• صارفین کی تعداد :
  • 1879
  • 3/23/2012
  • تاريخ :

آيت ولايت؛ خدا، رسول خدا اور علي (ع) ہي مؤمنين کے سرپرست 11

بسم الله الرحمن الرحیم

اس آيت کو بہتر سمجھنے کے لئے اس بات کا جائزہ لينا ضروري ہے کہ ايک فرد کو توصيف کے ذريعے کس طرح متعارف کرايا جائے کہ لوگ اس کي طرف رجوع کريں؟

کلي طور پر ايک فرد کي توصيف دو مختلف روشوں سے کي جاسکتي ہے- ايک روش يہ ہے کہ توصيف کرنے والا ايک خاص نشاني يا علامت ديتا ہے اور اس کي توصيف کا مقصد ايک فرد خاص کا تعارف کرانا ہوتا ہے اور اس کي توصيف ميں کوئي دوسرا فرد شامل نہيں ہوسکتا-

دوسري قسم کي توصيف يہ ہے کہ توصيف کنندہ ايک عام نشاني ديتا ہے اور کہتا ہے کہ جو شخص اس خاص قسم کي خصوصيات کا حامل ہوتا ہے وہي کہنے والے کا منظور نظر ہوتا ہے-

اس مسئلے کي مزيد وضاحت کے لئے ہم ايک مثال بيان کرتے ہيں جو توصيف کي ان دونوں قسموں کے لئے مناسب ہے-

پہلي قسم کے وصف کي مثال:

ايک استاد سے پوچھا جاتا ہے: آپ کا کونسا شاگرٹ دوسروں سے زيادہ عالم ہے؟

استاد کہتا ہے: وہ جو سب سے زياد صاف ستھرا ہے-

چونکہ عالم ہونے اور صاف ستھرا ہونے ميں کوئي تناسب نہيں ہے، لہذا استاد نے ايک علامت کا تعين کيا ہے اور کہا ہے کہ "صرف يہ شخص (اور اس خصوصيت کے ساتھ) ميرا منظور نظر ہے- درحقيقت استاد نے يہ جواب دے کر ايک خاص معيار ايک خاص شخص کے لئے متعين کيا ہے اور ايسا نہيں ہے کہ اگر کوئي اس کے بعد صاف ستھرا ہوکر آئے وہ بھي استاد کے جواب کا مصداق قرار پائے کيونکہ استاد نے يہ جواب ايک خاص وقت ميں ديا ہے اور اس کا اشارہ عالم ترين فرد کي طرف ہے اور اس خاص وقت کے بعد اس بات کے کوئي معني نہيں ہيں- اس سوال و جواب ميں اور اس کے مشابہ مواقع پر استاد کے جواب سے يہ بات بھي سمجھي جاسکتي ہے کہ استاد کي پسنديدہ خصوصيات ميں سے ايک صفائي کي خصوصيت ہے اور اس کے صفائي پسند ہے-