• صارفین کی تعداد :
  • 6724
  • 1/20/2008
  • تاريخ :

زندگي نامہ امام علي عليہ السلام

 

من کنت مولاه فهذا علی مولاه

نام
القاب
کنيت
والدين
ولادت
بچين اور تربيت
پيغمبر اکرم (ص) کي بعثت اور  حضرت علي (ع)
رسول کي ہجرت اور  حضرت علي (ع)
شادي
کتابت وحي
حضرت عليہ السلام ، پيغمبر اسلام  (ص) کے بھائي
حضرت علي عليہ السلام اور اسلامي جہاد
غديرخم
رسول اللہ (ص)کي وفات اور حضرت علي عليہ السلام
حضرت علي عليہ السلام کي ظاهري خلافت
حضرت علي عليہ السلام کي شہادت

 

نام

پیغمبر اسلام  (ص) نے   آپ کا نام  اللہ کے نام پر علی رکھا ۔ حضرت ابو طالب و فاطمہ بنت اسد نے پیغمبر اسلام  (ص) سے عرض کیا کہ ہم نے ہاتف غیبی سے یہی نام سنا تھا۔

 

القاب

آپ کے مشہور القاب  امیر المومنین ، مرتضی، اسد اللہ، ید اللہ، نفس اللہ، حیدر، کرار، نفس رسول اور ساقی کوثر ہیں۔

 

کنيت

  حضرت علی علیہ السّلام  کی مشہور کنیت  ابو الحسن و ابو تراب ہیں۔

 

والدين

حضرت علی (ع) ھاشمی خاندان کے وه پھلے فرزند ھیں جن کے والد اور و الده دونوں ھاشمی ھیں ۔ آپ کے والد ابو طالب بن عبد المطلب بن ھاشم ھیں اور ماں فاطمه بنت اسد بن ھاشم ھیں ۔ 

ھاشمی خاندان قبیلہ قریش میں اور قریش تمام عربوں میں اخلاقی فضائل کے لحاظ سے مشھور و معروف تھے ۔

جواں مردی ، دلیری ، شجاعت اور بھت سے فضائل بنی ھاشم سے مخصوص تھے اور یہ تمام فضائل حضرت علی (ع) کی ذات مبارک میں بدرجہ اتم موجود تھے ۔

 

ولادت

جب حضرت علی (ع) کی ولادت کا وقت قریب آیا تو فاطمه بنت اسد کعبه کے پاس ائیں اور آپنے جسم کو اس کی دیوار سے مس کر کے عرض کیا:

پروردگارا ! میں تجھ پر، تیرےنبیوں پر، تیری طرف سے نازل شده کتابوں پر اور اس مکان کی تعمیر کرنے والے، آپنے جد ابراھیم (ع) کے کلام پر راسخ ایمان رکھتی ھوں ۔

پروردگارا ! تجھے اس ذات کے احترام کا واسطہ جس نے اس مکان مقدس کی تعمیر کی اور اس بچه کے حق کا واسطه جو میرے شکم میں موجود ھے، اس کی ولادت کو میرے لئے آسان فرما ۔

ابھی ایک لمحہ بھی نھیں گزرا تھا که کعبہ کی جنوبی مشرقی دیوار ، عباس بن عبد المطلب اور یزید بن تعف کی نظروں کے سامنے شگافته ھوئی، فاطمه بنت اسد کعبہ میں داخل ھوئیں اور دیوار دوباره مل گئی ۔ فاطمه بنت اسد تین دن تک روئے زمین کے اس سب سے مقدس مکان میں اللہ کی مھمان رھیں اور تیره رجب سن ۳۰/ عام الفیل کو بچہ کی ولادت ھوئی ۔ ولادت کے بعد جب فاطمه بنت اسد نے کعبہ سے باھر آنا چاھا تو دیوار دو باره شگافتہ ھوئی، آپ کعبه سے باھر تشریف لائیں اور فرمایا :” میں نے غیب سے یہ پیغام سنا ھے که اس بچے کا ” نام علی “ رکھنا “ ۔

 

بچپن  اور  تربيت

حضرت علی (ع) تین سال کی عمر تک آپنے والدین کے پاس  رہے اور اس کے بعد پیغمبر اسلام (ص) کے پاس آگئے۔ کیونکہ جب آپ تین سال کے تھےاس وقت  مکہ میں بھت سخت قحط پڑا ۔جس کی وجہ سے  رسول الله (ص) کے چچا ابو طالب کو اقتصادی مشکل کابہت سخت سامنا کرنا پڑا ۔ رسول الله (ص) نے آپنے دوسرے  چچا عباس سے مشوره کرنے کے بعد یہ طے کیا کہ ھم میں سے ھر ایک، ابو طالب کے ایک ایک بچے کی کفالت آپنے ذمہ لے لے تاکہ ان کی مشکل آسان ھو جائے ۔ اس طرح عباس نے جعفر اور رسول الله (ص) نے علی (ع) کی کفالت آپنے ذمہ لے لی ۔

