• صارفین کی تعداد :
  • 5080
  • 2/23/2014
  • تاريخ :

منتظرين کے فرائض 2

منتظرین کے فرائض 2

منتظرين کے فرائض 1

6- امام زمانہ (عج) سے مدد مانگنا:

انسان کو امکان کي حد تک امام زمانہ (عج) کے وجود اقدس سے فيض حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہونا چاہئے جس طرح کہ عالم فطرت بادلوں ميں نہاں سورج سے فيض اٹھاتا ہے- ہر وسيلے سے اپنے امام (عج) سے رابطہ برقرار کرنا چاہئے جس کا مۆثر طريقہ دعا، نماز اور استغاثہ ہے-

7- امام زمانہ (عج) کے لئے دعا:

متعدد روايات و احاديث ميں تاکيد ہوئي ہے کہ منتظر مۆمنين امام زمانہ (عج) کے ظہور ميں تعجيل اور ان کي سلامتي کے لئے دعا کريں-

اس سلسلے ميں امام رضا (ع) کي طرف سے وارد ہونے والي دعاۆں ميں سے ايک دعا شيخ عباس قمي (رح) کي مفاتيح الجنان ميں منقول ہے جو {اَللّهُمَّ ادْفَعْ عَنْ وَلِيِّكَ وَخَليفَتِكَ، وَحُجَّتِكَ عَلى خَلْقِكَ ---} سے شروع ہوتي ہے اور آخر تک پڑھنے کا حکم ہے اور ايک اہم اور مشہور دعا جو عام طور پر مۆمنين کي مجالس ميں پڑھي جاتي ہے: {اللّهمّ كن لوليّك الحجّة ابن الحسن...} ہے- (7)

بےشک امام زمانہ (عج) ہمارے درميان ہي ہيں اور ہميں جانتے پہچانتے ہيں، لوگوں کے مسائل حل کرتے ہيں اور ان کي راہنمائي کرتے ہيں گوکہ لوگ انہيں نہيں پہچانتے-

اميرالمۆمنين (ع) نے فرمايا: خدائے علي کي قسم! حجت خدا لوگوں کے درميان ہيں اور ان کے کوچہ و بازار گھومتے ہيں اور ان کے گھروں ميں جاتے ہيں اور شرق و غرب عالم ميں ان کي باتيں سنتے ہيں ان کے اجتماعات ميں داخل ہوتے ہيں اور سلام ديتے ہيں اور لوگ انہيں ديکھتے ہيں"- (8)

امام باقر (ع) نے فرمايا: "تقوي اختيار کرو اور خدا کي اطاعت و عبادت ميں کوشش کرکے انتظار کے بھاري بوجھ کو منزل مقصود تک پہنچا دو"- (9)

ايک لحاظ سے عاشورا اور دوران غيبت ميں کوئي خاص فرق نہيں ہے کيونکہ انتظار کا ايک پہلو يہ ہے کہ ہم ايسے بزرگوار کے منتظر ہيں جس ميں انبياء اور امام حسين (ع) کي صفات جمع ہوئي ہيں- ہمارے امام منتظَر صالح ہيں اور ان کي حکومت صالحين کي حکومت ہے جيسا کا ارشاد رباني ہے: "زمين کے وارث ميرے نيک بندے ہوں گے"- (10) چنانچہ صالح کا منتظر بھي صالح ہے اور انتظار کا خلاصہ يہ ہے کہ "اس فرد کي خواہش پر عمل کرو جس کا انتظار کررہے ہو"-

.....................

7- منتهي الامال، ص 562-

8- بحارالانوار، ج 52، ص 135-

9-كتاب غيبت شيخ طوسي به نقل از خورشيد مغرب ص271-

10- انبياء آيه 105-