• مرحوم آیت اللہ اراکیؒ اور انکی کتاب‘‘اصول الفقہ’’کا تعارف
    • مرحوم آیت اللہ اراکی بھت بڑے عارف اور تقوی کے مجسم پیکر تھے،اگر یہ کھا جائے کے ھم نے اپنی زندگی میں اُن کی مانند آداب اسلامی سے آراستہ شخصیت کو نھیں دیکھا تو غلو نھیں ،آپ اخلاق میں مرحوم آیت اللہ میرزا جواد ملکی تبریزی کے شاگرد تھے اور اپنے استاد کی مکمل جھلک دکھائی دیتے تھے۔
    • سیرت حضرت فاطمہ بنت اسد(سلام اللہ علیھا)
    • م لوگوں نے دیکھا کہ اچانک خانہ کعبہ کی پشت کی دیوار شق ہوئی اور فاطمہ بنت اسد ؑ کعبہ کے اندر داخل ہو گئیں ۔ پھر دیوارکعبہ آپس میں مل گئی ۔ہم لوگوں نے بڑی کوشش کی کہ خانہ کعبہ کا تالا کھول کر اندرداخل ہوجائیں، لیکن تالا نہ کھلا ۔ تالا نہ کھلنے کی وجہ سے ہم لوگوں پر یہ بات ظاہر ہوگئی کہ یہ خدا وند عالم کا معجزہ ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں۔ جناب فاطمہ بنت اسد ؑ چوتھے روز علیؑ کو آغوش میں لیے ہوئے برآمد ہوئیں ۔
    • شہادت اور محرم
    • شہادت، ہلاکت اور نابودی نہیں ہے بلکہ جاودانی زندگی، دنیاوی اور اخروی سعادت اور ابدی حیات ہے نیز مادی حصار کو توڑ کر روحانی باغات اور معنوی عالیشان قصروں کی سیر کرنا اور قرب الہی کی لذتوں سے مالامال ہونا ہے۔
    • حضرت زینب(س) صبر و استقامت کا نمونہ ہیں
    • سماجی: ایران کے صوبہ زنجان کے محکمہ اوقاف کے سرپرست نے پیغام عاشورا کو منتقل کرنے میں حضرت زینب(س) کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا آپ صبر و استقامت کا نمونہ ہیں۔
    • توکل کے بعد سب سے اعلیٰ مقام صبر و رضا کا ہے
    • شبستان نیوز : شکرگزاری بندگی کے خاص اوصاف میں سے ہے کہ جس تک امام حسین علیہ السلام پہنچے۔ امام حسین علیہ السلام نے اسی بات پر خدا کا شکر ادا کیا کہ جس مرتبے پر اس نے انہیں فائز کیا ہے اور وہ اس قابل ہوئے کہ انسانیت کی بلند ترین چوٹی پر پہنچ سکیں اور پوری بنی نوع انسانیت کے لیے نمونہ بن سکیں۔
    • زینب کبریٰ (س) نے عورت کے حجاب کو مجاہدانہ عزت عطا کی
    • شبستان نیوز : کربلا کا واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ عورت کا تاریخ میں ثانوی کردار نہیں ہے۔ بلکہ اہم تاریخی واقعات میں عورت ایک اہم کردار کی حامل رہی ہے۔ حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے عورت کی عفت و حجاب کو ایک مجاہدانہ زندگی میں تبدیل کر کے رکھ دیا اور سکھایا کہ عورت عظیم جہاد کر سکتی ہے۔
    • عزاداری فقط جذباتی ہی نہ ہو
    • شبستان نیوز : حجت الاسلام رضا محمدی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ عزاداری امام حسین علیہ السلام کو صرف جذباتی طور پر نہیں منانا چاہیے بلکہ اس سے معرفت خدا وندی بھی حاصل کرنی چاہیے۔
    • امام حسین(ع) نے لوگوں کی نجات کے لئے قیام کیا
    • سماجی: ایران کے نامور خطیب اور دینی علوم کے استاد حجت الاسلام سید حسین مومنی نے شہر آران و بیدگل میں عزاداران سید الشہداء(ع) کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا امام حسین(ع) نے لوگوں کو جہالت سے نجات دینے کیلئے قیام کیا۔
    • جعلى مہدى
    • امام مهدی اور انکا دنیا کو نجات دیني کي بارے میں بہت سی احادیث نقل ہوئی اور لوگوں نے تاریخ میں بہت سے افراد کو مہدی سمجھا جسکی تفصیل یہاں بتائی گئی ہے۔
    • کتاب : عاشورا؛ انقلابی در جان ها و وجدان ها