حضرت علی (ع) پوری طرح سے پیغمبر اکرم (ص) کی کفالت میں آگئے اور حضرت علی علیہ السّلام کی پرورش براهِ راست حضرت محمد مصطفےٰ کے زیر نظر ہونے لگی ۔ آ پ نے انتہائی محبت اور توجہ سے آپنا پورا وقت، اس چھوٹے بھائی کی علمی اور اخلاقی تربیت میں صرف کیا.  کچھ تو حضرت علی (ع) کے ذاتی جوہر اور پھراس پر رسول جیسے بلند مرتبہ مربیّ کا فیض  تربیت ، چنانچہ علی علیہ السّلام دس برس کے سن میں ہی اتنی بلندی پر پہنچ گئے کہ جب پیغمبر اسلام (ص) نے رسالت کا دعوی کیا، تو آپ نے ان کی تصدیق فرمائی ۔    آپ ھمیشه رسول الله (ص) کے ساتھ رھتے تھے،  یہاں تک کہ جب پیغمبر اکرم (ص) شھر سے باھر، کوه و بیابان کی طرف جاتے تھے تو آپ کو آپنے ساتھ لے جاتے تھے ۔

 

  پیغمبر اکرم (ص) کی بعثت اور  حضرت علی (ع)

  جب حضرت محمد مصطفے ( ص ) چالیس سال کے ہوئے تو اللہ نے انہیں عملی طور پر آپنا پیغام پہنچانے کے لئے معین فرمایا ۔ اللہ کی طرف سے پیغمبر (ص) کو جو یہ ذمہ داری سونپی گئ ، اسی کو بعثت کہتے ہیں .

حضرت محمد (ص)  پر وحی الٰھی کے نزول و پیغمبری کے لئے انتخاب کے بعد کی  تین سال کی مخفیانہ دعوت کے بعد بالاخرخدا کی طرف سے وحی نازل ھوئی اور رسول الله (ص) کو عمومی طور پر دعوت اسلام کا حکم دیا گیا ۔

اس دوران پیغمبراکرم (ص) کی الٰھی دعوت کے منصوبوں کو عملی جامہ پھنانے والے تنھا حضرت علی (ع) تھے۔ جب رسول الله (ص) نے اپنے اعزاء و اقرباء کے درمیان  اسلام کی تبلیغ کے لئے انہیں دعوت دی تو آپ کے ھمدرد و ھمدم، تنھا حضرت علی (ع)  تھے ۔

اس دعوت میں پیغمبر خدا (ص) نےحاضرین سے سوال کیا کہ آپ میں سے کون ہے جو اس راه میں میری مدد کرے اور آپ کے درمیان میرا بھائی، وصی اور جانشین ھو؟

اس سوال کا جواب فقط حضرت علی (ع) نے دیا :” اے پیغمبر خدا ! میں اس راه میں آپ کی نصرت کروں گا ۔ پیغمبر اکرم (ص) نے تین مرتبه اسی سوال کی تکرار اور تینوں مرتبہ حضرت علی (ع) کا جواب سننے کے بعد فرمایا :

اے میرے خاندان والوں ! جان لو که علی میرا بھائی اور میرے بعد تمھارے درمیان میرا وصی و جانشین ھے ۔

علی (ع) کے فضائل میں سے ایک یہ بھی ھے کہ آپ (ع) رسول الله (ص) پر ایمان لانے والے سب سے پھلے شخص ھیں ۔ اس سلسلے میں ابن ابی الحدید  لکھتے ھیں :

”بزرگ علماء اور گروه معتزلہ کے متکلمین کے درمیان اس میں کوئی اختلاف نھیں ھے کہ علی بن ابی طالب (ع) وه پھلے شخص ھیں جو پیغمبر اسلام پر ایمان لائے اور پیغمبر خدا (ص) کی تصدیق کی “۔

رسول اسلام کی بعثت، زمانہ , ماحول, شہر اور آپنی قوم   و خاندان کے خلاف ایک ایسی مہم تھی ،  جس میں رسول کا ساتھ دینے والا کوئی نظر نہیں آتا تھا ۔  بس ایک علی علیہ السّلام تھے کہ جب پیغمبر نے رسالت کا دعویٰ کیا تو انہوں نے سب سے پہلے ا ن کی تصدیق کی اور ان پر ایمان کا اقرارکیا . دوسری ذات جناب خدیجۃ ال کبریٰ کی تھی، جنھوں نے خواتین کے طبقہ میں سبقتِ اسلام کا شرف حاصل کیا۔

