداد ساٹھ سے بھی زیادہ ہے ذکر ہوا ہے۔

البتہ اہلسنت کے نزدیک مشہور قول یہ ہے کہ آپ (عج) کی ولادت ابھی تک نہیں ہوئی ہے۔ آپ (عج) کی ولادت آخر الزمان میں ہوگی اور آپ (عج) اس وقت قیام فرمائیں گے، لیکن اہل تشیع نے آپ (عج) کی ولادت باسعادت اور آپ (عج) کی حیات پر عقلی و نقلی دلائل پیش کئے ہیں۔ بعض محققین کی تحقیق کے مطابق مہدی موعود (عج) کے بارے میں اہل سنت کے 60 سے زیادہ معتبر منابع، جن میں صحاح ستۃ بھی شامل ہیں، نیز اہل تشیع کی کتب اربعہ سمیت 90 سے زیادہ معتبر منابع میں احادیث بیان ہوئی ہیں۔ مسلمانوں نے اس مسئلے کی اہمیت کے پیش نظر اسے نہ فقط حدیثی اور کلامی کتابوں میں ذکر کیا ہے، بلکہ اس موضوع پر جداگانہ کتابیں بھی لکھی ہے۔ محمد بن اسحاق بن ابرہیم کوفی (متوفی 275ھ)، پہلا شخص ہے، جس نے پہلی مرتبہ اس موضوع پر ایک مستقل کتاب (صاحب الزمان) کے عنوان سے لکھی۔ مہدی موعود (عج) کےبارے میں موجود احادیث اس حد تک قطعی ہیں کہ ابن تیمیہ اور اس کے پیروکار بھی (جو عام طور پر اہل تشیع کے عقائد کو باطل قرار دیتے ہیں) ان احادیث کے صحیح ہونے کا عقیدہ رکھتے تھے۔ ابن تیمیہ نے مسند احمد، صحیح ترمذی اور سنن ابو داوو سے استناد کرتے ہوئے مہدی موعود (عج) کے بارے میں نقل شدہ احادیث کو صحیح السند قرار دیا ہے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ ابن خلدون ان احادیث کے بارے میں اعتراض کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ان میں سے بعض احادیث کے علاوہ تمام احادیث قابل مناقشہ ہیں۔

اسلامی محققین (شیعہ و سنی) نے ابن خلدون کے کلام پر اعتراض کرتے ہوئے اسے بے بنیاد قرار دیا ہے۔ اہل سنت کے محقق ڈاکٹر عبد الباقی لکھتے ہیں: مہدی موعود (عج) کے بارے میں تقریباً اسی (۸۰) روایتوں پر مشتمل ایک عظیم مجموعہ موجود ہے، جن کے راویوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ جاتی ہے۔ علاوہ ازیں صحاح و مسانید کے مصنفین نے بھی ان احادیث کو ذکر کیا ہے۔ بنابریں کیا اس عظیم مجموعے کو باطل قرار دے سکتے ہیں؟ اگر ان احادیث کے بارے میں شک کرنا صحیح ہو تو تمام روایات شک کے دائرے میں ہوں گی، جس کے نتیجے میں سنت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حرف آجائے گا، جبکہ علمائے سلف کی سیرت کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے کسی نے بھی اس مسئلے پر خدشہ وارد نہیں کیا، بلکہ گذشہ علماء اس مسئلہ کی تفسیر اور تحلیل کیا کرتے تھے۔ علاوہ ازیں ابن خلدون نے بہت سارے اعتراضات کرنے کے بعد ان احادیث میں سے بعض کے صحیح ہونے کا اقرار بھی کیا ہے۔ واضح ہے کہ اس عقیدے کے بارے میں اگر ایک حدیث بھی موجود ہو، تب بھی اسے چھوڑ نہیں سکتے، بلکہ اسے قبول کرتے ہوئے دوسری متواتر احادیث کو اس کے لئے موٴید قرار دینا چاہیے، اگرچہ یہ احادیث سند کے اعتبار سے کامل نہ بھی ہوں۔

ابن خلدون کے کلام سے بھی زیادہ مضحکہ خیز احمد امین کا کلام ہے، جو نہ فقط مہدی موعود (عج) سے مربوط احادیث کی نفی کرتا ہے، بلکہ کہتا ہے کہ شیعوں نے گھڑا ہے۔ اس کے خیال کے مطابق شیعوں نے بنی امیہ کے عکس العمل میں (کیونکہ انہوں نے عثمان اور دوسرے اصحاب کے فضائل میں احادیث گھڑ لی تھیں) بہت ساری احادیث حضرت علی علیہ السلام کے فضائل اور مہدی موعود کے بارے میں گھڑ لی ہیں، لیکن چونکہ یہ روایات علمائے اسلام کے نزدیک مورد قبول تھیں، اس لئے انہوں نے بھی ان جعلی احادیث کو قبول کر لیا ہے۔ (احمد امین کے اس من گھڑت کلام کا جواب)، پہلی بات یہ کہ حضرت علی علیہ السلام کے فضائل صرف اہل تشیع کی کتابوں میں موجود نہیں ہیں، بلکہ آپ ؑکے وہ تمام فضائل جو شیعہ کتب میں موجود ہیں، اہل سنت کی کتابوں میں بھی موجود ہیں۔ بنابریں اہل تشیع کو کیا ضرورت تھی کہ وہ حضرت علی علیہ السلام کے فضائل میں احادیث جعل کریں۔ دوسری بات یہ کہ شیعہ بنی امیہ کی حکومت کے زمانے میں بدترین اجتماعی و سیاسی شرائط کے حامل تھے، یہاں تک کہ حضرت علی علیہ السلام کے مسلم فضائل کو بھی نقل نہیں کرسکتے تھے۔ ایسی صورتحال میں شیعہ کس طرح بنی امیہ کے ردعمل میں احادیث جعل کرسکتے ہیں۔۔ تیسری بات یہ کہ اہل سنت کے محدثین اور مولفین نے کس طرح شیعوں سے مہدی موعود (عج) کے بارے میں جعلی احادیث قبول کیں، حالانکہ ان کے نزدیک کسی روایت کے ضعیف ہونے کے لئے کافی ہے کہ اس کا روای شیعہ ہو۔