    • حسینؑ ابن علیؑ اور واقعہ عاشورا کے بارے میں لکھنا ایک انتہائی دشوار کام ہے۔ یہ حادثہ ایسا اندوہناک ہے کہ لکھنے والے کے ہاتھ اور دل کانپنے لگتے ہیں۔ لکھنے والا دیکھتا کے اس کے سامنے کس قدر وسیع اور پھیلا ہوا بےکراں اور ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہے
    • ولایت ،اطاعات اورعبادات کی قبولیت کی ضامن ہے
    • حوزہ علمیہ کےاستاد نے اطاعات اورعبادت کی قبولیت کو ولایت کے قبول کرنے کے مرہون منت بتاتے ہوئےکہا ہے کہ تولا اورتبرا دو اعتقادی اورعملی اصول ہیں کہ جنہیں انسان کے اعمال میں ظاہرہونا چاہیے۔
    • اہل بیت (ع) کی خدمت بادشاہت ہے
    • اہل بیت علیہم السلام کی خدمت اپنی بادشاہت ہے اوراہل بیت علیہم السلام پرکوئی احسان نہیں ہے۔ ہمیں اس درکی خدمت کرنے پرکسی چیز کا طالب نہیں ہونا چاہیے۔ جس چیز نے شیعہ کو چودہ سوسال تک زندہ رکھا ہے وہ سیدالشہداء علیہ السلام کی زیارت اوران پرگریہ ہے۔
    • محرم عزا اور ماتم اہل بیت(ع) کا مہینہ ہے
    • سماجی: ایران کے نامور شیعہ عالم دین اور علوم اسلامی کے استاد نے کہا آئمہ معصومین(ع) کو ماہ محرم کے پہلے عشرے میں ہنستا ہوا نہیں دیکھا گیا انہوں نے کہا ماہ محرم عزا اور ماتم اہل بیت(ع) کا مہینہ ہے۔
    • تفکر،اعلیٰ حیات تک پہنچنےکی حقیقت کا نام ہے
    • خبررساں ایجنسی شبستان: حوزہ ویونیورسٹی کے استاد نےاس مطلب کہ مومن انسان، تفکرمیں ڈوبا ہوا ہوتا ہے، کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تفکرانسان کوپست زندگی سے نجات دے کراسے اعلیٰ اوربہترین حیات کی ترغیب دلاتا ہے۔
    • ماہ محرم کے اعمال / سوانح حیات حضرت امام حسین (ع)
    • وہ صاحبان عز وشرف کہ جن کہ صدقے میں کائنات بنی ، جن کے طفیل میں اس عالم کو خلقت ہستی عطا ہوا ۔ جن کے سبب اس عدم کو وجود کی پوشاک ملی ۔ اگر اس پر کوئی مصیبت آئے ، اذیت پہونچے اور یہ عالم خاموش رہے تو احسان فراموشی ہے ۔
    • عقيدہ مہدويت كا آغاز
    • عقیدہ مہدویت کا آغاز صدر اسلام سے ہی ہو گیا تھا اور پیامبر اسلام ؐ سے اس موضوع پر بہت سی احادیث نقل کی گئی ہیں۔
    • دینی معاشرہ قرآن و سنت کی نظر میں
    • زیر نظر مضمون میں دینی معاشرےکی تشکیل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت وسنت پراختصار سے روشنی ڈالی گئی ہے اور یہ بیان کرنے کی سعی کی گئی ہےکہ آپ نے دینی معاشرے کو وجود میں لانے کےلئے کیا حکمت علی اپنائی تھی جس کا حکم خدانے آپ کو دیاتھا۔
    • ہندوستان میں ظھور اسلام
    • برصغیر میں اسلام کا آغاز عرب تاجروں سے ہوا ۔ ان تاجروں سے متاثر ہو کر پہلے ساحل مالابار کی ریاست کدنگانور کے حکمران راجہ سامری نے اور بعدمیں کالی کٹ کی بندرگاہ کے حکمران راجہ زمورن نے اسلام قبول کیا ۔ جب ان حکمرانوں نے اسلام قبول کیا تو ان ک
    • کیا امام زمانہ عج سے ملاقات ممکن ہے؟
    • امام مہدی سے ملاقات (عج) اور اس ملاقات کی حکایات بہت زیادہ اثرات کی حامل ہیں اور آنحضرت (عج) کی غیبت کے زمانے میں بہت زیادہ تاثیر رکھتی ہیں۔ یہ بات ایمان کی تقویت کا باعث اور عقیدہ مہدویت کی ترویج کا باعث ہے۔
    • منتظرین کومکمل طورپرآمادہ وتیار رہنا چاہیے
    • ہمیں اس وقت ایک حساس صورتحال کا سامنا ہے۔ ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیےکہ دشمن بیکار نہیں بیٹھے ہوئے ہیں بلکہ وہ ظہورکی راہ میں رکاوٹ ایجاد کرنے کےلیےمختلف قسم کے منصوبے بنارہے ہیں۔ اگرہم نے سستی، کمزوری اوراپنےاندراختلافات کا اظہارکیا تو وہ کامیاب ہوجائیں گے۔