  پیغمبر کا دعوائے رسالت کرنا تھا کہ   مکہ کا ہر آدمی رسول کا دشمن نظرآنے لگا . وہی لوگ جو کل تک آپ کی سچائی اورامانتداری کا دم بھرتے تھے آج آپ کو ( معاذ الله ( دیوانہ،  جادوگر اور نہ جانے کیا کیا کہنے لگے۔  اللہ کے رسول کے راستوں میں کانٹے بچھائے جاتے، انہیں پتھر مارے جاتے اور ان کے سر پر کوڑا کرکٹ پھینکا جاتا تھا. اس مصیبت کے وقت میں رسول کے شریک  صرف حضرت علی علیہ السّلام تھے، جو بھائی کاساتھ دینے میں کبھی بھی ہمت نہیں ہار تے تھے ۔ وہ ہمیشہ محبت ووفاداری کا دم بھرتے رہےاور  ہرموقع پر رسول کے سینہ سپر رہے۔ یہاں تک کہ وہ وقت بھی آیا جب مخالف گروہ نے انتہائی سختی کے ساتھ یہ طے کرلیا کہ پیغمبر اور ان کے تمام گھر والوں کا بائیکاٹ کیا جائے۔   حالات اتنے خراب تھے کہ جانوں کے لالے پڑ گئے تھے .حضرت ابو طالب علیہ السّلام نے آپنے تمام ساتھیوں کو حضرت محمد مصطفےٰ سمیت ایک پہاڑ کے دامن میں محفوظ قلعہ میں بند کردیا۔ وہان پر تین برس تک قید وبند کی زندگی بسر کرنی پڑی .  کیون کہ اس دوران ہر رات یہ خطرہ  رہتا تھا کہ کہیں دشمن شب خون نہ مار دے . اس لئے ابو طالب علیہ السّلام نے یہ طریقہ اختیار کیا تھا کہ وہ رات بھر رسول کو ایک بستر پر نہیں رہنے دیتے تھے، بلکہ کبھی رسول کے بستر پر جعفر کو اور جعفر کے بستر پر رسول کو کبھی عقیل کے بستر پر رسول کو   اور رسول کے بستر پر عقیل کو کبھی  علی کے بستر پر رسول کو اور رسول کے بستر پر علی علیہ السّلام کو لٹا تے  رہتے تھے. مطلب یہ تھا کہ اگر دشمن رسول کے بستر کا پتہ لگا کر حملہ کرنا چاہے تو میرا  کوئی بیٹا قتل ہوجائے مگر رسول کا بال بیکا نہ ہونے پائے . اس طرح علی علیہ السّلام بچپن سے ہی فدا کاری اور جان نثاری کے سبق کو عملی طور پر دہراتے رہے .

 

رسول کی ہجرت اور  حضرت علی (ع)

حضرت علی (ع) کے دیگر افتخارات میں سے ایک یہ ھے کہ جب شب ھجرت مشرک دشمنوں نے رسول الله (ص) کے قتل کی سازش رچی تو  آپ (ع) نے پوری شجاعت کے ساتھ رسول الله (ص) کے بستر پر سو کر انکی سازش کو نا کام کر دیا۔

  حضرت ابو طالب علیہ السّلام کی وفات سے پیغمبر کا دل ٹوٹ گیا اور آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت کاارادہ کرلیا ۔ دشمنوں نے یہ سازش سوچی کہ ایک رات جمع ہو کر پیغمبر کے گھر کو گھیر لیں اور حضرت کو شہید کرڈالیں۔ جب حضرت کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے آپنے جاں نثار بھائی علی علیہ السّلام کو بلا کر اس   سازش کے بارے میں اطلاع دی اور فرمایا کہ میری جان اس طرح بچ سکتی ہے اگر آج رات آپ میرے بستر پر میری چادر اوڑھ کر سو جاؤ اور میں مخفی طور پر مکہ سے روانہ ہوجاؤں . کوئی دوسرا ہوتا تو یہ پیغام سنتے ہی اس کا دل دہل جاتا،  مگر علی علیہ السّلام نے یہ سن کر کہ میرے ذریعہ سے رسول کی جان کی حفاظت ہوگی، خدا کاشکر ادا کیا اور بہت خوش ہوئے کہ مجھے رسول کا فدیہ قرار دیا جارہا ہے۔ یہی ہوا کہ رسالت ماب شب کے وقت مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوگئے اور علی بن ابی طالب علیہ ما السّلام رسول کے بستر پر سوئے۔ چاروں طرف خون کے پیاسے دشمن تلواریں کھینچے نیزے لئے ہوئے مکان کوگھیرے ہوئے تھے . بس اس بات کی دیر تھی کہ ذرا صبح ہو اور سب کے سب گھر میں داخل ہو کر رسالت ما ٓ ب کو شہید کر ڈالیں . علی علیہ السّلام اطمینان کے ساتھ بستر پرآرام کرتے رہے اور اپنی جان کا ذرا بھی خیال نہ کیا۔ جب دشمنوں کو صبح کے وقت یہ معلوم ہوا کہ محمد نہیں ہیں تو انھوں نے آپ پر یہ دباؤ ڈالا کہ آپ بتلادیں کہ رسول کہا ں گئے ہیں ۔ مگر علی علیہ السّلام نے بڑے بہادرانہ انداز میں یہ بتانے سے قطعی طور پر انکار کردیا . اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ رسول الله (ص) مکہ سے کافی دور تک بغیر کسی پریشانی اور رکاوٹ کے تشریف لے جاسکیں.علی علیہ السّلام تین روز تک مکہ میں رہے . جن  لوگوں کی امانتیں رسول الله کے پاس تھیں ان کے سپرد کرکےخواتین ُبیت ُ رسالت کو آپنے ساتھ لے کرمدینہ کی طرف روانہ ہوئے . آپ کئ روز تک رات دن پیدل چلے کر اس حالت میں رسول کے پاس پہنچے کہ آپ کے پیروں سے خون بہ رہا تھا. اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ علی علیہ السّلام پر رسول کو سب سے زیادہ اعتماد تھا اور  جس وفاداری , ہمت اور دلیری سے علی علیہ السّلام نے اس ذمہ داری کو پورا کیا ہے وہ بھی آپنی آپ ایک مثال ہے۔

