• صارفین کی تعداد :
  • 7177
  • 10/25/2011
  • تاريخ :

قيصر امين پور کا انداز سخن

قیصر امین پور

اس سے پہلے کہ قيصر امين پور بچوں اور نوجوانوں  کے شاعر کي حيثيت سے ہميں ياد آئيں ، موجودہ ادبي دنيا ميں وہ اپني  مخصوص شعري خصوصيات کي بدولت بھي بےحد معروف ہيں -  بچوں اور نوجوانوں کے متعلق ان کي شاعري سے  بھي زيادہ  ان کي عمومي شاعري زيادہ تر  لوگوں کي زبان پر ہے - ساٹھ کي دہائي کے آخر تک قيصر امين پور کي زبان اور فکر ميں ايک پختگي ديکھنے کو ملتي ہے - ايک طرف ادبي حلقے اسے  ايک اکيڈمک اديب اور پروفيسر کي حيثيت سے جانتے ہيں تو دوسري طرف بچوں اور نوجوانوں کي تربيت کرنے والي انجمنيں انہيں اپنے گروہ ميں شمار کرتي ہيں -  ان کے دو مجموعے " بھ قول پرستو "  اور مثل چشمھ - مثل رود " بہت اچھي شکل  ميں ہيں -

" بھ قول پرستو " ميں  چند سوالات کو مطرح کرکے قيصر امين پور   اپنا رابطہ مخاطب سے قائم کرتا ہے -

لوگوں نے پنجرے کو کيوں بنايا ؟ تتلي کو شاخ سے کيوں  توڑا ؟

کيوں اڑانوں کو ختم کيا گيا ؟ کيوں آواز کو خاموش کر ديا گيا ؟

قيصر امين پور نے غزل ، دوبيتي ، قالب نيمائي اور مثنوي کے متعلق شاعري کي -

 قيصر امين پور کي شعري خصوصيات

الف: مضمون بکر

قيصر امين پور کي  ہوشياري اور دقت نظر نے اس کي شاعري ميں مضامين يابي اور نکتہ پردازي کو جنم ديا -  اس کي مضمون يابي اور نکتہ پردازي سبک ہندي  کے شاعروں کي طرح   خيال پردازي پر مبني نہيں  تھي  بلکہ وہ حقيقت سے بہت قريب  ہے -  ان کي زبان ميں سادگي اور رواني پائي جاتي ہے -

ب: انديشه هاي نو

ايک روايتي سوچ يہ ہے کہ جو کچھ بھي تھا وہ گزر جانے والوں کي طرف سے گايا اور لکھا گيا - اس ليۓ جو بھي گايا اور لکھا جاتا ہے اس ميں تازگي نہيں ہوتي اور کم و بيش ان قديم آثار کي تفسير ہوتي ہے - ليکن اس کے برعکس ايک اور جواب يہ سامنے آيا ہے کہ  سب لوگ سب کچھ ہي جانتے ہيں اور لوگ اب بھي خلق و کشف کو مسلسل ہنر سمجھتے ہيں -

قيصر امين پور ايک ايسا شاعر تھا جس نے اس متعلق بہت اچھي طرح سے کوشش کي - ان کے ايک قطعے " راہ بالا رفتن "  کے  مضمون اور انديشے ميں يہ نئي چيز ديکھي جا سکتي ہے -

شعبۂ  تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں:

مولانا رومي پر مختصر نظر

رومي کے حالات زندگي

امير کبير کي خدمات ( حصّہ دوّم )

امير کبير کي خدمات

مصطفي زماني کي زندگي پر مختصر نظر