• صارفین کی تعداد :
  • 3563
  • 10/3/2012
  • تاريخ :

کيوں حضرت علي (ع) ہي پيغمبر (ص)  کے وصي اور جانشين ہيں ؟

حضرت علی (ع)

شيعوں کا راسخ عقيدہ يہ ہے کہ منصب خلافت، خدا عطا فرماتا ہے اسي طرح ان کا يہ بھي عقيدہ ہے کہ پيغمبراکرم (ص)  کے بعد شروع ہونے والي امامت چند اعتبار سے نبوت کي طرح ہے جس طرح يہ ضروري ہے کہ پيغمبر  (ص) کو خدا معين فرمائے اسي طرح يہ بھي ضروري ہے کہ پيغمبر (ص)  کے وصي کو بھي خدا ہي معين کرے اس حقيقت کے سلسلے ميں حيات پيغمبر اکرم  (ص) کي تاريخ بہترين گواہ ہے کيونکہ پيغمبراکرم (ص)  نے چند موقعوں پر اپنا خليفہ معين فرمايا ہے ہم يہاں ان ميں سے تين موقعوں کا ذکر کرتے ہيں:

1- آغاز بعثت ميں:

جب پيغمبر اسلام  (ص) کو خدا کي طرف سے حکم ہوا کہ اپنے قريبي رشتہ داروں کو اس آيہ کريمہ(وََنذِرْ عَشِيرَتَکَ الَْقْرَبِينَ ) کے مطابق آئين توحيد کي طرف دعوت ديں، تو  آنحضرت (ص)  نے ان سب کو خطاب کرتے ہوئے يوں فرمايا ''جو بھي اس راستے ميں ميري مدد کرے گا ، وہي ميرا وصي ، وزير، اور جانشين ہوگا'' پيغمبراکرم (ص)  کے الفاظ يہ تھے:

'' فاءيکم يۆازرن ف ھذاالاءمر علي اءن يکون اءخ و وزير و خليفت و وصي فيکم''

تم ميں سے کون ہے جو اس کام ميں ميري مدد کرے تاکہ وہي تمہارے درميان ميرا بھائي، وزير، وصي اور جانشين قرار پائے؟

اس ملکوتي آواز پر صرف اور صرف علي ابن ابي طالب (ع) نے لبيک کہا اس وقت پيغمبر اکرم  (ص)  نے اپنے رشتہ داروں کي طرف رخ کرتے ہوئے ارشاد فرمايا:

''اِن ھذا اخ و وصي و خليفت فيکم فاسمعوا لہ و اطيعوہ''

بہ تحقيق يہ (علي (ع) ) تمہارے درميان ميرا بھائي ، وصي اور جانشين ہے. اس کي باتوں کو سنو اور اس کي پيروي کرو.

2- غزوہء تبوک ميں

پيغمبر خدا  (ص)  نے حضرت علي (ع)  سے فرمايا :

کيا تم اس بات سے خوش نہيں ہو کہ تمہاري نسبت مجھ سے ويسي ہي ہے جيسي ہارون کو موسيٰ سے تھي بجز اس کے کہ ميرے بعد کوئي پيغمبر نہيں آئے گا.

يعني جس طرح ہارون ـ حضرت موسيٰ ـ کے بلا فصل وصي اور جانشين تھے ، اسي طرح تم بھي ميرے خليفہ اور جانشين ہو-

3- دسويں ہجري ميں

رسول خدا  (ص)  نے حجة الوداع سے و اپس لوٹتے وقت غدير خم کے ميدان ميں مسلمانوں کي بہت بڑي تعداد کے درميان حضرت علي  (ع) کو مسلمانوں اور مومنوں کا ولي معين کيا اور فرمايا:

''مَن کنت مولاہ فھذا علّ مولاہ''

''جس کا ميں سرپرست اور صاحب اختيار تھا اب يہ علي (ع) اس کے مولا اور سرپرست ہيں.''

يہاں پر جو اہم اور قابل توجہ نکتہ ہے وہ يہ کہ پيغمبر اسلام (ص)  نے اپنے خطبے کے آغاز ميں ارشاد فرمايا:

''اءلستُ اءوليٰ بکم مِن اءنفسکم؟''

''کيا ميں تمہارے نفسوں پر تم سے بڑھ کر حق نہيں رکھتا ؟''

اس وقت تمام مسلمانوں نے يک زبان ہوکر پيغمبراکرم (ص)  کي تصديق کي تھي لہذا يہاں پر يہ کہنا ضروري ہے کہ آنحضرت (ص)  کي اس حديث کي رو سے جو برتري اور اختيار تام رسول  (ص)  کو حاصل تھا وہي برتري و اختيار کامل علي (ع) کو حاصل ہے-

اس اعتبار سے يہاں پر يہ نتيجہ نکلتا ہے کہ جس طرح آنحضرت (ص)  مومنين پر برتري اور فوقيت رکھتے تھے اسي طرح حضرت علي (ع) بھي مومنين کے نفسوں پر برتري اور فوقيت رکھتے ہيں اس دن حسان بن ثابت نامي شاعر نے غدير خم کے اس تاريخي واقعے کو اپنے اشعار ميںاس طرح نظم کيا ہے :

يناديھم يوم الغدير نبيُّھم

بخم واسمع بالرسول مناديا

فقال فمن مولاکم و نبيُّکم ؟

فقالوا ولم يبدوا ھناک التعاميا

الھک مولانا و اءنت نبيُّنا

و لم تلق منا فِ الولاية عاصيا

فقال لہ قم يا عل فنن

رضيتک من بعد اِماما وھاديا

فمن کنت مولاہ فھذا وليہ

فکونوا لہ اءتباع صدق مواليا

ھناک دعا: اللّھم وال وليہ

وکن للذ عاديٰ علياً معاديا

حديث غدير ، اسلام کي ايسي متواتر احاديث ميں سے ايک ہے جس کو شيعہ علماء کے علاوہ تقريبا تين سو ساٹھ سني علماء نے بھي نقل کيا ہے  يہاں تک کہ اس حديث کا سلسلہ سند ايک سو دس اصحاب پيغمبر (ص)  تک پہنچتا ہے اور عالم اسلام کے چھبيس بزرگ علماء نے اس حديث کے سلسلہء سند کے بارے ميں مستقل طور پر کتابيں لکھي ہيں.

مشہور مسلمان مورخ ابوجعفر طبري نے اس حديث شريف کے سلسلہء اسناد کو دو بڑي جلدوں ميں جمع کيا ہے اس سلسلے ميں مزيد معلومات کے لئے کتاب ''الغدير'' کا مطالعہ کريں.

سيد رضا حسيني نسب

مترجم: عمران مہدي

مجمع جہاني اہل بيت (ع)

شعبہ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں:

آيت ولايت؛ خدا، رسول خدا اور علي (ع) ہي مۆمنين کے سرپرست 21