 

شادی  

  جب رسول اکرم (ص) ہجرت کرکے  مدینے گئے تو فاطمہ زہرا السّلام اللہ علیہا بالغ ہو چکی تھیں اور پیغمبر(ص) اپنی اکلوتی بیٹی فاطمہ زہرا السّلام اللہ علیہا کی شادی کی فکر میں تھے.کیوں کہ رسول(ص) اپنی بیٹی سے بہت محبت کر تے تھے اور انہیں اتنی عزت دیتے تھے کہ جب فاطمہ زہرا السّلام اللہ علیہا ان کے پاس تشریف لاتی تھیں تو رسول للہ (ص) ان کی تعظیم کے لئے کھڑے ہوجاتے تھے .اس لئے ہر شخص رسول کی اس معزز بیٹی کے ساتھ منسوب ہونے کا شرف حاصل کرنے کی تمنا میں تھا. کچھ لوگوں نے ہمت کر کے رسول کو پیغام بھی دیا مگر حضرت نے سب کی خواہشوں کو رد کردیا اور فرمایا کہ فاطمہ کی شادی اللہ کے حکمِ کے بغیر نہیں ہوسکتی ۔

عمر و ابوبکر قبیلہ اوس کے سردار سعد بن معاذ سے مشوره کرنے کے بعد اس نتیجے پر پھونچ چکے تھے  کہ علی (ع) کے سوا کوئی بھی زھرا (س) کے ساتھ ازدواج کی لیاقت نھیں رکھتا۔ ایک دن جب حضرت علی (ع) انصار رسول (ص) میں سے کسی کے باغ میں آبیاری کر رھے تھےتو انھوں نے اس موضوع کو آپ (ع) کے سامنے چھیڑا اور آپ نے فرمایا :

” میں بھی دختر رسول (ص) سے شادی کا خواھاں ھوں ، یہ کہہ کر  آپ رسول الله (ص) کے گھر کی طرف روانہ ہو گئے۔

جب رسول الله (ص) کی خدمت میں پھونچے تو رسول الله (ص) کی عظمت اس بات میں مانع ھوئی که آپ (ع) کچه عرض کریں ۔جب  رسول الله (ص) نے آنے کی وجہ دریافت کی تو حضرت علی (ع) نے اپنے فضائل، تقویٰ اور اسلام کے لئے آپنے سابقہ کارناموں کی بنیاد پرعرض کیا : ” آیا آپ فاطمه کو میرے عقد میں دینا  بہتر سمجھتے ہیں ؟“ حضرت زھرا (س) کی رضامندی کے بعد رسول الله (ص) نے یہ رشتہ قبول کر لیا۔

 ہجرت کا پہلا سال تھا کہ  رسول نے علی علیہ السّلام کو اس عزت کے لئے منتخب کیا . یہ شادی نہایت سادگی کے ساتھ انجام دی گئ . حضرت فاطمہ (س) کا مہر حضرت علی علیہ السّلام سے لے کر اسی سے ُ کچھ گھر کا سامان خریدا گیا جسے جہیز طور پر دیا گیا۔ وہ سامان بھی کیا تھا ؟ کچھ مٹی کے برتن ، خرمے کی چھال کے تکیے،  چمڑے کابستر، چرخہ، چکی اور پانی بھرنے کی مشک . حضرت زہرا (س) کا مہر ایک سو سترہ تولے چاندی قرار پایا،  جسےحضرت علی علیہ السّلام نے آپنی زرہ فروخت   کر کے ادا کیا ۔

 

 کتابت وحی

وحی الٰھی کی کتابت اور بھت سے تاریخی و سیاسی اسناد کی تنظیم اور دعوت الٰھی کے تبلیغی خطوط لکھنا، حضرت علی (ع) کے بھت اھم کاموں میں سے ایک ھے ۔ آپ (ع) قرآنی آیات کو لکھتے اور منظم کرتے تھے اسی لئے آپ کو کاتبان وحی اور حافظان قرآن میں شمار کیا جاتا ھے ۔

 

حضرت علیہ ااسلام ، پیغمبراسلام  (ص) کے بھائی

پیغمبراسلام  (ص) نےمدینے پہنچ کر مسلمانوں کے درمیان بھائی کا رشتہ قائم کیا۔  عمر کو ابو بکر کا بھائی بنا دیا یاطلہ کو زبیر کا بھائی قرار دیا و۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور  حضرت علی (ع)کو رسول الله (ص) نے اپنا بھائی بنایا اور حضرت علی (ع) سے فرمایا :

” تم دنیا اور آخرت میں میرے بھائی ھو، اس خدا کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ۔۔۔ میں تمھیں آپنی اخوت کے لئے انتخاب کرتا ھوں ، ایک ایسی اخوت جو دونوں جھان میں بر قرار رھے “۔