    • مہدوی حکومت سے لوگوں کے ارتباط کی کیفیت
    • ایک دین ایسا آئےگا کہ لوگ اتنی پیاس محسوس کریں گے کہ پھروہ اپنے پورے وجود کے ساتھ امام مہدی علیہ السلام کی عالمی حکومت کو سمجھیں گے اوراسے انسان کے اعلٰی اہداف تک پہنچنے کا واحد ذریعہ سمجھیں گے اوراس سے والہانہ محبت کریں گے۔
    • مہدويت کا کيا مطلب ہے؟
    • حقيقت مہدويت کا خلاصہ، عالمی معاشروں کی حرکت کا واحد معاشرے اور عام سعادت، امن عامہ اور فلاح، تعاون، عام عالمی حکومت حق و عدل، باطل پر حق کے غلبے، جنود شيطان پر جنود اللہ کی فتح، مستضعفين کی نجات اور مرد عظيم کی امامت ميں مۆمنين کی حکومت کے قيام۔
    • قرآن اور مہدویت
    • اس مقدس كتاب ميں چند آيتيں ہيں جو اجمالى طور پر ايك ايسے دن كى بشارت ديتى ہيں كہ جس ميں حق پرست ، اللہ والے ، دين كے حامى اور نيك و شائستہ افراد زمين كے وارث ہوں گے اور دين اسلام تمام مذاہب پر غالب ہوگا _
    • تقلید کے بارے میں قرآن مجید کا کیا نظریہ ہے؟
    • اصطلاح میں تقلید دلیل کے بغیر کسی کی پیروی کرنا ہے۔ تقلید، من جملہ ان موضوعات میں سے ہے ، جن میں اچھے اور برے ہونے کی قابلیت پائی جاتی ہے اور شرائط کے مطابق کبھی اچھے اور کبھی برے شمار ہوتے ہیں۔ حقیقت میں تقلید ان لوگوں کے لئے ہے، جو کسی امر کے بارے میں ا
    • دین اور کمال انسان
    • نظام وجود، کمال خیریت کے اعلیٰ مرتبہ اور حسن وجمال کے اقصیٰ درجہ میں ہے۔۔۔ اور جو چیزیں بھی کمال وجمال اور خیریت کے سلسلہ کی ہیں وہ اصل حقیقت وجود سے خارج نہیں ہے کیونکہ اس کے علاوہ کسی دوسری چیز کیلئے کوئی تحقق ہی نہیں ہے
    • پیارے نبی ص کے اخلاق ( حصّہ ہفتم)
    • دشمنان اسلام سے پیغمبر اسلامۖ کا برتاؤ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سارے دشمنوں کو برابر نہیں سمجھتے تھے۔ یہ آپ کی زندگی کا ایک اہم پہلو ہے۔ بعض دشمن ایسے تھے
    • پیارے نبی ص کے اخلاق ( حصّہ ششم)
    • پیغمبر اسلامۖ کا سلوک آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عادل اور صاحب تدبیر تھے۔ جو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مدینے آنے کی تاریخ کا مطالعہ کرے
    • پیارے نبی ص کے اخلاق ( حصّہ پنجم)
    • پیغمبر اسلامۖ کی عوام دوستی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیشہ لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتے تھے۔ لوگوں کے درمیان ہمیشہ بشاش رہتے تھے۔ جب تنہا ہوتے تھے
    • پیارے نبی ص کے اخلاق ( حصّہ چہارم)
    • پیغمبر اسلام ۖ کی پاکیزگی پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بچپن سے ہی بہت نفاست پسند انسان تھے۔ مکہ اور عرب قبائل کے بچوں کے برخلاف، آپ ہمیشہ صاف ستھرے اور پاک و پاکیزہ رہتے تھے
    • پیارے نبی ص کے اخلاق ( حصّہ سوّم)
    • پیغمبر اکرمۖ کی بردباری زمانہ جاہلیت میں مکہ والوں کے درمیان بہت سے معاہدے تھے۔ ان کے علاوہ ایک معاہدہ، معاہدہ حلف الفضول کے نام سے بھی تھا
    • دین اسلام اور حقیقی خوشی
    • دین اسلام نے نہ صرف خوش رہنے کے لئے منع نہیں کیا بلکہ آیات اور روایات میں زندگی کو خوشی کے ساتھ گزارنے کی بہت زیادہ تأکید کی گئی ہے۔
    • پیارے نبی ص کے اخلاق ( حصّہ دوّم)
    • پیغمبر اسلامۖ کی بردباری آپ کے اندر تحمل اور بردباری اتنی زیادہ تھی کہ جن باتوں کو سن کے دوسرے بیتاب ہوجاتے تھے، ان باتوں سے آپ کے اندر بیتابی نہیں پیدا ہوتی تھی