مہدی موعود (عج) کے نسب کے بارے میں متعدد روایات نقل ہوئی ہیں، جن میں حسب ذیل نکات کی تاکید ہوئی ہے:
1۔ مہدی موعود امت اسلامی سے ہیں، یہ مطلب بعض روایات میں خاص طریقے سے بیان ہوا ہے۔ علاوہ ازیں آپ (عج) کے نسب کے بارے میں موجود احادیث سے بھی یہ مطلب ثابت ہو جاتا ہے۔ بنابریں مہدی موعود (عج) کے امت اسلامی سے ہونے میں کوئی شک و تردید نہیں ہے۔ البتہ صرف ایک روایت اس طرح سے نقل ہوئی ہے (لا مهدی الا عیسی بن مریم) عیسٰی بن مریم کے علاوہ کوئی اور مہدی نہیں ہے۔ اسلامی محدثین نے اس حدیث کو یا جعلی قرار دیا ہے یا دوسری متواتر روایات کے ساتھ مطابقت نہ رکھنے کی بنا پر اسے غیر معتبر قرار دیا ہے یا اس حدیث کی تاویل کی ہے۔
2۔ مہدی موعود (عج) اہلبیت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سے ہیں۔ اس سلسلے میں 389 احادیث موجود ہیں۔
3۔ مہدی موعود (عج) حضرت علی علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں، اس سلسلے میں 214 احادیث موجود ہیں۔
4۔ مہدی موعود (عج) حضرت فاطمہ علیہا السلام کی اولاد میں سے ہیں، اس سلسلے میں 192 احادیث موجود ہیں۔
5۔ مہدی موعود (عج) امام حسین علیہ السلام کی نسل سے نویں فرزند ہیں۔ اس سلسلے میں 148 احادیث موجود ہیں۔
6۔ مہدی موعود (عج) امام حسن عسکری علیہ السلام کی اولاد میں سے ہین، اس سلسلے میں 146 احادیث موجود ہیں۔

مہدی موعود (عج) کے حضرت علی علیہ السلام اور حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی اولاد ہونے میں شیعہ اور اہل سنت کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے، لیکن آپ (عج) کے امام حسن علیہ السلام کی اولاد ہونے یا امام حسین علیہ السلام کی اولاد ہونے کے بارے میں دو نظریے موجود ہیں۔ اہل تشیع اس بات پر متفق ہیں کہ آپ (عج) امام حسین علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور یہ نظریہ اہلسنت کے یہاں بھی مشہور ہے۔ دوسرا نظریہ یہ ہے کہ آپ (عج) امام حسن مجتبٰی علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔ بعض روایات کے مطابق آپ (عج) امام حسن اور امام حسین علیہم السلام دونوں کے فرزند ہیں۔ مہدی موعود (عج) کے امام حسن اور امام حسین علیہم السلام کی طرف نسبت قابل توجیہ ہے، یعنی آپ (عج) کا نسب باپ کی طرف سے امام حسین علیہ السلام اور ماں کی طرف سے امام حسن علیہ السلام پر ختم ہوتا ہے، کیونکہ امام محمد باقر علیہ السلام کی مادر گرامی جناب فاطمہ امام حسن مجتبٰی علیہ السلام کی بیٹی تھیں۔

بنابریں امام باقر علیہ السلام اور آپؑ کے بعد امام زمانہ (عج) تک تمام ائمہ اہلبیت علیہم السلام امام حسن علیہ السلام کی نسل سے بھی ہیں اور امام حسین علیہ السلام کی نسل سے بھی۔ لہذا امام مہدی (عج) حسینی بھی ہیں اور حسنی بھی۔ لیکن جن روایات میں آپ (عج) کے نسب کو صرف حسنی قرار دیا گیا ہے، وہ قابل استناد نہیں ہیں، کیونکہ ابو داود سے جو روایت نقل ہوئی ہے، اس میں آپ (عج) کو امام حسن علیہ السلام کا فرزند قرار دیا گیا ہے، جبکہ ترمذی، نسائی اور بیہقی سے جو روایت نقل ہوئی ہیں، اس میں آپ (عج) کو امام حسین علیہ السلام کا فرزند قرار دیا گیا ہے۔ بنابریں ابو داود کی نقل میں سہواً کلمہ (حسین) کی جگہ پر (حسن) لکھے جانے کا احتمال موجود ہے، کیونکہ ان روایتوں کی تعداد جن میں آپ (عج) کو امام حسین علیہ السلام کا فرزند قرار دیا گیا ہے، بہت ہی زیادہ ہیں اور سند کے لحاظ سے بھی یہ روایات دوسری روایات کی نسبت صحیح تر ہیں۔ بنابریں ان تمام روایات کو چھوڑ کر مذکورہ حدیث {جس میں جناب عیسٰی (ع) کو مہدی موعود قرار دیا گیا ہے} پر استناد نہیں کیا جا سکتا ہے۔
http://www.urdu.shiitenews.org