 

حضرت علی علیہ السلام اور اسلامی جہاد

 اسلام کے دشمنوں نے پیغمبراسلام (ص) کو مدینہ میں چین سے نہ بیٹھنے دیا. جو مسلمان  مکہ میں تھے انھیں طرح طرح کی تکلیفیں دی گئیں کچھ کو قتل  کر دیا گیا،  کچھ کو قیدی بنا لیاگیا اور کچھ کو مارا پیٹا گیا. یہی نہیں بلکہ انہوں نے اسلحہ اور فوج جمع کرکے خود رسول کے خلاف مدینہ پر حملہ  کردیا۔ اس موقع پر رسول اللہ (ص) کا اخلاقی فرض تھا کہ وہ مدینہ والوں کے گھروں کی حفاظت کریں، کیوں کہ انھوں نے آپ کو پریشانی کے عالم میں پنا ہ دی تھی اور آپ کی نصرت و مدد کا وعدہ کیا تھا، لہذا آپ نے یہ کسی طرح پسند نہ کیا کہ  آپ شہر کے اندر رہ کر  دشمن کا مقابلہ کریں اور دشمن کو مدینہ کی پر امن آبادی میں داخل ہونے  اور عورتوں اور بچوں کو پریشان کرنے کا موقع دیں. آپ کے ساتھیوں کی تعداد بہت کم تھی۔  آپ کے پاس کل تین سو تیرہ آدمی تھے اور آپ کے پاس  ہتھیار بھی نہیں تھے، مگر آپ نے یہ طے کیا کہ ہم  مدینے سے باہر نکل کر دشمن کا مقابلہ کریں گے۔ چنانچہ  یہ اسلام کی پہلی جنگ ہوئی جو آگے چل کر  جنگِ بدر کے نام سے مشہور ہوئی . اس جنگ میں رسول اللہ (ص) نے آپنے عزیزوں کو زیادہ آگے رکھا، جس کی وجہ سے آپ کے چچا زاد بھائی عبید ابن حارث ابن عبدالمطلب اس جنگ میں شہید ہوگئے . علی علیہ السّلام ابن ابی طالب کو جنگ کا یہ پہلا تجربہ تھا۔ اس وقت ان کی عمر صرف ۲۵برس تھی مگر جنگ کی فتح کا سہرا علی علیہ السّلام کے سر ہی بندھا۔ جتنے مشرکین قتل ہوئے ان میں سے آدھےحضرت علی علیہ السّلام کے ہاتھ سے اور آدھے، باقی مجاہدین کے ہاتھوں قتل ہوئے تھے۔ اس کے بعد ،اُحد، خندق،خیبراور آخر میں حنین ۔ یہ وہ بڑی جنگیں تھیں جن میں حضرت علی علیہ السّلام نے رسول کے ساتھ رہ کر اپنی بہادری کے جوہر دکھائے۔ تقریباً ان تمام جنگوں میں علی علیہ السّلام کو علمداری کا عہدہ بھی حاصل رہا . اس کے علاوہ بہت سی جنگیں  ایسی تھیں جن میں رسول نےحضرت  علی علیہ السّلام کو تنہا بھیجا اورانھوں نے اکیلے ہی بہادری اور ثابت قدمی کے ساتھ فتح حاصل کی اور استقلال، تحمّل اور شرافت ُ نفس کا وہ  مطاہرہ کیا کہ اس کا  اقرار خود ان کے دشمن  کو بھی کرنا پڑا۔ جب خندق کی جنگ میں دشمن کے سب سے بڑے سورماعمرو بن عبدود کو آپ نے مغلوب کر لیا اور اس کا سر کاٹنے کے لیے اس کے سینے پرسوار ہوئے تو اس نے آپ کے چہرے پر لعاب دہن پھینک دیا۔ آپ کو غصہ آ گیا اور آپ اس کے سینے سے اتر آٓئے . صرف اس خیال سے کہ اگراس غصّےکی حالت  میں اس کو قتل کیا تو یہ عمل خواہش نفس کے مطابق ہوگا،  خدا کی راہ میں نہ ہوگا۔ اسی لئے آپ نے اس کو کچھ دیر  کے بعد قتل کیا۔ اس زمانے میں دشمن کو ذلیل کرنے کے لیے اس کی لاش کو  برہنہ کردیتے تھے، مگر حضرت علی علیہ السّلام نے اس کی زرہ نہیں اُتاری جبکہ  وہ بہت قیمتی تھی . چناچہ جب عمرو  کی بہن اپنے بھائی کی لاش پر ائی تو اس نے کہا اگر علی کے علاوہ کسی اور نے میرے بھائی کوقتل کیا ہوتا تو میں عمر بھر روتی، مگر مجھے یہ دیکھ کر صبر آ گیا کہ اس کا قاتل شریف انسان ہے جس نے آپنے دشمن کی لاش کی توہین گوارا نہیں کی۔  آپ نے کبھی دشمن کی عورتوں یا بچّوں پر ہاتھ نہیں اٹھایا اور  نہ کبھی مالِ غنیمت کی طرف رخ کیا .

 

غدیر خم

 پیغمبر اکرم (ص) آپنی پر برکت زندگی کے آخری سال  میں حج کا فریضہ انجام دینے کے بعد مکہ سےمدینے کی طرف  پلٹ رہے تھے، جس وقت آپ کا قافلہ جحفه کے نزدیک غدیر خم نامی مقام پر  پہنچا  تو جبرئیل امین  یہ آیہ بلغ لیکرنازل ہوئے، پیغمبر اسلام (ص)نے قافلےکو ٹھرنے کا حکم دیا ۔

نماز ظھر کے بعد پیغمبر اکرم (ص) اونٹوں کے کجاوں سے بنے منبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا :

” ایھا الناس !  وہ وقت قریب ھے که میں دعوت حق پر لبیک کہتے ھوئے تمھارے درمیان سے چلا جاؤں ،لہذا بتاو کہ میرے بارے میں تمہاری  کیا رائے ہے؟ “

سب نے  کہا :” ھم گواھی دیتے ھیں آپ نے الٰھی آئین و قوانین کی  بہترین طریقے سے تبلیغ کی ھے “ رسول الله (ص) نے فرمایا ” کیا تم گواھی دیتے ہو  کہ خدائے واحد کے علاوہ کوئی دوسرا خدا نھیں ھے اور محمد خدا کا بندہ اور اس کا رسول ھے “۔

پھر فرمایا: ” ایھا الناس ! مومنوں کے نزدیک خود ان سے بھتر اور سزا وار تر کون ھے ؟“۔

لوگوں نے جواب دیا :” خدا اور اس کا رسول بھتر جانتے ھیں “۔

پھر رسول الله (ص) نے حضرت علی (ع) کے ھاتھ کو پکڑ کر بلند کیا اور فرمایا

:” ایھا الناس !  من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ۔ جس جس کا میں مولا ہوں اس کے یہ علی مولا ہیں“ ۔

رسول الله (ص) نے اس جملے کی تین مرتبہ تکرار کی ۔

اس کے بعد لوگوں نے حضرت علی (ع) کواس منصب ولایت کے لئے  مبارک باد دی اور آپ (ع) کے ھاتھوں پر بیعت کی ۔

 

حضرت علی علیہ السلام، پیغمبر اسلام (ص) کی نظر میں

علی علیہ السّلام کے امتیازی صفات اور خدمات کی بنا پر رسول ان کی بہت عزت کرتے تھے او آپنے قول اور فعل سے ان کی خوبیوں کو ظاہر کرتے رہتے تھے کبھی یہ کہتے تھے کہ »علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں« .کبھی یہ کہا کہ »میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے . کبھی یہ کہا »آپ سب میں بہترین فیصلہ کرنے والا علی ہے . کبھی یہ کہا»علی کومجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ علیہ السّلام سے تھی . کبھی یہ کہا»علی مجھ سے وہ تعلق رکھتے ہیں جو روح کو جسم سے یا سر کو بدن سے ہوتا ہے .,,

  کبھی یہ کہ»وہ خدا اور رسول کے سب سے زیادہ محبوب ہیں ,, یہاں تک کہ مباہلہ کے واقعہ میں علی علیہ السّلام کو نفسِ رسول کاخطاب ملا. عملی اعزاز یہ تھا کہ جب  مسجد کے صحن میں کھلنے والے، سب کے دروازے بند ہوئے تو علی کا دروازہ کھلا رکھا گیا . جب مہاجرین وانصار میں بھائی کا رشتہ قائم کیا گیا تو علی علیہ السّلام کو پیغمبر نے آپنا بھائی قرار دیا۔ اور سب سے آخر میں غدیر خم کے میدان میں مسلمانوں کے مجمع میں علی علیہ السّلام کو اپنے ہاتھوں پر بلند کرکے یہ اعلان فرما دیا کہ جس طرح میں تم سب کا حاکم  اور سرپرست ہوں اسی طرح علی علیہ السّلام، تم سب کے  سرپرست اور حاکم ہیں۔ یہ اتنا بڑا اعزاز ہے کہ تمام مسلمانوں نے علی علیہ السّلام کو مبارک باد دی اور سب نے سمجھ لیا کہ پیغمبر نے علی علیہ السّلام کی ولی عہدی اور جانشینی کااعلان کردیا ہے .

 

رسول اللہ (ص)کی وفات اور حضرت علی علیہ السلام

ہجرت کا دسواں سال تھا کہ پیغمبر خدا (ص)ایک ایسے  مرض میں مبتلا ہوئے، جو ان کے لئے مرض الموت ثابت ہوا۔ یہ خاندان ُ رسول کے لئے بڑی مصیبت کاوقت تھا۔ حضرت  علی علیہ السّلام رسول کی بیماری میں آپ کے پاس موجود رہ کر تیمارداری کا فریضہ انجام دے رہے تھے۔ اور رسول اللہ (ص) بھی آپنے پاس سے ایک لمحہ کے لئے بھی حضرت علی علیہ السّلام کا جدا ہونا گوارا نہیں کرتے تھے . پیغمبر اسلام (ص) نے علی علیہ السّلام کو آپنے پاس بلایا اور سینے سے لگا کر بہت دیر تک باتیں کرتے رہے اور ضروری وصیتیں فرمائیں . اس گفتگو کے بعد بھی حضرت  علی علیہ السّلام کو آپنے سے جدا نہ ہونے دیا اور ان کا ہاتھ اپنے سینے پر رکھ لیا. جس وقت رسول اللہ (ص) کی روح جسم سے جدا ہوئی، اس وقت بھی حضرت علی علیہ السّلام کا ہاتھ رسول کے سینے پر رکھا ہوا تھا۔

  جس نے زندگی بھر پیغمبر کا ساتھ دیا ہو،  وہ بعد رسول ان کی لاش کو کس طرح چھوڑ سکتا تھا، لہذا رسول کی تجہیز وتکفین اور غسل کا تمام  کام علی علیہ السّلام نےاپنے  ہاتھوں سے انجام دیا اور رسول اللہ (ص)کو اپنے ھاتھوں سے  قبر میں  رکھ کر دفن کر دیا۔

 

حضرت علی علیہ السلام کی ظاهری خلافت

رسول اللہ (ص) کے بعد حضرت  علی علیہ السّلام نے پچیس برس خانہ نشینی میں بسر کئے۔ جب سن  ۳۵ ھجری قمری میں مسلمانوں نے خلافت ُ اسلامی کا منصب حضرت علی علیہ السّلام کے سامنے پیش کیا تو  پہلےتو آپ نے انکار کر دیا، لیکن جب مسلمانوں کا اصرار بہت بڑھا تو آپ نے اس شرط سے منظورکرلیا کہ میں قرآن اور سنت ُ پیغمبر(ص) کے مطابق حکومت کروں گا اور کسی رعایت سے کام نہ لوں گا۔ جب مسلمانوں نے اس شرط کو منظور کر لیا  تو آپ نے خلافت کی ذمہ داری قبول کی- مگر زمانہ آپ کی خالص دینی حکومت کو برداشت نہ کرسکا، لہذا بنی امیہ اور بہت سے وہ لوگ، جنھیں آپ کی دینی حکومت کی وجہ سے آپنے اقتدار کے ختم ہوجانے کا خطرہ محسوس ہو گیا  تھا، وہ آپ کے خلاف  کھڑے ہوگئے۔ آپ نے ان سب سے مقابلہ کرنا اپنا فرض سمجھا،جس کے نتیجے میں جمل، صفین، اور نہروان کی جنگیں ہوئیں . ان جنگوں میں حضرت علی بن ابی طالب علیہما السّلام نے اس شجاعت اور بہادری سے جنگ کی جو بدر، احد، خندق، وخیبرمیں کسی وقت دیکھی جاچکی تھی اور زمانہ کو یاد تھی .ان جنگوں کی وجہ سے آپ کو اتنا موقع نہ مل سکا کہ آپ اس طرح اصلاح فرماتے جیسا کہ آپ کا  دل چاہتا تھا . پھر بھی آپ نے اس مختصرسی مدّت میں، سادہ اسلامی زندگی،  مساوات اور نیک کمائی کے لیے محنت ومزدوری کی تعلیم کے نقش تازہ کردیئے۔ آپ شہنشاہ ُ اسلام ہونے کے باوجود کجھوروں کی دکان پر بیٹھنا اور آپنے ہاتھ سے کھجوریں بیچنا بُرا نہیں سمجھتے تھے۔ پیوند لگے ہوئے کپڑے پہنتے تھے، غریبوں کے ساتھ زمین پر بیٹھ کر کھانا کھا لیتے تھے . جو مال بیت المال میں آتا تھا اسے تمام حقداروں کے  درمیان برابر تقسیم کردیتے تھے ۔ یہاں تک کہ آپ کے سگے بھائی عقیل نےجب  یہ چاہا کہ انہیں، دوسرے مسلمانوں سے کچھ زیادہ مل جائے،تو  آپ نے انکار کردیا اور فرمایا کہ اگر میرا ذاتی مال ہوتا تو یہ ممکن تھا، مگر یہ تمام مسلمانوں کا مال ہے ، لہذا مجھے حق نہیں ہے کہ میں اس میں سے اپنے کسی عزیز کو دوسروں سے زیادہ حصہ دوں۔ انتہا یہ  ہے کہ اگرآپ کبھی رات کے وقت بیت المال میں حساب وکتاب میں مصروف ہوتے اور کوئی ملاقات کے لیے آجاتا اور غیر متعلق باتیں کرنے لگتا تو آپ چراغ کو  بھجا دیا کرتے تھے اور کہتے تھے  کہ بیت المال کے چراغ کو میرے ذاتی کام میں صرف نہیں ہونا چاہئے . آپ کی کوشش یہ رہتی تھی کہ جو کچھ بیت المال میں آئے وہ جلد سے جلد حق داروں تک پہنچ جائے . آپ اسلامی خزانے میں مال کو جمع کرنا پسند نہیں کرتے تھے۔

 

حضرت علی علیہ السلام کی شہادت

جنگ نھروان کے بعد خوارج میں سے کچھ لوگ جیسے عبد الرحمن بن ملجم مرادی ، ومبرک بن عبد الله تمیمی اور عمر و بن بکر تمیمی ایک رات میں ایک جگہ جمع ہوئےاور نھروان میں مارے گئے اپنےساتھیوں کو یاد کرتے ہوئے ان دنوں کے حالات اور داخلی جنگوں کے بارے میں تبادلہ خیال کرنےلگے۔ بالآخر وہ اس نتیجہ پر پھونچے که اس قتل و غارت کی وجہ حضرت علی (ع) معاویہ اورعمرو عاص ھیں اور اگر ان تینوں افراد کو قتل کر دیا جائے تو مسلمان اپنے مسائل کوخود حل کر لیں گے۔ لھذا انھوں نے آپس میں طےکیا کہ ھم میں سے ھر ایک آدمی ان میں سے ایک ایک کو قتل کرے گا ۔

ابن ملجم نے حضرت علی (ع) کے قتل کا عھد کیا اور سن۴۰ ہجری قمری میں انیسویں رمضان المبارک کی شب کو کچھ لوگوں کے ساتھ مسجد کوفہ  میں آ کر بیٹھ گیا ۔ اس شب حضرت علی (ع) اپنی بیٹی کے گھر مھمان تھے اور صبح کو  واقع ھونے والے حادثہ سے با خبر تھے۔ لھذا جب اس مسئلہ کو اپنی بیٹی کے سامنے بیان کیا تو ام کلثوم نے کہا کہ کل صبح آپ ۔۔۔کو مسجد میں بھیج دیجئے ۔

حضرت علی (ع) نے فرمایا : قضائے الٰھی سے فرار نھیں کیا جا سکتا۔ پھر آپنے کمر کے پٹکے کو کس کر باندھا اور  مسجد کی طرف روانہ ھوگئے ۔

حضرت علی (ع) سجده میں تھے کہ ابن ملجم نے آپ کے فرق مبارک پر تلوار کا وار کیا۔ آپ کے سر سے خون جاری ھوا آپ کی داڑھی اور محراب خون سے رنگین ہو گئ۔ اس حالت میں حضرت علی (ع) نے فرمایا : ” فزت و رب الکعبه “ کعبہ کے رب کی قسم میں کامیاب ھو گیا۔ پھر سوره طہ کی اس آیت کی تلاوت فرمائی :

”ھم نے تم کو خاک سے پیدا کیا ھے اور اسی خاک میں واپس پلٹا دیں گے اور پھر اسی خاک تمھیں دوباره اٹھائیں گے “۔

حضرت علی (ع) اپنی زندگی کے آخری لمحات میں بھی لوگوں کی اصلاح و سعادت کی طرف متوجہ تھے۔ انہوں نے اپنے بیٹوں، عزیزوں اور تمام مسلمانوں سے اس طرح وصیت فرمائی :

” میں تمہیں پرھیز گاری کی وصیت کرتا ھوں اور وصیت کرتا ھوں کہ تم اپنے تمام امور کو منظم کرو اور ھمیشه مسلمانوں کے درمیان اصلاح کی فکر کرتے رھو ۔ یتیموں کو فراموش نہ کرو ۔ پڑوسیوں کے حقوق کی رعایت کرو ۔ قرآن کو اپنا عملی نصاب قرار دو ،نماز کی بہت زیادہ قدر کرو، کیوں  کہ یہ تمھارے دین کا ستون ھے “۔

آپ کے رحم وکرم اور مساوات پسندی کا عالم یہ تھا کہ جب آپ کے قاتل کو گرفتار کرکے آپ کے سامنے لا یا گیا، اورآپ نے دیکھا کہ اس کاچہرہ زرد ہے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہیں، تو آپ کو اس پر بھی رحم آ گیا۔ آپنے اپنے  دونوں بیٹوں امام حسن علیہ السّلام وامام حسین علیہ السّلام کو ہدایت فرمائی کہ یہ  ہمارا قیدی ہے اس کے ساتھ کوئی سختی نہ کرنا، جو کچھ خود کھانا وہ اسے کھلانا،  اگر میں صحتیاب ہو گیا تو مجھے اختیار ہے کہ چاہے اسے سزا دوں یا معاف کردوں اور اگر میں دنیا میں نہ رہا اور آپ نے اس سے انتقام لینا چاہا تو اسے ایک ہی ضربت لگانا کیونکہ اس نے مجھے ایک ہی ضربت لگائی ہے ۔ اور ہرگز اس کے ہاتھ پاؤں وغیرہ قطع نہ کرنا کیوں کہ یہ اسلامی  تعلیم کے خلاف ہے۔

حضرت  علی علیہ السّلام دو روز تک بستر بیماری پر کرب و بیچینی  کے ساتھ کروٹیں بدلتے رہے۔ آخر کار زہر کا اثر جسم میں پھیل گیا اور ۲۱رمضان کو نمازِ صبح کے وقت آپ کی روح جسم سے پرواز کر گئ . حضرت امام حسن و امام حسین علیہما السّلام نے تجہیز و تکفین کے بعد آپ کے جسم اطہر کو نجف میں دفن کر دیا۔